Connect with us
Monday,24-August-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

بریکنگ نیوز: شرڈی جا رہی بس کا ناسک میں خوفناک حادثے کا شکار، 10 مسافر ہلاک، 40 زخمی

Published

on

Accident

ناسک بس ٹرک حادثہ: مہاراشٹر کے ناسک میں جمعہ کی صبح ایک بڑا سڑک حادثہ پیش آیا۔ ناسک-سنار روڈ پر ایک پرائیویٹ لگژری بس ٹرک سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بس میں سوار تمام مسافر سائی بابا کے درشن کے لیے شرڈی جا رہے تھے۔

جاں بحق ہونے والوں میں 7 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ زخمیوں کو سنار دیہی اسپتال اور یشونت اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جن میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق بس میں سوار مسافر تھانے ضلع کے امبرناتھ کے رہنے والے تھے اور سائی بابا کے درشن کے لیے شرڈی جارہے تھے۔

حکام نے بتایا کہ یہ حادثہ ممبئی سے تقریباً 180 کلومیٹر دور ناسک کی سنار تحصیل میں پاٹھارے شیور کے قریب صبح سات بجے پیش آیا۔ موقع پر موجود لوگوں کے مطابق ٹکر اتنی زوردار تھی کہ بس اور ٹرک دونوں کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا تحقیقات جاری ہیں۔ اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ، کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کے ڈِنگاڈ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم، غیر سبزی خور کھانا کھانے کے معاملے پر تنازع، 6 افراد زخمی

Published

on

Mumbai Police.2

بھیونڈی : بھیونڈی کے ڈِنگاڈ علاقے میں نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان مبینہ طور پر غیر سبزی خور کھانا لانے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ ہوئی۔ واقعے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ معلومات کے مطابق ڈِنگاڈ پہاڑی کے علاقے میں کسی بات کو لے کر نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان بحث شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنازع غیر سبزی خور کھانا کھانے یا وہاں لانے پر اعتراض کے بعد بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے مارپیٹ شروع ہوگئی۔

واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کے لیے بھیونڈی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم اسپتال میں بھی دونوں گروپوں کے افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی تعیناتی کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کے اصل اسباب، ملوث افراد اور مارپیٹ کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو تشدد کی شکل دینے کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر کے ٹرانسپورٹ وزیر پرتاپ سارنائک ایپ پر مبنی بائیک ٹیکسی خدمات کی اجازت دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں : سنجے راوت

Published

on

Sanjay-Partap

ممبئی : شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سارنائک کو ایک خط لکھا ہے۔ انہوں نے وزیر ٹرانسپورٹ سے اپیل کی کہ ریپیڈو، اولا اور اوبر کی وجہ سے ریاست میں ہزاروں مراٹھی نوجوانوں کو ان کی روزی روٹی سے محروم کرنا ناانصافی ہے۔ خط میں سنجے راوت نے لکھا، “جناب، کچھ ریاستی وزراء کے ریپیڈو کے ساتھ مالی اور کاروباری تعلقات ہیں، ریپیڈو نے کچھ وزراء کے لیے دہی ہانڈی، گنیشوتسو اور ثقافتی تقریبات کو سپانسر کیا، کروڑوں روپے کا عطیہ دیا، اس نے کچھ وزراء کو انتخابی فنڈز بھی فراہم کیے، اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ان کے نام کو پلک شاو میں پھنسا کر احسان چکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔” سنجے راوت نے مزید لکھا کہ جب مہاراشٹر کے موجودہ نائب وزیر اعلیٰ رکشہ ڈرائیور ہیں تو اس ریاست میں رکشہ چلانے والوں کی روزی روٹی سے محروم کرنا ناانصافی ہے۔ میں اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے رکشہ چلک سنگھرش سمیتی کے ایک وفد کے ساتھ آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم ایک مناسب وقت اور جگہ فراہم کریں۔” براہ کرم مجھے نوٹس کریں۔

سنجے راوت نے کہا کہ 16 اگست کو ناسک کے دورے کے دوران 100 سے زیادہ مراٹھی نوجوانوں نے ان سے ملاقات کی اور اپنی روزی روٹی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کے ریپیڈو، اولا اور اوبر کے ذریعے بائیک ٹیکسی خدمات کی اجازت دینے کے فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے موجودہ آٹو رکشہ آپریٹرز پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ راؤت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آٹو رکشہ ڈرائیوروں میں مجوزہ بائیک ٹیکسی خدمات کو لے کر کافی ناراضگی پائی جاتی ہے، اور یہ کہ ان کی تنظیمیں اس مسئلے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آٹو رکشہ ڈرائیوروں نے 10 اگست کو ناسک سے وزارت تک مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ ان کی تشویش کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے، لیکن راوت کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا رکشہ ڈرائیوروں کو جمہوری طریقوں سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنے سے روکا جانا چاہئے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرے۔

حال ہی میں سنجے راوت نے مرکزی حکومت پر مہاراشٹر کے کوآپریٹو سیکٹر کے ساتھ ناانصافی کا الزام لگایا تھا۔ 20 اگست کو، سنجے راوت نے مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون امیت شاہ کو خط لکھ کر نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری اور ممبئی میں نیشنل اربن کوآپریٹو فائنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این یو سی ایف ڈی سی) کے دفتر کے افتتاح پر تشویش کا اظہار کیا۔ خط کی ایک کاپی وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور نیشنل کوآپریٹیو یونین کے چیئرمین شرد پوار کو بھی بھیجی گئی۔ راؤت نے شہری کوآپریٹو بینکنگ اثاثوں سے متعلق وزارت کے حالیہ فیصلوں پر اپنے کلیدی اعتراضات کا خاکہ پیش کیا۔ راوت نے کہا کہ اس نے جان بوجھ کر خط مراٹھی میں لکھا تاکہ عوام ان کے الفاظ میں سمجھ سکے کہ مہاراشٹر کے اربن کوآپریٹو بینکنگ سیکٹر کے ساتھ کس طرح “ناانصافی” کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بل عجلت میں منظور کیا گیا اور این یو سی ایف ڈی سی کے ذریعے مہاراشٹرا اور گوا کے سرکردہ شہری کوآپریٹو بینک کے اثاثوں کو اس کے اراکین کی رضامندی کے بغیر ضبط کر لیا گیا۔ انہوں نے اسے مہاراشٹر کی کوآپریٹو تحریک پر براہ راست حملہ قرار دیا۔

راوت نے اب سرنائک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظر ثانی کریں اور ریاست میں بائیک ٹیکسی خدمات کو بڑھانے سے پہلے آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے خدشات کو دور کریں۔ 2025 میں، مہاراشٹر نے ریاست میں غیر قانونی بائیک ٹیکسی خدمات کے خلاف سخت کارروائی کی۔ وزیر سارنائک نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی طور پر گاڑیوں کو چلانے کے لیے مناسب اجازت نامے کی ضرورت ہے۔ اس مہم کے تحت 138 مقامات پر چھاپے مار کر ایک واردات میں 72 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور آر ٹی او اور پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کی گئی۔ خاص طور پر، موٹر وہیکل ایکٹ، 1988 کے سیکشن 93 کے تحت، کسی بھی مسافر ٹرانسپورٹ سروس کو چلانے کے لیے ایک درست اجازت نامہ ضروری ہے۔ تاہم، یہ پایا گیا کہ کچھ ایپ پر مبنی کمپنیاں اور ڈرائیور کھلے عام ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور غیر قانونی نقل و حمل کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گنپتی مورتی بے حرمتی کیس میں ایف آئی آر درج، مجگاؤں میں حالات قابو میں، ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے نشانے پر

Published

on

FIR

ممبئی کے مجگائوں علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب اونچی عمارت ٹاور سے گنپتی کے جلوس پر انڈے پھینکنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے جلوس گنپتی دوبارہ شروع کروایا۔ تفصیلات کے مطابق گنپتی جلوس مجگائوں علاقہ سے گزر رہا تھا کہ کسی نامعلوم شرپسند سماج دشمن عناصر نے گنپتی کی مورتی پر انڈے پھینک کر بے حرمتی کی کوشش کی جس کے بعد ہندو تنظیموں نے سڑک روک کر سراپا احتجاج شروع کر دیا۔ جائے وقوع پر پہنچ کر ڈی سی پی جینت مینا نے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تو اسی دوران انہیں بھی مجمع نے گھیر لیا لیکن اس کے باوجودڈی سی پی نے حوصلہ سے کام لیتے ہوئے حالات کو کنٹرول کر تے ہوئے امن قائم کیا, لیکن اب یہی ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے ہٹ لسٹ پر آگئے ہیں انہیں ہندو تنظیموں کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہندو تنظیموں کو انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔

گنپتی کی مورتی کی بے حرمتی کے معاملے میں پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا بی این ایس کی دفعہ 299,196 کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت ہوچکی ہے, پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی شناخت کی ہے۔ فی الوقت کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔ پولیس مجگائوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ممبئی شہر میں فرقہ وارانہ تشدد برپا کرنے کی سازش بھی فرقہ پرستوں کی جانب سے شروع ہوگئی ہے اور جلوس پر انڈے پھینکنے کے بعد ڈی سی پی کے رول پر بھی ہندوانتہا پسند تنظیمیں تنقیدیں کر رہی ہے۔ ڈی سی پی جینت مینا ہندو انتہا پسند تنظیموں رائٹ ونگ کے نشانے پر اگئے ہیں۔ فی الوقت ڈی سی پی نے بتایا کہ حالات پرامن ہے اور پولیس اس معاملہ میں ضروری کاروائی کر رہی ہے کہ آیا اس معاملہ میں مزید کون لوگ ملوث ہے اور اس کے پس پشت کیا سازش ہے اس کی بھی تفتیش پولیس کر رہی ہے گنپتی پر انڈے پھینکنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل بھی کماٹی پورہ میں گنپتی کی مورتی پر انڈا پھینکا گیا تھا اس قسم کا واقعہ کیوں رونما ہوتا ہے اس کی بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پولیس کارروائی پر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے وہ ڈی سی پی کے خلاف ہی محاذ آرائی کر رہی ہیں۔ اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔ جبکہ ملزم کی تلاش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان