Connect with us
Tuesday,22-September-2026

سیاست

خواتین کے حقوق، حکومت کا طرزِ عمل اور معاشرے کی ذمہ داریاں

Published

on

مردوں کی طرح عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے آوازیں تو بہت اٹھائی جاتی رہی ہیں اور ساتھ ہی اہل اقتدار کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں کہ موجودہ اقتدار وحالات میں خواتین بہتر اور اطمینان بخش زندگی گزار رہی ہیں اور متعدد موقعوں پر تعلیمِ نسواں کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں ، تحریکیں چلائی جاتی ہیں دعوے اور وعدے بھی کیے جاتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ہمارے معاشرے ہمارے ملک نے خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے وہ ہدف حاصل کرلیا ہے جس کے خواب ہمارے اکابرین اور آزادی کے مجاہدین نے دیکھے تھے ؟ ، کیا ہم واقعی ایسی تعلیمی فضا قائم کر پائے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکیں کہ اب تعلیمی اعتبار سے ہمارے ملک کی خواتین بھی کسی دوسرے ملک و معاشرے سے پیچھے نہیں ؟

یہ سوالات اہم ہیں اور اس کے اطمینان بخش جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہیں اس حوالے سے بیشتر دعوے اور اعداد و شمار ہمیں کمزور اور کھوکھلے نظر آتے ہیں تاہم مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں اگر ہم بات اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کریں تو منظر نامہ خاصہ مختلف اور افسوس ناک نظر آتا ہے مگر مختلف محاذوں اور تعلیمی میدانوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہورہاہے اگر اس باب میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حالات صرف اطمینان بخش ہی نہیں بلکہ بہت مستحکم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین تعلیم نے بھی اس پس منظر میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار اکثر بیش اظہار کیا ہے انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ جب بات تعلیمِ نسواں کی آتی ہے تو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے خور و خوص کرنے کی ضرور ہوتی ہے ،لڑکیوں کی نشو و نما اور پرورش بھی اتنی ہی سنجیدگی اور دیانت و متانت سے کی جانی چاہئے جتنی توجہ ہمارے معاشرے کے لوگ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ اور خصوصی توجہ دینے کی اس لئے بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک خاتون پر پورے گھر اور پوری نسل کو تربیت دینے کی ذمہداری ہوتی ہے ایک ماں اپنے بچوں کو اگر بہتر تربیت دیتی ہے تو بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذالڑکیوں کی تعلیم کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کو تمام تر تعلیمی حقوق فراہم کئے جانے چاہئیں، یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ پروفیسر سید وسیم اختر نے صرف زبانی طور پر لڑکیوں کی تعلیمی بہبود کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر بھی ابتدائی درجات سے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی تک ایک ایسا نظم قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے قول عمل میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اسکول سے انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام تک ہر شعبے اور ہر ادارے میں خواتین کو بہتر اور مساوی موقعے فراہم کئے گئے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والی خواتین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کے بانی وچانسلر نے اپنی زندگی کو ہی تعلیم۔ کے لئے وقف کردیا ہے پروفیسر صنوبر میر اور پروفیسر الوینا فاروقی کہتی ہیں کہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار ، صاحب ثروت اور با شعور لوگ تعلیمی باب میں ایسی ہی کوششیں کریں جیسی ہمارے عہد کے سرسید یعنی انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے کی ہیں تو ہر لڑکی تعلیمی زیور سے آراستہ ہوجائے گی ، اس کا مستقبل روشن ہوجائے گا اور وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔
ڈاکٹر سمیتا چترویدئ کہتی ہیں کہ چانسلر، اور پروچانسلر کی ایجوکیشنل اپروچ موجودہ عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی حصول تعلیم کے میدان میں مکمل آزادی ہے اور اہم بات یہ ئے کہ یہ آزادی سنسکاروں اور آدرشوں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا تعلیم عورتوں ک ضروری تو ہے مگر خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں۔ یہ شعر قدیم زمانے میں بہت با معنی اوراہم بھی تھا اور ساتھ ہی قابل تقلید بھی لیکن جدید دور میں اس کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔
آج دنیا کے ہر میدان ہر شعبے میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں سپنے آپ کو ثابت کرکے اپنی جگہ متعین کررہی ہیں سلجھے ہوئے ذہنوں کا یہی ماننا ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار، سنسکار اور روشن روایتوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے ، ایسا زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سرکاری سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے چلائے جانے والی اسکیموں سے بھی لوگوں کو فیض اٹھانا چائیے اقلیتی طبقے کی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ علم کا نہ ہونا اور اس وجہ سے ان تک سرکاری اسکیموں ک فائدہ نہ پہنچنا بھی ہے اگر تشہیری مہموں کے ذریعے لوگوں بالخصوص سماج کے پسماندہ اور غریب لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار کردیا جائے تو تعلیمی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور مجموعی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی ہائی کورٹ نے وجے مالیا کو سوشل میڈیا پر عدالتی دستاویزات پوسٹ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

Published

on

ممبئی : بامبے ہائی کورٹ نے “مفرور اقتصادی مجرم” برطانیہ میں مقیم کاروباری وجے مالیا کو سوشل میڈیا پر عدالتی دستاویزات پوسٹ کرنے کے خلاف خبردار کیا جب کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے معاملے کی تحقیقات جاری ہے، ایک وکیل نے منگل کو کہا۔ مالیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تحقیقاتی ایجنسی کا حلف نامہ اپ لوڈ کرنے سے پہلے ہی عدالت اس کے مندرجات پر غور کیا تھا۔ 13 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کے لئے پوسٹ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو ہدایت کی کہ وہ ای ڈی کے انکشافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا حلف نامہ داخل کرے۔

انہوں نے انگلینڈ کی عدالتوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں ملک چھوڑنے سے روکا گیا۔ ہائی کورٹ مالیا کی طرف سے دائر دو درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ ایک درخواست مفرور اقتصادی مجرم ایکٹ (ایف ای او اے) کے تحت ان کے نامزدگی کو چیلنج کرتی ہے، جبکہ دوسری عدالت کے حکم کا مقابلہ کرتی ہے، جس میں اسے باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دینے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ مالیا نے سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا تھا جہاں درخواست گزاروں کی غیر موجودگی میں بھی رٹ درخواستوں کی سماعت کی گئی تھی۔ انہوں نے عرض کیا تھا کہ مالیا کے خلاف برطانیہ میں حوالگی کی کارروائی جاری ہے اور ان کا مؤکل ان سے واقف ہے لیکن عدالتی احکامات کے پابند ہونے کی وجہ سے وہ انگریزی دائرہ اختیار کو چھوڑنے سے قاصر ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے مالیا کے عدالت میں پیش ہونے کے ارادے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ یہ واضح کیے بغیر برطانیہ کی عدالت کے احکامات پر بھروسہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ آیا ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

بنچ نے اشارہ کیا کہ اس طرح کے بھروسہ کو کمبل جواز کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو مالیا کے حلف نامہ کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس نے دیسائی سے بھی کہا کہ وہ سماعت کے دوران دیئے گئے تمام بیانات کو ریکارڈ پر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی حلف نامہ جمع کریں تاکہ ہندوستانی یونین اس کے مطابق جواب دے سکے۔

Continue Reading

سیاست

بی جے پی ملازمین پارٹ ٹائم سیاست دان نہیں: نتن نبین نے راہل گاندھی پر تنقید کی۔

Published

on

سہارنپور: لوک سبھا لیڈر آف اپوزیشن (ایل او پی) راہول گاندھی پر پردہ دار طنز کے طور پر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر نتن نبین نے منگل کو کہا کہ پارٹی کے کارکن “جزوقتی سیاست دان نہیں ہیں”۔ یہ بات ان دنوں کے بعد آئی ہے جب تمل ناڈو کے بی جے پی کے سربراہ نینر ناگینتھرن نے کانگریس لیڈر کو “پارٹ ٹائم پولیٹیکل وزیر اعظم پور پور” کی مذمت کرتے ہوئے کہا۔ نریندر مودی اندور میں گاندھی کے ‘چھترون کی گونج’ پروگرام کے دوران۔ اتر پردیش کے سہارنپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، نتن نبین نے کسی کا نام لیے بغیر کہا: “بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک کارکن چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ ہمارے کارکن پارٹ ٹائم سیاستدان نہیں ہیں۔ میں ہر جگہ کارکنوں میں نظر آنے والے جوش اور جوش سے بہت خوش ہوں، اور اس پختہ عزم کے ساتھ کہ وہ اتر پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی حکومت بنانے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔”

بی جے پی کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔”مغربی اتر پردیش کا دورہ کرنے، کارکنوں سے بات چیت کرنے اور سینئر لیڈروں کے ساتھ معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد، مجھے یقین ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 2027 کے لیے اپنے مشن کو کامیابی سے حاصل کرے گی،” انہوں نے کہا۔ نبین نے مزید کہا: “ہمارا خیال ہے کہ پچھلے دس سالوں میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پر غور کیا جائے گا۔ گزشتہ 12 سالوں پر محیط وزیر مودی کا دور – عوام کو ہماری ترقی کے نقطہ نظر اور ہماری خارجہ پالیسی پر واضح یقین ہے کہ یہ حکومت ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں بدل دے گی اور اتر پردیش کو ایک ‘اتر پردیش’ (ایک مثالی ریاست) میں بدل دے گی۔” نتن نبی پیر سے اتر پردیش کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ ایک دن قبل انہوں نے کریل پارک میں اپنے دورے کا آغاز کیا۔ میرٹھ۔ایکس پر ایک پیغام میں نبین نے کہا:

“آج، اتر پردیش کے دورے کے دوران، میرٹھ میں کارگل شہداء میموریل پارک پہنچ کر، میں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے عظیم قربانی دی، اور ان کی یاد میں ایک درخت لگایا۔” “ہمارے فوجیوں کی ہمت، ان کی لگن اور ملک کی سرحدوں کے لیے ان کی قربانیوں نے ہمیشہ ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دیں۔ ہر ہندوستانی کے لیے ترغیب کا ذریعہ بنے رہیں۔” انہوں نے کہا۔ نبین کے ریاست کے دورے کے دوران، پارٹی قیادت بوتھوں، ‘شکتی کیندر’ (بوتھوں کا جھرمٹ)، منڈلوں اور ضلعی سطحوں پر تنظیمی تیاریوں کا جائزہ لینے اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان