Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

خطاط محمد ذکیر الدین کی تصنیف ’خطاطی کی مختصر تاریخ‘ کے رسم اجراء میں فن خطاطی کے احیاء کی ضرورت پر زور

Published

on

Muhammad Zakir-ud-Din

’’خطاطی ایک لطیف فن ہے، جس نے صدیوں لوگوں کے ذوق لطیف کی آبیاری کی ہے، لہٰذا اس فن کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ان خیالات کااظہار آج یہاں سرکردہ شخصیات نے معروف خطاط محمد ذکیرالدین کی تصنیف کردہ کتاب ’خطاطی کی مختصر تاریخ‘ کا اجراء کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر سینئر صحافیوں معصوم مرادآبادی اور سہیل انجم نے فن خطاطی اور صاحب کتاب کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

مصنف محمد ذکیر الدین نے کہا کہ اس کتاب کو لکھتے وقت زبان و بیان کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ قارئین آسانی سے موضوع سمجھ سکیں۔ کتاب کی ترتیب بالکل نئی ہے۔ اس کتاب کو دیباچہ کے علاوہ 13/ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا پہلا باب قبل اسلام کے منظر نامے پر مشتمل ہے اور آخری باب میں بر صغیر ہندو پاک میں خطاطی اور خطاطوں کا ذکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا قائم ہے ہر موضوع پر تصنیف کا سلسلہ چلتارہے گا اور یہ چلتا رہنا بھی چاہئے۔

پروگرام کی صدارت سابق رکن پارلیمان اور سفیر م۔افضل نے کی جبکہ پدم شری پروفیسر اختر الواسع بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

مہمان خصوصی پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ اردو، عربی اور فارسی زبانوں کو یہ اعزا ز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے خط کوفنون لطیفہ میں شامل کیا، خطاطی فن لطیف ہے اور کسی دوسری زبان کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ محمد ذکیر الدین نے ایک ایسے وقت میں یہ کتاب لکھی ہے جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کمپیوٹر کی اپنی اہمیت ہے لیکن کمپیوٹر میں جنبش قلم، احساسات کی ندرت اورانگلیوں کا لمس آہی نہیں سکتا، لیکن کمپیوٹر بھی ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں اس کو لے کر پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح کی کوشش کرنی چاہئیں کہ کس طرح ہم خطاطی اور کمپیوٹر کو مربوط کر سکیں۔

سینئر صحافی معصوم مراد آبادی نے کہا کہ ذکیر الدین نے ایک ایسے وقت میں فن خطاطی پر کتاب تصنیف کی ہے، جب لوگ اس فن کو بھولتے چلے جا رہے ہیں یہ ایسا کارنامہ ہے جس کے لئے انہیں بجا طور پر داد دی جانی چاہئے۔ انھوں نے کہاج کہ محمد ذکیر الدین شریف النفس انسان ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جو بہت اچھے، نستعلیق اور کھرے انسان دیکھے ہیں ان میں ذکیر الدین سر فہرست ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ذکیر الدین کتابت اور خوشنویسی کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور ادارت سے بھی وابستہ ہیں، لیکن انہوں نے دوسروں کی طرح کبھی اس پر غرور نہیں کیا بلکہ اپنی کاوشوں کو نہایت عاجزی اور انکساری کیساتھ پیش کرکے ارباب ادب و صحافت کی داد پاتے رہے۔

صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے م۔ افضل نے کہا کہ میں پچھلے دنوں میں ایران کے سفر پر گیا تھا، وہاں میں نے دیکھا مقامی لوگوں نے فن خطاطی کو زندہ رکھا ہوا ہے اور بہت شوق کے ساتھ وہ لوگ بازاروں میں آویزاں بینر کاتب حضرات سے لکھوانے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ محمدذکیر الدین ہی نہیں بلکہ معصوم مرادآبادی اور سہیل انجم نے بھی اپنے صحافتی کیریر کا آغاز میری ادارت میں شائع ہونے والے ہفتہ وار ’اخبارنو‘ سے کیا اور آج یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فن خطاطی کی موجودہ صورتحال پرمایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنے فن میں ماہر ہوجائیں، تب آپ کو قدر بھی ملے گی اور آپ کو کام بھی ملے گا، اور آپ کو زندگی میں بہت کچھ حاصل ہوگا۔اس فن کو ایک بار پھر اسی آب وتاب کے ساتھ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

صحافی سہیل انجم نے ذکیر الدین کی شخصیت اور فن پر خاکہ پڑھ کر سنایا۔ ڈاکٹر عقیل احمد اور افضل منگلوری نے صاحب کتاب کو مبارکباد پیش کی۔ شرکاء میں کالم نگار عظیم اختر کے علاوہ ممتاز خطاطوں میں عطاء اللہ اختر، کفیل احمد قاسمی، سہیل احمد، عبد الماجد، ابو بکر قاسمی، انیس صدیقی، عبد المنان کے علاوہ ارشد سراج الدین مکی، ظفرانور اور حافظ نصیر سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان