Connect with us
Tuesday,05-May-2026

(جنرل (عام

گستاخ رسول ٹی راجہ سنگھ کے خلاف حیدرآباد میں سخت برہمی

Published

on

T. Raja Singh in Hyderabad

گستاخ رسول بی جے پی سے معطل لیڈر ٹی راجہ سنگھ کو منگل کو حیدرآباد پولیس نے اسلام اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ویڈیو میں ان کے مبینہ تبصرہ پر گرفتاری کے کچھ گھنٹوں بعد ضمانت مل گئی تھی۔ ویڈیو کے بعد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹا لیا گیا تھا۔ عدالت نے ٹی راجہ سنگھ کے وکیل کے اس ترک کو منظور کر لیا کہ پولیس نے گرفتاری سے پہلے ملزم کو سی آر پی سی 41 (اے) کے تحت نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ اس دوران عدالت میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ راجہ سنگھ کے حامی اور مخالف جمع ہو گئے، اور نعرے بازی کرنے لگے، جس سے پولیس کو انہیں ہٹانے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔

بی جے پی ٹی راجہ سنگھ کے تبصرہ پر ناراضگی کے بعد منگل کو راجہ سنگھ کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ حادثات کے ڈرامائی موڑ کے بعد پولیس نے حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کردی ہے۔ پیر کے روز بی جے پی رکن اسمبلی نے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کی تنقید کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کیا تھا۔ جنہوں نے حال ہی میں شہر میں پروگرام کیا تھا۔ ویڈیو میں راجہ سنگھ کو مبینہ طور پر اسلام کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

پرانے شہر حیدرآباد کے کچھ حصوں میں چھٹ پٹ احتجاجی مظاہرہ دیکھا گیا، جبکہ راجہ سنگھ کو مجسٹریٹ نے ضمانت دے دی تھی۔ متنازعہ معطل بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ کو پھانسی دینے کے مطالبہ کو لے کر لوگ چار مینار پر بھی جمع ہوگئے۔ اس درمیان راجیہ سنگھ کے حامیوں کو ان کے گھر کے باہر منگل کی دیر رات ‘جے شری رام’ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

اہم مسلم تنظیموں نے منگل کو تلنگانہ کے معطل بی جے پی لیڈر بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کے متنازعہ اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی ہستیوں کی عظمت کے تحفظ کے لئے ایک قانون کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علما ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے ٹی راجہ سنگھ کے تبصرہ کو بہت شرمناک اور حیران کن بتایا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائن اسپتال میں زیر علاج مریض کے سر میں پیوست چاقو نکالا گیا، اسپتال انتظامیہ کی بہتر کارکردگی کے سبب مریض حالت مستحکم

Published

on

ICU

ممبئی ایک 27 سالہ مریض کو لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال، سائن کے شعبہ حادثات میں 2 مئی 2026 کی اولین ساعتوں میں لایا گیا تھا۔ مریض کو ناریل کاٹنے والے چاقو سے سر پر مبینہ حملے کے بعد داخل کیا گیا تھا۔ مریض مکمل طور پر ہوش میں اور مستعد تھا اور داخلے پر اس میں کوئی اعصابی کمی نہیں تھی۔ مریض کو فوری طور پر ٹراما آئی سی یو (ایکسیڈنٹ انٹینسیو کیئر یونٹ) میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد مریض کے علاج کے مطابق ضروری طبی ٹیسٹ کرائے گئے۔ مریض کے ریڈیولاجیکل معائنے سے معلوم ہوا کہ ناریل کاٹنے والا چاقو بائیں جانب سے کھوپڑی میں داخل ہوا تھا اور دماغ میں تقریباً 1.5 انچ تک گھس گیا تھا۔ مریض کا فوری طور پر اسپتال کے سرجن نے آپریشن کیا۔ نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر بٹوک دیورا کی قیادت میں ٹیم اور اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر شویتا مبرے کی قیادت میں ٹیم نے سر میں داخل ہونے والے چاقو کو کامیابی سے نکال دیا۔ مریض کی سرجری کامیاب رہی۔ مریض سرجری کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور ٹراما آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ مریض کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ مریض کی حالت بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سنسنی خیز واقعہ : سائن اسپتال کے آئی سی یو کے باہر سر میں چاقو گھسا ہوا شخص، علاج میں لاپرواہی کے الزامات

Published

on

ممبئی سے ایک نہایت چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اسپتال کے احاطے میں موجود مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لوکمانیہ تلک میونسپل جنرل اسپتال (سائن اسپتال) کے ٹراما انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کے باہر ایک شخص سر میں چاقو گھسے ہوئے حالت میں کھڑا نظر آیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر وہاں موجود افراد میں افراتفری مچ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، مذکورہ شخص شدید زخمی تھا، لیکن کچھ وقت تک اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ الزام ہے کہ وہ علاج کے لیے اسپتال پہنچا تھا، مگر کسی بھی ڈاکٹر نے اسے فوری ایمرجنسی کیس کے طور پر نہیں دیکھا اور مبینہ طور پر اسے نظر انداز کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں زخمی شخص کو آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس واقعے نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت علاج فراہم کیا جاتا تو صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوتی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھولیہ مسلم بستی پر کارروائی سراسر ناانصافی، ابوعاصم اعظمی کا اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال، کاروائی اور نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کی درخواست

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے دھولیہ میں مسلم بستیوں کو غیر قانونی طریقے سے مکانات خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ اقلیتی کمیشن چیئرمین پیارے خان سے کیا ہے۔ انہوسن نے کہا کہ دھولیہ میں ۲۷۵ مسلمانوں کو بےگھر کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ سرکار نے وزیر اعظم آواس یوجنا کے معرفت ان کی باز آبادکاری کرنے کا جی آر بھی جاری کیا تھا, یہ کنبہ دھولیہ لال سردارنگر اینٹ بٹی علاقہ میں ۴۰ سے ۵۰ برسوں سے آباد تھا, لیکن انتظامیہ نے اچانک انہدامی کارروائی کر انہیں بے دخل کر دیا ہے, انہیں 21 اپریل کو غیر قانونی طریقے سے نوٹس ارسال کی گئی۔ ریاستی سرکار نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۶ کے جی آر کے مناسبت سے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مکینوں کی باز آبادکاری کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔ انتظامیہ کی اچانک کارروائی غیر انسانی او ر غیر قانونی ہے اس لئے اقلیتی کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی نوٹس پر اسٹے حکم امتناعی نافذ کرے اور مکینوں پر انصاف دے اس متعلق دھولیہ کے ایڈوکیٹ زبیر اور مکینوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں انصاف میسر ہو اور غیر قانونی انہدامی نوٹس پر اسٹے عائد ہو۔ ابوعاصم اعظمی نے مکینوں کے مطالبہ پر اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کر کے کارروائی پر روک اور اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان