(جنرل (عام
اب ایسا لگتا ہے ملک میں عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں؟ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک، انتظامیہ کا مظاہرین کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک : مولانا ارشد مدنی
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور وخوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن وقانون کی ابتری اور مسلم اقلیت کے خلاف بدترین امتیازی رویہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ یہ تشویش کا اظہار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کا کیا گیا۔ دوسری طرف مولانا مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لاقانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں دعوٰی کیا گیا کہ ملک کے امن و اتحاد اور یکجہتی کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، دعوٰی کیا گیا حکمرانوں کے ذریعہ آئین وقانون کی پامالی کی یہ موجودہ روش ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تار تار کرسکتی ہے، اس موقع پر اجلاس میں اتفاق رائے سے جو تجاویز منظور ہوئیں ان میں سے دو اہم تجاویز میں کہا گیا کہ جناب نبی کریم ﷺ کی شان میں جن لوگوں نے گستاخی کی جرأت کی ہے، ان کی معطلی ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی جانی چاہئے، جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔
دوسری اہم تجویز میں کہا گیا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق 1991ء کے اہم قانون میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تجویز میں کہا گیا ہے کہ ترمیم یا تبدیلی کے بجائے اس قانون کو مضبوطی سے لاگو کیا جانا چاہئے، جس کے سیکشن 4/ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15/ اگست 1947ء میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت ویسی ہی رہے گی جیسی کہ اس وقت تھی“ سیکشن 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ اگر 15/ اگست 1947ء میں موجودکسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیر التواء ہے، تو وہ منسوخ ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے معاملہ میں کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے اس کے بعد پیش نہیں ہوگی، اسی لئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل ہے، جمعیۃ علماء ہند اس میں مداخلت کار ہے۔
مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عاملہ کا یہ اجلاس ایک ایسے نازک وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لا قانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کے ذریعہ کئے جانے والے پرامن احتجاج کو بھی ملک دشمنی سے تعبیر کر کے قانون کی آڑ میں ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے رسول اقدس ﷺ کی شان میں دانستہ گستاخی کی گئی، اور ان گستاخوں کی گرفتاری کے مطالبہ کو لیکر جب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی گئیں، گرفتاریاں ہوئیں یہاں تک کہ اس کی پاداش میں بہت سے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیا گیا، سنگین دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں، یعنی جو کام عدالتوں کا تھا اب وہ حکومتیں کر رہی ہیں۔ اب نہ ملک میں عدالتوں کی ضرورت ہے اور نہ جج درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس احتجاج کو دیکھنے کے دو پیمانہ ہیں، مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم؛ لیکن اگر اکثریت کے لوگ احتجاج کریں اور سڑکوں پراتر کر پرتشدد کاروائیاں انجام دیں اور پوری پوری ریل گاڑیاں اور اسٹیشن پھونک ڈالیں تو انہیں تتر بتر کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا مظاہرہ اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک ہے۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ فوج میں ٹھیکہ کے نوکری کے خلاف ہونے والا پرتشدد احتجاج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، احتجاجیوں نے جگہ جگہ ٹرینوں میں آگ لگائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، پولس پر پتھر بازی کی تو وہی پولس جو مسلمانوں کے خلاف تمام حدیں توڑ دیتی ہے خاموش تماشائی بنی رہی اس پرتشدد احتجاج کو لیکر جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کے خلاف ایسی ہلکی دفعات لگائی گئی ہیں کہ تھانہ سے ہی ان کی ضمانت ہوسکتی ہیں۔ اتر پردیش پولس کا ایک بڑا افسر ان واقعات پر یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہی بچے ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔
مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اپنے رسولؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے کیا دشمن کے بچے تھے؟ انہوں نے کہاکہ اب اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے، ایک بھارت شریشٹھ بھارت اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کو بھی مذہبی رنگ دیدیا ہے، اکثریت کے لئے قانون الگ ہے، اور اقلیت کے لئے الگ، سوال یہ ہے کہ اب اگر ملک میں پر امن احتجاج کرنا جرم ہے تو جن لوگوں نے پرتشدد احتجاج کیا ان کے گھروں کو ابتک مسمار کیوں نہیں کیا گیا؟ مولانا مدنی نے آگے کہا کہ گستاخی کرنے والے لیڈروں کی معطلی کا جو خط بی جے پی کے دفتر کی طرف سے لکھا گیا تھا اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ پارٹی ملک کے آئین پر عمل کرتی ہے، اور تمام مذاہب کے تئیں احترام کا جذبہ رکھتی ہے، اگر ایسا ہے تو گستاخی کرنے والے لیڈر اب تک آزاد کیوں ہیں؟ جو لوگ گستاخی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کریں، انہیں سنگین دفعات لگا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، اور جن لوگوں کی دریدہ دہنی کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے وہ اب بھی آزاد ہیں، کیا قانون کے دوہرے استعمال کی اس سے بدترین کوئی دوسری مثال ہوسکتی ہے؟
مولاںا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کا ملک بھر میں پرتشدد احتجاج حکومت کے لئے ایک انتباہ ہے، اگر ملک کی ترقی کے بارے میں نہیں سوچا گیا، روزگار کے وسائل نہیں پیدا کئے گئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے تمام نوجوان سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ مذہب کا نشہ پلاکر عوام کو بہت دنوں تک بنیادی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا، روٹی کپڑا اور مکان انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جسکو نظر انداز کیا جانا ملک کی فلاح وبہبود کے لئے اچھی علامت نہیں، اب بھی وقت ہے حکومت ہوش کے ناخن لے مذہب اور نفرت کی سیاست ترک کر کے عوام بالخصوص نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے ورنہ وہی سب کچھ یہاں بھی شروع ہو سکتا ہے، جس کا نظارہ پوری دنیا سری لنکا میں کر چکی ہے۔ مولانا مدنی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا حل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ملک میں نفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جو طوفان برپا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹی وی چینلوں پر جو نفرت سے بھری شرانگیز بحثیں ہوتی ہیں، اس پر پابندی لگائی جائے اس سلسلہ میں حکومت کو بہت پہلے سے سخت موقف اختیار کرنا چاہئے تھا، لیکن ہمارے تمام تر مطالبوں کے باوجود حکومت نے ایسا نہیں کیا؛ چنانچہ مجبور ہو کر جمعیۃ علماء ہند کو اس کے خلاف عدالت میں پٹیشن داخل کرنی پڑی، اس پٹیشن پر اب تک 13/ سماعتیں ہو چکی ہیں؛ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ اس پر اب تک حتمی بحث نہیں ہوسکی ہے، انہوں نے کہاکہ ملک سے اس وقت تک نفرت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک ان متعصب ٹی وی چینلوں پر ہونے والی یکطرفہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ اور بحثوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی انہوں نے آخر میں کہا کہ اب پانی سر سے اوپر ہوتا جارہا ہے، اگر اب بھی حکومت نے اس تعلق سے کچھ نہیں کیا تو ملک میں امن واتحاد خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند سیاسی جماعتوں، ملک کے دانشوروں، سماجی تنظیمیں اور مختلف شعبہئ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ اپنے اثرات کا استعمال کر کے ملک کے بگڑتے ہوئے ماحول کو بچانے کی کوشش کریں، جس نے ملک کی یکجہتی، آئین ودستور اور سلامتی کے شدید خطرات پیدا کر دیئے گے ہیں۔
اجلاس میں جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا گیا، شرکاء میں مولانا عبد العلیم فاروقی لکھنو، جناب گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر، مفتی غیاث الدین احمدرحمانی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق احمد عنفر، مولانا عبد الہادی پرتاپ گڑھی، مولانا سید اسجد مدنی دیوبند، فضل الرحمن قاسمی، مولانا عبدالرشید قاسمی، مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی، مولانا قاری شمس الدین، حاجی سلامت اللہ دہلی، مفتی اشفاق احمد سرائے، مولانا بدر احمد مجیبی، مفتی عبد القیوم منصوری، جناب فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کے علاوہ مولانا حلیم اللہ قاسمی، مولانا عبد القیوم قاسمی، مفتی محمد احمد، مفتی محمد راشد، مولانا محمد مسلم قاسمی، جناب شاہد ندیم ایڈوکیٹ، مفتی حبیب اللہ قاسمی راجستھان، مولانا محمد خالد قاسمی اور مولانا مکرم الحسینی بیگوسرائے بطور مدعو خصوصی شریک ہوئے۔
(جنرل (عام
دہلی کے جھنڈے والان میں سی جے پی کے زیرِ حراست مظاہرین کو لے جانے والی بس پر پتھراؤ کیا گیا۔

نئی دہلی : نئی دہلی کے جھنڈےوالان علاقے میں ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے افراد کو لے جانے والی ایک بس پر پتھراؤ کیا گیا جب پولیس کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج کے لیے جنتر منتر کے قریب پہنچنے والے لوگوں کو حراست میں لے رہی تھی۔ بس پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے پولیس نے مزید کارروائی کا اشارہ کیا۔ تاہم، پولیس انہیں دوبارہ حراست میں لینے میں کامیاب رہی اور بعد ازاں انہیں مقررہ مقام پر بھیج دیا گیا، حکام نے بتایا۔ دریں اثنا، جھنڈے والان میٹرو اسٹیشن کے آس پاس سیکورٹی کے انتظامات کو مضبوط کیا گیا ہے، جہاں صورتحال کو سنبھالنے اور مزید خلل کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری تعیناتی اور ٹریفک پابندیاں برقرار ہیں۔
اس واقعے کے نتیجے میں جھنڈےوالان اور اس کے آس پاس ٹریفک کا نمایاں رخ بھی بدل گیا، جس کی وجہ سے علاقے میں گاڑیوں کی نقل و حرکت میں تبدیلی آئی کیونکہ پولیس نے اپنی حفاظتی کارروائیاں جاری رکھی تھیں۔ اس دوران، پولیس نے ہفتہ کو قومی دارالحکومت میں 1,000 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا جب وہ مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر جی ایس سی ای ایس کمار کے خلاف سی جے پی کی طرف سے بلائے گئے ایجی ٹیشن میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ مجوزہ احتجاج کے پیش نظر کیپٹل ریجن (این سی آر)۔ حکام نے امن و امان کو برقرار رکھنے اور مظاہرین کو جنتر منتر پر مقررہ مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اضافی انتظامات کیے ہیں۔ پولیس نے جمعہ کو کہا کہ سی جے پی کے احتجاج کے لیے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے کیونکہ منتظمین قانونی ہدایات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور پہلے احتجاج کے دوران ان کے اپنے اقدامات۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے، سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رنکا کے ساتھ، جب وہ جنتر منتر پر احتجاج سے پہلے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے (آئی جی آئی اے) پہنچے تو حراست میں لے لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے دھرو راٹھی کو بھی گروگرام میں ان کی رہائش گاہ پر حراست میں لیا گیا۔ چیف جسٹس کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ کے مطابق، سادہ کپڑوں میں تقریباً 50 پولیس اہلکار صبح 8 بجے گروگرام میں راٹھی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
(جنرل (عام
’’ہم جوہری بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکیں گے‘‘: بھارت کی پاکستان کو وارننگ، دہشت گردی کے خلاف سخت جواب دینے کا عزم

اقوام متحدہ : ہندوستان نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلام آباد سے جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو استعمال کرتے ہوئے اپنی دہشت گردی کے اثرات سے بچنے کی کوشش کرنے سے باز نہیں آئے گا اور دہشت گرد حملوں کا جواب دے گا۔ “بھارت جوہری بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گا”، انمول شیر بیدی، اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ہندوستان کے مستقل مشن کے سینئر مشیر انمول شیر بیدی نے جمعہ کو کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کانفرنس میں پاکستان کو دہشت گردانہ حملے کے نوٹس پر پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے خلاف مناسب جواب ملے گا” اور یہ “دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والوں اور اس کے ماسٹر مائنڈ میں کوئی فرق نہیں کرے گا”۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف گزشتہ سال آپریشن سندھ نے پہلگام میں پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کے ذریعہ دہشت گردانہ حملے کی “سنگین اشتعال انگیزی” کی جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے، انہوں نے کہا۔
انہوں نے کہا، “ہندوستان نے اپنے دفاع کے لیے کام کیا”، اور “ان کارروائیوں کو ناپا، ہدف بنایا، اور اس لیے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ غیر بڑھنے والے ہوں”۔ “ایٹمی ہتھیاروں کو ریاستی جہاز کے معمول کے آلات کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے” اور “ایسی کرنسی جو کہ ذیلی روایتی سرگرمیوں کے نتائج کو محدود کرنے کے لیے جوہری اوور ہینگ پر انحصار کرتی ہے”، اس نے کہا کہ ملاقات کے موقع پر ہونے والے خطرے کو بڑھاتا ہے اور اس سے ملاقات کا خطرہ نہیں ہوتا۔ جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی کی نیویارک جو تخفیف اسلحہ کے مسائل سے نمٹتی ہے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی کو جواب دے رہے تھے جنہوں نے نیویارک کے اجلاس میں بات کی تھی۔ بیدی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ہندوستان کی جوہری صلاحیتیں کسی کی طرف متوجہ نہیں ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ وہ “دفاعی نوعیت کے اعتبار سے ہیں، ہماری حفاظت کے لحاظ سے، پاکستان کی شکل میں ماحولیات کے برعکس”۔ نے نو فرسٹ اسٹرائیک کی پالیسی کا اعلان کیا ہے، یعنی یہ کسی بھی ملک کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرنے والا پہلا نہیں ہوگا۔ انہوں نے بِٹس پلانی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی ہے اور چین میں مینڈارن کی تعلیم حاصل کی ہے۔
انہوں نے جوہری تعاون کے لیے پاکستان کے مطالبے کے پیچھے حقائق کو بے نقاب کیا، اس کے جوہری پروگرام کے سربراہ عبدالقدیر خان کے ذریعے چلائے جانے والے جوہری بازار کا حوالہ دیتے ہوئے، جس نے دوسرے ممالک کو جوہری بم کی معلومات فراہم کی اور شمالی کوریا کے ساتھ میزائل ٹیکنالوجی کے لیے جوہری مواد کی تجارت کی۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 تقریباً دو دہائیاں قبل کی گئی تھی۔” انہوں نے کہا کہ “یہ بلاشبہ جوہری تعاون اور جدید ہتھیاروں اور فوجی صلاحیتوں کی منتقلی کے مطالبات کے تناظر میں متعلقہ ہے۔” انہوں نے کہا، “ہم تمام ریاستوں اور تمام ذمہ دار سپلائرز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ ترین چوکسی اختیار کریں، نہ کہ ہندوستان کی وجہ سے، بلکہ اپنی سلامتی کے لیے”، انہوں نے کہا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 1540، جو 2004 میں منظور کی گئی تھی، ایک پابند اقدام ہے جو تمام ممالک کو دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی منتقلی سے روکتا ہے، جسے خوشامد کے ساتھ “نان اسٹیٹ ایکٹرز” کہا جاتا ہے، یا انہیں حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحرانوں کے چکروں کا استعمال کر رہا ہے؟”بھارت کے تجربے میں، خطے کے بحرانوں نے بار بار چلنے والی طرز کی پیروی کی ہے: پہلا، اشتعال انگیزی؛ دوسرا، ذمہ داری سے انکار؛ اور تیسرا، ایک بار ردعمل آنے کے بعد تحمل سے کام لینے کی اپیل”، انہوں نے کہا، “اس طرح عدم استحکام کارآمد ہوتا ہے، اور اس طرح اس نے کہا کہ اس سائیکل کو دہرایا جاتا ہے”۔ پاکستان کے نظام حکومت کے ذریعے فعال ہے جہاں اصل طاقت فوج کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والے نہ تو عوام کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں، ان کے فیصلوں میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں لینے والوں پر کوئی قیمت عائد نہیں ہوتی۔ “اس طرح بحران طاقت کا آلہ بن جاتا ہے”۔ جہاں اصل طاقت سویلین حکومت کے چہرے کے پیچھے اسلام آباد میں ہے وہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران واضح ہو گئی، جب انہوں نے فوجی سربراہ عاصم منیر سے ملاقات کا غیر معمولی قدم اٹھایا، جب کہ فوجی رہنماؤں کے ساتھ باضابطہ بات چیت ان کے معمول کے سفر نامے میں شامل نہیں ہے۔ بیدی نے کہا کہ بھارت میں پانی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اعتماد اور تعاون کے مفاہمت پر، اور پاکستان نے انہیں نقصان پہنچایا۔ جہاں تک اندرابی نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، پاکستان ایسا کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ میٹنگ کے ایجنڈے میں کوئی بھی موضوع ہو، بیدی نے کہا، “جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں کو خالی کر کے واپس کیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گوریگاؤں – ملنڈ لنک روڈ سے متاثرہ 180 تعمیرات کا انخلا، ایس وارڈ کی کارروائی

ممبئی : ایس-وارڈ نے گوریگاؤں ملنڈ لنک روڈ سے متاثرہ 180 تعمیرات کو ہٹانے کے لیے ایک آپریشن کیا۔ یہ منصوبہ ممبئی کے مغربی اور مشرقی مضافات کو آپس میں ملانے اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ کارروائی کھنڈی پاڑہ سوناپور کے علاقے میں عمل میں لائی گئی۔ اس کے نتیجے میں، ایس وارڈ کی حدود میں گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ کا راستہ اب بڑی حد تک صاف ہو گیا ہے۔ گوریگاؤں ملنڈ لنک روڈ کی کل لمبائی 12.20 کلومیٹر ہے۔ یہ منصوبہ چار مراحل میں مکمل کیا جا رہا ہے اور اس میں سڑکوں، زیرِ زمین سرنگ اور فلائی اوورز کی تعمیر شامل ہے۔ ایس-وارڈ کی حدود میں آنے والے کھنڈی پاڑہ-سوناپور کے مقام پر تقریباً 180 تعمیرات لنک روڈ کی تعمیر میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں؛ اب ان تعمیرات کو ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ مہم ڈپٹی کمشنر (زون 6) کی رہنمائی اور ایس-وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر کی قیادت میں چلائی گئی۔ اس انخلاء کے آپریشن میں 30 سے زائد میونسپل انجینئرز اور 100 عملے کے ارکان شامل تھے، اور اس دوران 4 پوکلین (پوکلین) مشینیں، 4 جے سی بی (جے سی بی) مشینیں اور 10 ڈمپر جیسی مشینری کا استعمال کیا گیا۔ آپریشن کے لیے پولیس کے 90 اہلکاروں پر مشتمل دستہ بھی تعینات کیا گیا تھا۔ایس-وارڈ کی حدود میں گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ کی راہ میں حائل تقریباً تمام تعمیرات اب ہٹا دی گئی ہیں۔ اس سے گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ کو کشادہ کرنے کے کام کے آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تمام نشاندہی شدہ رکاوٹوں کو دور کر کے سڑک کو کشادہ کرنے اور منصوبے کی آئندہ سرگرمیوں کے لیے راستہ صاف کر دیا گیا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور تعمیراتی ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ملبہ ہٹائے جانے کے بعد، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ سائٹ منصوبے کے اگلے مراحل کے لیے وقت پر دستیاب ہو۔ میونسپل کارپوریشن نے اس منصوبے سے متاثرہ 108 اہل رہائشیوں کی بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
