Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

خطاط محمد ذکیر الدین کی تصنیف ’خطاطی کی مختصر تاریخ‘ کے رسم اجراء میں فن خطاطی کے احیاء کی ضرورت پر زور

Published

on

Muhammad Zakir-ud-Din

’’خطاطی ایک لطیف فن ہے، جس نے صدیوں لوگوں کے ذوق لطیف کی آبیاری کی ہے، لہٰذا اس فن کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ان خیالات کااظہار آج یہاں سرکردہ شخصیات نے معروف خطاط محمد ذکیرالدین کی تصنیف کردہ کتاب ’خطاطی کی مختصر تاریخ‘ کا اجراء کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر سینئر صحافیوں معصوم مرادآبادی اور سہیل انجم نے فن خطاطی اور صاحب کتاب کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

مصنف محمد ذکیر الدین نے کہا کہ اس کتاب کو لکھتے وقت زبان و بیان کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ قارئین آسانی سے موضوع سمجھ سکیں۔ کتاب کی ترتیب بالکل نئی ہے۔ اس کتاب کو دیباچہ کے علاوہ 13/ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا پہلا باب قبل اسلام کے منظر نامے پر مشتمل ہے اور آخری باب میں بر صغیر ہندو پاک میں خطاطی اور خطاطوں کا ذکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا قائم ہے ہر موضوع پر تصنیف کا سلسلہ چلتارہے گا اور یہ چلتا رہنا بھی چاہئے۔

پروگرام کی صدارت سابق رکن پارلیمان اور سفیر م۔افضل نے کی جبکہ پدم شری پروفیسر اختر الواسع بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

مہمان خصوصی پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ اردو، عربی اور فارسی زبانوں کو یہ اعزا ز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے خط کوفنون لطیفہ میں شامل کیا، خطاطی فن لطیف ہے اور کسی دوسری زبان کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ محمد ذکیر الدین نے ایک ایسے وقت میں یہ کتاب لکھی ہے جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کمپیوٹر کی اپنی اہمیت ہے لیکن کمپیوٹر میں جنبش قلم، احساسات کی ندرت اورانگلیوں کا لمس آہی نہیں سکتا، لیکن کمپیوٹر بھی ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں اس کو لے کر پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح کی کوشش کرنی چاہئیں کہ کس طرح ہم خطاطی اور کمپیوٹر کو مربوط کر سکیں۔

سینئر صحافی معصوم مراد آبادی نے کہا کہ ذکیر الدین نے ایک ایسے وقت میں فن خطاطی پر کتاب تصنیف کی ہے، جب لوگ اس فن کو بھولتے چلے جا رہے ہیں یہ ایسا کارنامہ ہے جس کے لئے انہیں بجا طور پر داد دی جانی چاہئے۔ انھوں نے کہاج کہ محمد ذکیر الدین شریف النفس انسان ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جو بہت اچھے، نستعلیق اور کھرے انسان دیکھے ہیں ان میں ذکیر الدین سر فہرست ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ذکیر الدین کتابت اور خوشنویسی کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور ادارت سے بھی وابستہ ہیں، لیکن انہوں نے دوسروں کی طرح کبھی اس پر غرور نہیں کیا بلکہ اپنی کاوشوں کو نہایت عاجزی اور انکساری کیساتھ پیش کرکے ارباب ادب و صحافت کی داد پاتے رہے۔

صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے م۔ افضل نے کہا کہ میں پچھلے دنوں میں ایران کے سفر پر گیا تھا، وہاں میں نے دیکھا مقامی لوگوں نے فن خطاطی کو زندہ رکھا ہوا ہے اور بہت شوق کے ساتھ وہ لوگ بازاروں میں آویزاں بینر کاتب حضرات سے لکھوانے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ محمدذکیر الدین ہی نہیں بلکہ معصوم مرادآبادی اور سہیل انجم نے بھی اپنے صحافتی کیریر کا آغاز میری ادارت میں شائع ہونے والے ہفتہ وار ’اخبارنو‘ سے کیا اور آج یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فن خطاطی کی موجودہ صورتحال پرمایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنے فن میں ماہر ہوجائیں، تب آپ کو قدر بھی ملے گی اور آپ کو کام بھی ملے گا، اور آپ کو زندگی میں بہت کچھ حاصل ہوگا۔اس فن کو ایک بار پھر اسی آب وتاب کے ساتھ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

صحافی سہیل انجم نے ذکیر الدین کی شخصیت اور فن پر خاکہ پڑھ کر سنایا۔ ڈاکٹر عقیل احمد اور افضل منگلوری نے صاحب کتاب کو مبارکباد پیش کی۔ شرکاء میں کالم نگار عظیم اختر کے علاوہ ممتاز خطاطوں میں عطاء اللہ اختر، کفیل احمد قاسمی، سہیل احمد، عبد الماجد، ابو بکر قاسمی، انیس صدیقی، عبد المنان کے علاوہ ارشد سراج الدین مکی، ظفرانور اور حافظ نصیر سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے۔

(جنرل (عام

نبی پاک صرف انسانوں کے نہیں جانوروں کیلئے بھی رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے

Published

on

ممبئی سرکار کی آمد مرحبا آقا کی آمد مرحبا کے فلک شگاف نعروں سے ممبئی کی سڑکیں اس وقت گونج اٹھیں جب خلافت ہاؤس سے تاریخی جلوس محمدی نکالا گیا اس جلوس کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا جلوس میں ڈف بجا کر عاشقان رسول کے قافلہ نے راستہ میں نعت و منقبت پڑھی عاشقان رسول کا قافلہ مسلم اکثریتی علاقے ناگپاڑہ مد نپورہ ، دو ٹانکی سمیت دیگر شاہراہوں سے گزرتا ہوا مستان تالا ب پر نعت و منقبت اور دعا پر پرامن اختتام پر پہنچا ۔ جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ سیرت پاک بیان کرتے ہوئے علما کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا انہیں کے صدمہ میں ملی ہے ۔

اس جلسہ سے خطاب فرماتے ہوئے مفتی حضرت علامہ خلیق اشرف پرنسپل دارالعلوم اشرفیہ مظہر العلوم نے فرمایا کہ اعلان نبوت سے ۴۰ سال پہلے تک لوگ انسان ضرور تھے لیکن انسانی صفت نہیں تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی دھرتی پر دانو یعنی درندوں کو انسان بنایا میرے نبی پاک انسانوں کےلیے ہی رحمت بن کر تشریف نہیں لائے تھے بلکہ وہ جانوروں کےلیے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہرن مالک کے گھر حاضر ہوئے تھے ہرن نے کہا کہ اس کے دو بچے ہیں وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے مالک کو کہا کہ یہ ہرن دو بچوں کی ماں ہے اور وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اور دودھ پلاُکر واپس آجائے گی اس کےبعد مالک نے کہا کہ ہرن واپس آجائے گی اس کی ضمانت کون دے گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کی واپسی کی ضمانت دی اور ہرن دودھ پلاُکر واپس آگئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی اس مالک ہرن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرن عنایت فرمائے اور پھر آپ نے اس کی رسی کھول کر اسے آزاد کروایا تو ہرن یہ کہہ اٹھی کہ آپ محمد مصطفی صلہ اللہ علیہ وسلم ہوں آپ ہی مجھے آزاد کر سکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرتے تھے۔

یہ جلوس محمدی اس وقت کامیاب ہو گا جب جلوس میں انسانیت کا ثبوت دیا جائے راستہ میں اگر ایمبولینس آجائے تو اسے راستہ دیا جائے عید میلاد النبی میں فلاحی کاموں کو ترجیح دیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر نیک عمل کیا جائے یہی ہماری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خراج عقیدت ہو گی ۔ قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چئیر پرسن سچن اہیر نے کہا کہ حضورﷺ نے امن کا پیغام عام کیا ہے وہ عدل و انصاف انسانیت کے علمبردار ہیں ۔جلوس عید میلادالنبی میں بھائی چارگی امن کے پیغام کو عام کیا جاتا ہے اور اتحاد کو فر وغ پہنچتا ہے ہم مختلف ضرور ہے ہمارے عبادت کے طریقے منفرد ہے لیکن ہمارا وطن ایک ہے اور یکجہتی کو فروغ دینا ہی ہمارا مقصد ہے ۔ رکن پارلیمان کانگریس سنئیر لیڈر عمران پرتا پ گڑھی نے شعر سے اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں احترام کے قابل ہے جتنے لوگ میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کےبعدعمران پڑتاپ گڑھی نے خلافت تحریک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک کے ساتھ گاندھی جی نے مل کر تحریک عدم تعاون شروع کی تھی ۔

اللہ کے رسول کو جب دنیا میں اتارا گیا تو پورے عالم کےلیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا ۔ ہندوستان گلدستہ کی مانند ہے اور اس ملک کی آزادی میں ہم نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں ۔ اس لیے اس ملک کی یکجہتی اور اتحاد ہی اس کا خاصہ ہے ۔ سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جلوس نہیں ہوتا اللہ رب العزت کے کرم سے ہم سب نبی پاک کا میلاد منانے کےلیے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روئے زمین پر رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں اور ہم عاشق رسولﷺ ان کا میلاد مناتے ہیں ۔ رکن اسمبلی منوج جامستکر نے کہا کہ خلافت کمیٹی تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور یہا ں سےہی جلوس میلاد نکالا جاتا ہے جہالت ،ظلم و ستم کی زنجیروں کو آپ صلی اللہ علیہ نے توڑ ا اور انسانیت کونئی زندگی عطا کی ہے ۔

جلسہ کے بعد صلوٰۃ و سلام کے بعد اس جلسہ نے جلوس کی شکل اختیا ر کر لی جلوس میں قائد جلوس علامہ خلیق اشرف ، کانگریسی لیڈر اور رکن پارلیمان عمران پرپاپ گڑھی ، رکن اسمبلی امین پٹیل سمیت دیگر کھلی جیپ میں سوار ہو کر جلوس کی قیادت کی بائیکلہ پھل مارکیٹ کی جانب سے جلوس کا شاندار استقبال کیا گیا اس قائدین کی گاڑی سے پہلے عاشقان رسول کا قافلہ نبی رحمت کی نعت و منقبت صف بجا کر ادب و احترام کے ساتھ تعظیمی انداز میں پیش کر رہا تھا جو انتہائی منفرد تھا اس جلوس میں مقام مقدسہ کی جھانکیاں بھی شامل تھیں جس میں ٹرکوں پر مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ کی پر کشش اور روحانی جھانکیاں بھی شامل کی گئیں تھیں عید میلاد النبی کے پیش نظر پولس نے بھی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے ایڈیشنل کمشنر سینٹرل ریجن وکرم دی مانے جلوس عملہ کے ہمراہ جلوس کی سیکورٹی پر مامور تھے جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی ناخواشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نبی محمد کی زندگی محبت، بھائی چارے کی ایک متاثر کن کہانی: آندھرا پردیش گورنر

Published

on

آندھرا پردیش کے گورنر ایس عبدالنذیر نے بدھ کو کہا کہ پیغمبر محمد کی زندگی بنی نوع انسان کے لیے محبت، بھائی چارے اور نیکی کی ایک متاثر کن کہانی رہی ہے۔ گورنر نذیر اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بدھ کے روز میلاد النبی کے موقع پر مسلمانوں کو مبارکباد دی، “میں آندھرا پردیش کے مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی کے پرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پیغمبر اسلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر۔ گورنر نے اپنے پیغام میں کہا۔

“پیغمبر کا مشن اس وقت پورا ہوتا ہے جب ہم اپنے ہم وطنوں کی خدمت ایمان، اعتماد، دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں رحمدلی، ہمدردی اور حضور کی تعلیمات کی یاد دلاتا ہے۔” میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دن ہم سب کے درمیان امن اور خیر سگالی کا آغاز کرے۔” انہوں نے مزید کہا۔

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم روح تھے جنہوں نے پوری انسانیت کی بھلائی اور امن کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔ میں اپنے ان مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت، جنہوں نے اپنی زندگی ایک پرامن معاشرے کے فروغ کے لیے وقف کر دی تھی”۔ ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد دی۔ “عید میلاد کے مبارک موقع پر، تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی زندگیوں میں امن، خوشی اور خوشحالی بھرے، اس پرمسرت موقع پر سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ عید میلاد مبارک!،” نائب وزیر اعلیٰ نے ‘X’ پر پوسٹ کیا۔

انسانی وسائل کی ترقی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر نارا لوکیش نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: “پیغمبر اسلام کے یوم ولادت کی یاد میں منائے جانے والے میلاد النبی کے موقع پر، میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آئیے ہمدردی، عاجزی، اور انسانیت کی خدمت کے راستے پر چلیں،” انہوں نے کہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے۔

سابق چیف منسٹر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پیغمبر اسلام کا انسانیت کے لیے دلوں میں محبت کے ساتھ غالب آنے کا پیغام، ہمدردی کے ساتھ مصیبت میں پڑنے والوں کی مدد اور معافی، صبر اور بھائی چارے کے ساتھ ایک پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے وہ ہمیشہ قابل تقلید ہے۔ وائی ​​ایس جگن نے ‘X’ پر پوسٹ کیا، “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر، میرے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دلی مبارکباد۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نیپال میں اچانک سیلاب: متاثرہ علاقوں میں 384 سیاح لاپتہ، 100 سے زائد بھارتی شہری شامل

Published

on

نیپال ٹورازم بورڈ میڈیا کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی صورتحال کی تازہ کاری کے مطابق، بدھ کی صبح دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والے سیلاب کے بعد نیپال میں لاپتہ ہونے والے 384 سیاحوں میں 100 سے زائد ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ ٹورازم بورڈ نے کہا کہ 384 لاپتہ سیاحوں میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ غیر ملکی شہریوں کا تعلق کئی ممالک سے ہے، جن میں سے 105 ہندوستان سے ہیں، اور دیگر برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور ہالینڈ سے ہیں۔

تاہم، میڈیا نے واضح کیا کہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور فی الحال ان کی ٹریول ایجنسیوں، مقامی حکام اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے تصدیق اور کراس چیک کیا جا رہا ہے۔ ٹورازم بورڈ نے یہ بھی کہا کہ لاپتہ مسافروں میں سے کئی کی قومیت کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ مسافروں کا تعلق نو مختلف ٹریول ایجنسیوں سے ہے۔

ٹورازم بورڈ نے ایک بیان میں کہا، “ٹریول ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی حکام اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر معلومات کی تصدیق اور کراس چیک کیا جا رہا ہے۔” سیاحتی بورڈ نے ایک بیان میں کہا۔ دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والے سیلاب نے راسووا کے علاقے میں ایک بڑا خلل پیدا کیا، جس سے متاثرہ علاقوں میں موجود سیاحوں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کو لے کر خدشات پیدا ہوئے۔ حکام اور ریسکیو ایجنسیاں صورتحال کا جائزہ لینے اور لاپتہ ہونے والوں کا پتہ لگانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کھٹمنڈو ٹائمز کے مطابق، اب تک سات افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور متعدد لاپتہ ہیں۔ نیپال ٹورازم بورڈ نے سیاحوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے معلومات یا مدد کے لیے ہنگامی رابطہ نمبر بھی جاری کیے ہیں۔ ہنگامی رابطوں میں ٹول فری نمبر 1234، ہاٹ لائن 1144 اور ٹورسٹ پولیس نمبر 9851289445 شامل ہیں۔ ٹورازم بورڈ نے متاثرہ علاقوں میں سیاحوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں، سرکاری چینلز کے ذریعے آگاہ رہیں اور حکام کی طرف سے جاری کردہ تمام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔صورتحال کے پیش نظر نیپالی وزیر اعظم بلیندر شاہ نے متاثرہ علاقوں کے وفاقی ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کی ہے جن میں رسووا، نواکوٹ، دھاڈنگ، گورکھا اور چتوان شامل ہیں۔

بحث میں زلزلے سے ہونے والے نقصانات، ساحلی بستیوں کی حالت اور بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس سے قبل بلین شاہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تازہ ترین صورتحال اور ریسکیو، تلاش اور امدادی سرگرمیوں کی پیش رفت کے بارے میں اعلیٰ سطحی معلومات حاصل کرنے کے لیے نیشنل کونسل فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ کا اجلاس طلب کیا تھا۔ بے گھر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان