Connect with us
Thursday,23-April-2026

سیاست

خواتین کے حقوق، حکومت کا طرزِ عمل اور معاشرے کی ذمہ داریاں

Published

on

مردوں کی طرح عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے آوازیں تو بہت اٹھائی جاتی رہی ہیں اور ساتھ ہی اہل اقتدار کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں کہ موجودہ اقتدار وحالات میں خواتین بہتر اور اطمینان بخش زندگی گزار رہی ہیں اور متعدد موقعوں پر تعلیمِ نسواں کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں ، تحریکیں چلائی جاتی ہیں دعوے اور وعدے بھی کیے جاتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ہمارے معاشرے ہمارے ملک نے خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے وہ ہدف حاصل کرلیا ہے جس کے خواب ہمارے اکابرین اور آزادی کے مجاہدین نے دیکھے تھے ؟ ، کیا ہم واقعی ایسی تعلیمی فضا قائم کر پائے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکیں کہ اب تعلیمی اعتبار سے ہمارے ملک کی خواتین بھی کسی دوسرے ملک و معاشرے سے پیچھے نہیں ؟

یہ سوالات اہم ہیں اور اس کے اطمینان بخش جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہیں اس حوالے سے بیشتر دعوے اور اعداد و شمار ہمیں کمزور اور کھوکھلے نظر آتے ہیں تاہم مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں اگر ہم بات اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کریں تو منظر نامہ خاصہ مختلف اور افسوس ناک نظر آتا ہے مگر مختلف محاذوں اور تعلیمی میدانوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہورہاہے اگر اس باب میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حالات صرف اطمینان بخش ہی نہیں بلکہ بہت مستحکم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین تعلیم نے بھی اس پس منظر میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار اکثر بیش اظہار کیا ہے انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ جب بات تعلیمِ نسواں کی آتی ہے تو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے خور و خوص کرنے کی ضرور ہوتی ہے ،لڑکیوں کی نشو و نما اور پرورش بھی اتنی ہی سنجیدگی اور دیانت و متانت سے کی جانی چاہئے جتنی توجہ ہمارے معاشرے کے لوگ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ اور خصوصی توجہ دینے کی اس لئے بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک خاتون پر پورے گھر اور پوری نسل کو تربیت دینے کی ذمہداری ہوتی ہے ایک ماں اپنے بچوں کو اگر بہتر تربیت دیتی ہے تو بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذالڑکیوں کی تعلیم کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کو تمام تر تعلیمی حقوق فراہم کئے جانے چاہئیں، یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ پروفیسر سید وسیم اختر نے صرف زبانی طور پر لڑکیوں کی تعلیمی بہبود کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر بھی ابتدائی درجات سے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی تک ایک ایسا نظم قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے قول عمل میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اسکول سے انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام تک ہر شعبے اور ہر ادارے میں خواتین کو بہتر اور مساوی موقعے فراہم کئے گئے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والی خواتین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کے بانی وچانسلر نے اپنی زندگی کو ہی تعلیم۔ کے لئے وقف کردیا ہے پروفیسر صنوبر میر اور پروفیسر الوینا فاروقی کہتی ہیں کہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار ، صاحب ثروت اور با شعور لوگ تعلیمی باب میں ایسی ہی کوششیں کریں جیسی ہمارے عہد کے سرسید یعنی انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے کی ہیں تو ہر لڑکی تعلیمی زیور سے آراستہ ہوجائے گی ، اس کا مستقبل روشن ہوجائے گا اور وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔
ڈاکٹر سمیتا چترویدئ کہتی ہیں کہ چانسلر، اور پروچانسلر کی ایجوکیشنل اپروچ موجودہ عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی حصول تعلیم کے میدان میں مکمل آزادی ہے اور اہم بات یہ ئے کہ یہ آزادی سنسکاروں اور آدرشوں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا تعلیم عورتوں ک ضروری تو ہے مگر خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں۔ یہ شعر قدیم زمانے میں بہت با معنی اوراہم بھی تھا اور ساتھ ہی قابل تقلید بھی لیکن جدید دور میں اس کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔
آج دنیا کے ہر میدان ہر شعبے میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں سپنے آپ کو ثابت کرکے اپنی جگہ متعین کررہی ہیں سلجھے ہوئے ذہنوں کا یہی ماننا ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار، سنسکار اور روشن روایتوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے ، ایسا زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سرکاری سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے چلائے جانے والی اسکیموں سے بھی لوگوں کو فیض اٹھانا چائیے اقلیتی طبقے کی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ علم کا نہ ہونا اور اس وجہ سے ان تک سرکاری اسکیموں ک فائدہ نہ پہنچنا بھی ہے اگر تشہیری مہموں کے ذریعے لوگوں بالخصوص سماج کے پسماندہ اور غریب لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار کردیا جائے تو تعلیمی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور مجموعی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے ۔

سیاست

مہاراشٹر : دیویندر فڈنویس نے 60 دنوں میں 100% ای-آفس رول آؤٹ کے لیے ایم بی ایم سی کا اعزاز کیا۔

Published

on

میرا بھیندر: میرا-بھیندر میونسپل کارپوریشن (ایم بی ایم سی) کو ای-آفس سسٹم کو نافذ کرنے میں شاندار کارکردگی کے لیے ریاستی سطح کا تیسرا انعام دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز راجیو گاندھی ایڈمنسٹریٹو ایفیشنسی مہم 2025-26 کے تحت دیا گیا تھا۔ 21 اپریل کو، وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے کارپوریشن کو ایک یادگار، ایک سرٹیفکیٹ، اور 4 لاکھ روپے کا نقد انعام پیش کیا۔ یہ ایوارڈ کمشنر رادھا بنود شرما اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے سسٹم منیجر راج گھرت نے وصول کیا۔ ایم بی ایم سی ریاست کی پہلی میونسپل کارپوریشن بن گئی جس نے صرف 60 دنوں کے اندر 100% ای-آفس نفاذ کو حاصل کیا۔ آج تک، 1.49 لاکھ سے زیادہ اندراجات اور 8,800 سے زیادہ فائلوں پر ڈیجیٹل طور پر کارروائی کی گئی ہے۔ تقریباً 90% اندراجات تین دن کے اندر حل ہو جاتے ہیں، جبکہ دیگر فائلوں کے لیے زیادہ سے زیادہ پروسیسنگ کا وقت صرف سات دن ہے۔ ڈیجیٹل دستخطوں، آئی ڈی کی تصدیق، اور حقیقی وقت کی نگرانی کے استعمال نے انتظامی شفافیت کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پیپر لیس سسٹم میں منتقلی کے نتیجے میں تقریباً 4 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔

Continue Reading

بزنس

عالمی منڈیوں سے ملے جلے اشارے، صارفین کے شعبے پر دباؤ کے درمیان اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلا۔

Published

on

ممبئی: عالمی منڈیوں سے ملے جلے اشاروں کے درمیان جمعرات کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلی۔ صبح 9:21 بجے، سینسیکس 625 پوائنٹس یا 0.80 فیصد گر کر 77,891 پر تھا، اور نفٹی 162 پوائنٹس یا 0.67 فیصد گر کر 24,215 پر تھا۔ صارفین کے شعبے نے ابتدائی تجارت میں مارکیٹ میں کمی کی قیادت کی۔ نفٹی کنزیومر ڈیوریبلس انڈیکس میں سب سے زیادہ خسارے میں رہا۔ اس کے علاوہ نفٹی فنانشل سروسز، نفٹی سروسز، نفٹی پرائیویٹ بینک، نفٹی پی ایس یو بینک، نفٹی آٹو، نفٹی آئی ٹی، اور نفٹی ریئلٹی بھی سرخ رنگ میں تھے۔ دریں اثنا، نفٹی فارما، نفٹی انرجی، نفٹی ہیلتھ کیئر، نفٹی انڈیا ڈیفنس، اور نفٹی پی ایس ای سبز رنگ میں تھے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی ملا جلا کاروبار ہوا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 166 پوائنٹس یا 0.28 فیصد کم ہو کر 60,035 پر ٹریڈ کر رہا تھا، اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 7 پوائنٹس کے ساتھ معمولی اضافہ کے ساتھ 17,832 پر تھا۔

ایم اینڈ ایم، انڈیگو، ایٹرنل، ایشین پینٹس، آئی سی آئی سی آئی بینک، بجاج فائنانس، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ٹائٹن، انفوسس، بجاج فنسرو، ماروتی سوزوکی، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹرینٹ، اور ٹاٹا اسٹیل سینسیکس پیک میں خسارے میں تھے، جبکہ پاور گرڈ اور سن فارما فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ عالمی منڈیوں نے ملے جلے اشارے دکھائے۔ ٹوکیو، بنکاک، سیول، جکارتہ، ہانگ کانگ اور شنگھائی سرخ رنگ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ بدھ کو امریکی مارکیٹیں اونچی بند ہوئیں، ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.69 فیصد اور نیس ڈیک میں 1.64 فیصد اضافہ ہوا۔ ایران-امریکہ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بڑھنے کی وجہ سے واپسی دیکھ رہی ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران کے اس بیان کو قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جو کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے۔

Continue Reading

بزنس

مضبوط ڈالر پر سونے اور چاندی کی قیمتیں 1.6 فیصد تک گر گئیں۔

Published

on

ممبئی، سونے اور چاندی کی قیمتیں جمعرات کو مضبوط ڈالر کی وجہ سے دباؤ میں ہیں اور دونوں قیمتی دھاتوں میں تقریباً 1.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر صبح 05 جون 2026 کو سونے کا معاہدہ صبح 9:56 بجے 0.36 فیصد یا 546 روپے کی کمی کے ساتھ 1,52,111 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اب تک کی ٹریڈنگ میں، سونا 1,51,719 روپے کی کم ترین سطح اور 520 روپے کی بلند ترین سطح بنا چکا ہے۔ چاندی کا معاہدہ 05 مئی 2026 کو 1.61 فیصد یا 3,987 روپے کی کمی کے ساتھ 2,44,377 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹریڈنگ میں اب تک چاندی 2,42,220 روپے کی کم ترین سطح اور 2,44,730 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ کامیکس پر، سونے کی قیمت 0.68 فیصد گر کر 4,720 ڈالر فی اونس اور چاندی کی قیمت 2.43 فیصد گر کر 76 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے اور چاندی میں کمزوری کی وجہ مضبوط ڈالر انڈیکس ہے، جو 0.11 فیصد بڑھ کر 98.50 سے اوپر ٹریڈ ہوا۔ عام طور پر، جب ڈالر انڈیکس مضبوط ہوتا ہے، تو سونے اور چاندی کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈالر انڈیکس میں اضافے کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ ایران تنازعہ کی وجہ سے برینٹ خام تیل 1.22 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 1.36 فیصد اضافے کے ساتھ 94 ڈالر فی بیرل پر ہے۔ ڈالر انڈیکس چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی پوزیشن کو ماپتا ہے، بشمول یورو، جاپانی ین، پاؤنڈ سٹرلنگ، کینیڈین ڈالر، سویڈش کرونا، اور سوئس فرانک۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان