Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

جمعیۃ علماء ہند بھی سوسائٹی کا ایک حصہ، یوپی حکومت کے اعتراض پرسپریم کورٹ کا تبصرہ، اس طرح کے ظلم پرجمعیۃ علماء ہند خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی : مولانا ارشد مدنی

Published

on

Jamiat Ulema-i-Hind

یوپی کے مختلف اضلاع میں ایک ہفتہ سے جاری غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ عرضی پر آج سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے یو پی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جمعیۃ علماء کے وکلاء نے عدالت سے اسٹے کی گذارش کی تھی، لیکن عدالت نے یہ کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب یو پی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بلڈوزر نہیں چلایا جائے گا، اور اگر کسی غیر قانونی عمارت کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانونی کارروائی مکمل کیئے بغیر کسی طرح کی انہدامی کارروائی انجام نہ دی جائے۔ آج تقریباً آدھا گھنٹے تک بحث چلی جس کے دوران فریقین کی جانب سے گرما گرم بحث ہوئی۔ دو رکنی تعطیلاتی بینچ کے جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن اور سی یو سنگھ پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ کارروائی پر عدالت نے غیر قانونی بلڈوزر انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی یوپی میں غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے، جس پر روک لگانا ضروری ہے، نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہے، جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑا کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران اور آزادی سے پہلے بھی ایسی بربریت نہیں ہوئی تھی، جیسی آج یو پی میں کی جا رہے۔ یوپی ریاست کے اعلی افسران نے میڈیا میں کھلے عام بیان دیا کہ بلڈوز کا استعمال فساد کرنے کا بدلا ہے، جسے ایک ایک ملزم سے لیا جائے گا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ جاوید نامی ایک شخص کا مکان منہدم کیا گیا جو اس کے نام پر تھا ہی نہیں، بلکہ مکان اس کی اہلیہ کے نام پر تھا، اسی طرح دیگر مکانات کو بھی غیر قانونی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کر کے دوسرے ہی دن سخت پولس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی، جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔

یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ آج عدالت میں متاثرین کی بجائے جمعیۃ علماء ہند آئی ہے، جس کی پراپرٹی کو نقصان نہیں ہوا ہے، جس پر بینچ نے انہیں کہا کہ لا قانونیت نہیں ہونا چاہئے، اس کو مدعا نہیں بنانا چاہئے کہ کون عدالت کے سامنے آیا ہے، جمعیۃ علماء بھی سوسائٹی کا ہی حصہ ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کا گھر بلڈوز کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ عدالت نہیں پہنچ پاتا۔ جسٹس بوپنا نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے سے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت کا مداخلت کرنا ضروری ہے اور اگر عدالت نے مداخلت نہیں کی تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ انصاف ہوتے ہوئے دکھائی دینا چاہئے، لہٰذا ابھی تک کی گئی انہدامی کارروائی پر اگلی سماعت پر عدالت میں حلف نامہ داخل کریں۔

وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ 1958 / کی دفعہ 10/ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے، اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اتھاریٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے، اس کے باوجود بلڈوز چلایا جا رہا ہے۔

یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے وکلاء نے بتایا کہ شو کاز نوٹس دینے کے بعد ہی انہدامی کاررائی انجام دی گئی ہے نیز حکومت کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جس پر اعتراض کیا جائے، یو پی حکومت اس تعلق سے حلف نامہ داخل کرنے کو تیار ہے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے عرضی پر سپریم کورٹ کی فوری مداخلت اور عدالت کے ذریعہ اتر پردیش سرکار کو تین دن کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ عبوری حکم خوش آئند ہے، اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں آئین اور دستور ہے، قانون پر عمل کرنا سبھی کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ پر امن احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہ دینا احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرنا، انہیں گرفتار کر لینا، پولس اسٹیشن میں جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا، اور ان کے مکانوں کو مسمار کر دینا کھلا ہوا جبر و استبداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو ان کے جمہوری اور دستوری حق سے محروم کرنے کی سازش ہے۔

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا یہ کہنا کہ جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ آنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ متاثرین کو خود آنا چاہیے۔ تشار مہتا کی یہ بات سراسر غلط ہے کیوں کہ جمعیۃ علما ہند کا ہمیشہ سے مظلوموں کو انصاف دلانے اور انسانیت کی بنیاد پہ بلا تفریق مذہب و ملت خدمت کرنا اس کا مشن ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسی مشن کے تحت میدان میں آئی ہے۔ جن علاقوں میں انہدامی کاروائی ہوئی ہے وہاں کے لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے متاثرین اور انصاف پسند عوام کی درخواست پر ہی سپریم سے کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت سیکولرزم کی حفاظت کے لئے مضبوط فیصلہ کرے گی تاکہ ملک امن وامان سے چلتا رہے، اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں وہ یہ جان لیں کہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کی جنگ آزادی میں ہراول دستے کے طور پر کام کیا تھا اور ہمارے بزرگوں نے وطن کی آزادی کے لئے ہنس ہنس کراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس لئے جمعیۃ علماء ہند ملک کی آئین کو تباہ و برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی اس طرح ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بن کر رہ سکتی ہے۔

(جنرل (عام

امریکہ نے نیپال کو ہنگامی امداد، ڈیزاسٹر رسپانس ایڈوائزر بھیجا۔

Published

on

ریاستہائے متحدہ نیپال میں ڈیزاسٹر رسپانس ایڈوائزر کو تعینات کر رہا ہے اور ملک کے ضلع رسووا میں تباہ کن سیلاب سے متعدد افراد کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد ہنگامی امداد میں $500,000 فراہم کر رہا ہے۔ محکمہ خارجہ نے بدھ (مقامی وقت) کو امداد کا اعلان اس وقت کیا جب اقوام متحدہ نے نیپال کی حکومت کے زیر انتظام ردعمل کی حمایت کے لیے سامان اور عملے کو متحرک کیا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا، “امریکہ نیپال کے راسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب میں جانیں گنوانے والوں کے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔” “ہمارے خیالات اس آفت سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔” محکمہ نے کہا کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں حالات کی قریب سے نگرانی کر رہا ہے۔ ڈیزاسٹر ریسپانس ایڈوائزر زمین پر امدادی کارروائیوں میں معاونت کرے گا۔ $500,000 کی امداد کیتھولک ریلیف سروسز کے ساتھ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عالمی ایوارڈ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

فنڈنگ ​​ہنگامی پناہ گاہوں اور امدادی سامان کی تقسیم میں معاونت کرے گی۔ اس سے سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کو پانی، صفائی اور حفظان صحت کی مدد فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ محکمہ نے کہا کہ کھٹمنڈو میں امریکی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں امریکی شہریوں کی تلاش اور مدد کر رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امریکیوں کو مقامی خبروں پر نظر رکھنے اور مقامی حکام کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے نیپال اور چین میں شدید سیلاب پر افسوس کا اظہار کیا، جہاں اس آفت سے لوگ ہلاک ہوئے، دیگر لاپتہ ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔”سیکرٹری جنرل نیپال اور چین میں آنے والے شدید سیلاب سے غمزدہ ہیں، جس نے بہت سے لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، لوگ لاپتہ ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے،” ان کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے نیویارک میں جاری ایک بیان میں کہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ “وہ متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہیں۔ وہ تمام متاثرہ افراد کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں”۔اقوام متحدہ نیپال کی حکومت کی مدد کر رہا ہے کیونکہ حکام آفت کے پیمانے کا اندازہ لگاتے ہیں اور فوری امداد فراہم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیمیں اور انسانی ہمدردی کے شراکت دار سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے عملے اور سامان کو متحرک کر رہے ہیں۔

امریکہ اور اقوام متحدہ کے اعلانات میں پناہ گاہ، بنیادی امدادی سامان، محفوظ پانی، صفائی اور حفظان صحت پر فوری توجہ دی گئی۔ جواب میں نقصان کی حد کا تعین کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے جائزے بھی شامل ہیں کہ متاثرہ کمیونٹیز کو مزید کس امداد کی ضرورت ہے۔ نیپال سالانہ مون سون کے موسم کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

گجرات نے نیپال کے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔

Published

on

گجرات حکومت نے ریاست کے شہریوں اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے ہیلپ لائن اور ہنگامی رابطہ نمبر جاری کیے ہیں جو نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ گجرات کے رہائشیوں اور ان کے اہل خانہ کو معلومات یا مدد کے حصول کے لیے ریاستی کنٹرول روم سے 079-232-51900 یا 9978405304 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ وہ ریاستی ہیلپ لائن 1070 یا متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر سے بھی 1077 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

یہ ایڈوائزری بدھ کے روز شمالی اور وسطی نیپال کے کچھ حصوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور سینکڑوں لوگ لاپتہ ہو گئے۔ سیلاب، جس نے تبت کی سرحد کے قریب راسووا ضلع میں دریائے بھوٹے کوشی کے آس پاس کے علاقوں کو متاثر کیا، گاڑیاں، پل اور دیگر انفراسٹرکچر بہہ گئے اور علاقے میں نقل و حرکت میں خلل پڑا۔ متاثر ہونے والوں میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔

نیپال سے ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 160 افراد ہلاک اور 750 سے زائد لاپتہ ہیں، جن میں 133 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، جن میں سیاح اور اس خطے میں سفر کرنے والے زائرین بھی شامل ہیں۔ صورتحال نے ہندوستانی حکام اور کئی ریاستی حکومتوں کو متاثرہ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی معلومات اور مدد کے لیے وقف چینلز قائم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سیلاب۔ وہ مدد اور معلومات کے لیے +977 985 131 6807 یا +977 970 910 7500 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس بحران کے جواب میں سفارت خانہ نیپال میں حکام کے ساتھ بھی رابطہ کر رہا ہے۔

اچانک سیلاب نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی کارروائیوں کو شروع کر دیا ہے، نیپالی حکام پھنسے ہوئے یا لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر اور دیگر وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس آفت نے پہاڑی علاقے میں اہم ٹرانسپورٹ روابط اور انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے۔ گجرات حکومت نے ضرورت مند شہریوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مدد کے لیے نامزد کردہ نمبروں پر رابطہ کریں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نبی پاک صرف انسانوں کے نہیں جانوروں کیلئے بھی رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے

Published

on

ممبئی سرکار کی آمد مرحبا آقا کی آمد مرحبا کے فلک شگاف نعروں سے ممبئی کی سڑکیں اس وقت گونج اٹھیں جب خلافت ہاؤس سے تاریخی جلوس محمدی نکالا گیا اس جلوس کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا جلوس میں ڈف بجا کر عاشقان رسول کے قافلہ نے راستہ میں نعت و منقبت پڑھی عاشقان رسول کا قافلہ مسلم اکثریتی علاقے ناگپاڑہ مد نپورہ ، دو ٹانکی سمیت دیگر شاہراہوں سے گزرتا ہوا مستان تالا ب پر نعت و منقبت اور دعا پر پرامن اختتام پر پہنچا ۔ جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ سیرت پاک بیان کرتے ہوئے علما کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا انہیں کے صدمہ میں ملی ہے ۔

اس جلسہ سے خطاب فرماتے ہوئے مفتی حضرت علامہ خلیق اشرف پرنسپل دارالعلوم اشرفیہ مظہر العلوم نے فرمایا کہ اعلان نبوت سے ۴۰ سال پہلے تک لوگ انسان ضرور تھے لیکن انسانی صفت نہیں تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی دھرتی پر دانو یعنی درندوں کو انسان بنایا میرے نبی پاک انسانوں کےلیے ہی رحمت بن کر تشریف نہیں لائے تھے بلکہ وہ جانوروں کےلیے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہرن مالک کے گھر حاضر ہوئے تھے ہرن نے کہا کہ اس کے دو بچے ہیں وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے مالک کو کہا کہ یہ ہرن دو بچوں کی ماں ہے اور وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اور دودھ پلاُکر واپس آجائے گی اس کےبعد مالک نے کہا کہ ہرن واپس آجائے گی اس کی ضمانت کون دے گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کی واپسی کی ضمانت دی اور ہرن دودھ پلاُکر واپس آگئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی اس مالک ہرن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرن عنایت فرمائے اور پھر آپ نے اس کی رسی کھول کر اسے آزاد کروایا تو ہرن یہ کہہ اٹھی کہ آپ محمد مصطفی صلہ اللہ علیہ وسلم ہوں آپ ہی مجھے آزاد کر سکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرتے تھے۔

یہ جلوس محمدی اس وقت کامیاب ہو گا جب جلوس میں انسانیت کا ثبوت دیا جائے راستہ میں اگر ایمبولینس آجائے تو اسے راستہ دیا جائے عید میلاد النبی میں فلاحی کاموں کو ترجیح دیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر نیک عمل کیا جائے یہی ہماری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خراج عقیدت ہو گی ۔ قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چئیر پرسن سچن اہیر نے کہا کہ حضورﷺ نے امن کا پیغام عام کیا ہے وہ عدل و انصاف انسانیت کے علمبردار ہیں ۔جلوس عید میلادالنبی میں بھائی چارگی امن کے پیغام کو عام کیا جاتا ہے اور اتحاد کو فر وغ پہنچتا ہے ہم مختلف ضرور ہے ہمارے عبادت کے طریقے منفرد ہے لیکن ہمارا وطن ایک ہے اور یکجہتی کو فروغ دینا ہی ہمارا مقصد ہے ۔ رکن پارلیمان کانگریس سنئیر لیڈر عمران پرتا پ گڑھی نے شعر سے اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں احترام کے قابل ہے جتنے لوگ میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کےبعدعمران پڑتاپ گڑھی نے خلافت تحریک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک کے ساتھ گاندھی جی نے مل کر تحریک عدم تعاون شروع کی تھی ۔

اللہ کے رسول کو جب دنیا میں اتارا گیا تو پورے عالم کےلیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا ۔ ہندوستان گلدستہ کی مانند ہے اور اس ملک کی آزادی میں ہم نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں ۔ اس لیے اس ملک کی یکجہتی اور اتحاد ہی اس کا خاصہ ہے ۔ سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جلوس نہیں ہوتا اللہ رب العزت کے کرم سے ہم سب نبی پاک کا میلاد منانے کےلیے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روئے زمین پر رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں اور ہم عاشق رسولﷺ ان کا میلاد مناتے ہیں ۔ رکن اسمبلی منوج جامستکر نے کہا کہ خلافت کمیٹی تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور یہا ں سےہی جلوس میلاد نکالا جاتا ہے جہالت ،ظلم و ستم کی زنجیروں کو آپ صلی اللہ علیہ نے توڑ ا اور انسانیت کونئی زندگی عطا کی ہے ۔

جلسہ کے بعد صلوٰۃ و سلام کے بعد اس جلسہ نے جلوس کی شکل اختیا ر کر لی جلوس میں قائد جلوس علامہ خلیق اشرف ، کانگریسی لیڈر اور رکن پارلیمان عمران پرپاپ گڑھی ، رکن اسمبلی امین پٹیل سمیت دیگر کھلی جیپ میں سوار ہو کر جلوس کی قیادت کی بائیکلہ پھل مارکیٹ کی جانب سے جلوس کا شاندار استقبال کیا گیا اس قائدین کی گاڑی سے پہلے عاشقان رسول کا قافلہ نبی رحمت کی نعت و منقبت صف بجا کر ادب و احترام کے ساتھ تعظیمی انداز میں پیش کر رہا تھا جو انتہائی منفرد تھا اس جلوس میں مقام مقدسہ کی جھانکیاں بھی شامل تھیں جس میں ٹرکوں پر مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ کی پر کشش اور روحانی جھانکیاں بھی شامل کی گئیں تھیں عید میلاد النبی کے پیش نظر پولس نے بھی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے ایڈیشنل کمشنر سینٹرل ریجن وکرم دی مانے جلوس عملہ کے ہمراہ جلوس کی سیکورٹی پر مامور تھے جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی ناخواشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان