(جنرل (عام
ہم جنس پرستوں کی شادی کا کپل سبل نے کی مخالفت، سپریم کورٹ سے پوچھا- شادی ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا؟
ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور عرضی گزاروں کے درمیان گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ایس رویندر بھٹ، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل آئینی بنچ کے سامنے اس کیس کی سماعت پر مرکز نے اعتراض کیا۔ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس معاملے کو مقننہ سے جڑا بتاتے ہوئے دہرایا کہ اس میں عدلیہ کا دائرہ اختیار محدود ہے۔
ایس جی تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے کہا، ‘سوال یہ ہے کہ کیا عدالت خود اس معاملے پر فیصلہ کر سکتی ہے؟ یہ عرضیاں قابل سماعت نہیں ہیں۔ مرکز کو پہلے سنا جانا چاہئے، کیونکہ وہ عدالت کے سامنے 20 عرضیوں کو قابل سماعت ہونے کی مخالفت کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ پارلیمنٹ مناسب فورم ہے۔’
اس پر سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ‘میں انچارج ہوں، میں فیصلہ کروں گا۔ میں کسی کو یہ بتانے نہیں دوں گا کہ اس عدالت کی کارروائی کیسے چلنی چاہیے۔ آپ جو مانگ رہے ہیں وہ صرف سماعت ملتوی کرنے کا ہے۔’
سی جے آئی کے اس تبصرے پر ایس جی مہتا نے کہا کہ ‘پھر سوچیں کہ حکومت کو اس سماعت میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں؟’ اس پر جسٹس ایس کے کول نے کہا کہ یہ حکومت کو کہنا ہے کہ وہ سماعت میں حصہ لے گی یا نہیں۔ اچھا نہیں لگتا. یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ اس بحث کے سپریم کورٹ میں ہم جنس شادی کو تسلیم کرنے کو لیکر دائر عرضیوں پر سماعت شروع ہوئی۔ اس دوران عرضی گزاروں اور حکومت کی جانب سے کئی دلائل دیے گئے۔
پڑھیں کس نے کیا دلائل دیے…
ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی تسلیم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کپل سبل نے سپریم کورٹ میں سوال کیا کہ اگر ہم جنس پرستوں کی شادی ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا؟ جس بچے کو گود لیا گیا ہے اس کا کیا ہوگا؟ اس صورت میں اس بچے کا والد کون ہوگا؟
روہتگی کے دلائل پر سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ہم آپ سے متفق ہیں، لیکن جب مقننہ بھی اس پر غور کر رہی ہو تو کیا ہم مداخلت کر سکتے ہیں؟ تو روہتگی نے کہا، ‘عدالتیں ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتی ہیں۔ یہ ہمارا بنیادی حق ہے اور ہم صرف اس ڈیکلریشن کی مانگ کر رہے ہیں جو ہمیں عدالت دے سکتا ہے۔’
سی جے آئی نے کہا کہ ہمارا معاشرہ ہم جنس پرست تعلقات کو قبول کر چکا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں حالات بدل گئے ہیں۔ ہم اس سے آگاہ ہیں۔ اب اسے ہمارے معاشرے میں، ہماری یونیورسٹیوں میں زیادہ پذیرائی مل گئی ہے۔ یہ ہماری یونیورسٹیوں میں صرف شہری بچے نہیں ہیں، وہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
سماعت کے دوران جج کول نے مکل روہتگی سے پوچھا کہ آپ کے دلائل درست ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب مقننہ بھی اس پر غور کر رہی ہو تو کیا ہم مداخلت کر سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہاں عدالتیں ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتی ہیں۔ اس کے بعد جسٹس کول نے پوچھا کہ کیا ہم اس طرح اعلان کر سکتے ہیں؟ تو روہتگی نے جواب دیا، ‘ہماری زندگی منقطع ہو رہی ہے، ہم پوری زندگی مقننہ کا انتظار نہیں کر سکتے، ہمیں اس اعلان کی ضرورت ہے۔’
اس سے پہلے عرضی گزاروں کی طرف سے دلیل دے رہے مکل روہتگی نے کہا کہ اس میں آرہی قانونی رکاوٹوں کے پیش نظر قانون میں شوہر اور بیوی کے بجائے لفظ لائف پارٹنر یعنی جیون ساتھی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئین کی تمہید اور آرٹیکل 14 کے مطابق برابری کے حق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے درگیش مشرا اور انوج گرگ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے روہتگی نے اپنی دلیل کو آگے بڑھائی ہے۔
عرضی گزاروں کا رخ لیتے ہوئے سماعت کے دوران مکل روہتگی نے کہا کہ ہمیں مساوات کے حق کے تحت شادی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جنسی رجحان صرف مردوں اور عورتوں کے درمیان نہیں بلکہ ایک ہی جنس کے درمیان بھی ہے۔ ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 377 کو ہٹا کر ہم جنس پرستی کو جرم سے باہر کر دیا۔ لیکن باہر کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ نالسا اور نوتیج جوہر کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ مکل روہتگی نے اپنی دلیل 377 کو جرم کے دائرے سے باہر کیے جانے کے معاملے سے شروع کی۔ باوقار زندگی گزارنے، پرائیویسی کے احترام اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کے لیے دلیلیں دی گئیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
