Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

انڈرورلڈ ڈان چھوٹا راجن کو بڑا دھچکا، قریبی ساتھی ابوساونت کو سنگاپور سے ہندوستان کیا گیا ڈی پورٹ

Published

on

Abu Sawant

ممبئی: ہندوستان کی ایجنسیوں کو بیرون ملک ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ سنتوش ساونت عرف ابو ساونت، جو انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کے بہت ہی قریبی ساتھی اور فنانس ہینڈلر ہیں، کو سنگاپور سے ڈی پورٹ کر کے ہندوستان لایا گیا ہے۔ مرکزی ایجنسیوں اور ممبئی کرائم برانچ کی مشترکہ کارروائی کے بعد اسے سنگاپور سے ڈی پورٹ کیا گیا اور دہلی لایا گیا۔ سی بی آئی نے ابو ساونت کو دہلی سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے چھوٹا راجن کا یہ رکن مفرور تھا۔ اس کے خلاف مکوکا سمیت کئی دیگر مقدمات درج ہیں۔

سن 2000 میں سنتوش عرف ابو ساونت کی حوالگی کے حوالے سے سنگاپور سے کاغذی کارروائی شروع ہوئی۔ ابو ساونت کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی ایجنسیوں کی طرف سے دو دہائیوں سے زیادہ کی محنت کے بعد اسے ملک منتقل کیا جا سکا۔ سنگاپور میں رہتے ہوئے ابو ساونت ہوٹل کے کاروبار کی آڑ میں انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کے لیے کام کرتا تھا۔ ممبئی کرائم برانچ کے ساتھ ساتھ سی بی آئی نے بھی ان کے خلاف کئی کیس درج کیے ہیں۔ چھوٹا راجن گینگ میں گینگسٹر ڈی کے راؤ کے بعد سنتوش ساونت نمبر 2 تھا۔

سال 2000 میں جب چھوٹا راجن پر حملہ ہوا تو اس کے بعد ان کے قریبی دوست روی پجاری، ہیمنت پجاری، بنٹی پانڈے، سنتوش اور وجے شیٹی، اعجاز لکڈاوالا نے بھی اسے چھوڑ دیا۔ لیکن سنتوش ساونت، جو انڈرورلڈ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہاتھا۔ ڈی کے راؤ اور چھوٹا راجن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہا اور جلد ہی ان کا قریبی دوست بن گیا۔ ڈی کے راؤ کے پاس گینگ کو سنبھالنے کا کام تھا جب کہ چھوٹا راجن نے ابو ساونت کو اپنے اور گینگ کے کالے دھن پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

سنتوش ساونت کے والد پیشے کے اعتبار سے رئیل اسٹیٹ بزنس مین تھے۔ ایسے میں اسے پراپرٹی ڈیلنگ اور فینانس کی اچھی سمجھ تھی۔ اس نے چھوٹا راجن کی کمپنی کی پراپرٹی ڈیلنگ اور فینانس ہینڈلنگ کا کام مکمل طور پر سنبھال لیا تھا۔ اسے بنیادی طور پر ڈرانے دھمکانے اور بھتہ خوری جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ ممبئی سمیت پورے ملک میں ٹارگٹ طے کرنا، ان سے رابطہ کرکے دھمکیاں دینا اور پروٹیکشن منی کے نام پر پیسے بٹورنا، یہ سب کام صرف ساونت کے ذمہ تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان