Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

زیر سماعت قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کے مظاہرے کی ضرورت : مودی

Published

on

MODI.

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلی عدالتوں کی کارروائی میں علاقائی زبانوں کو شامل کرنے اور عدالتی عمل کو آسان اور کم خرچ والا بنانے کے لیے جدید وسائل اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔

مسٹر مودی نے جیلوں میں انصاف کے منتظر قیدیوں کے معاملات میں حساس طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو زیر سماعت قیدیوں کے مقدمات کا فیصلہ انسانی جذبات اور قانون کی بنیاد پر ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے، اور اگر ممکن ہو تو اس طرح کے قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

مسٹر مودی ہفتہ کو وگیان بھون میں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ افتتاحی اجلاس سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور وزیر قانون کرن رجیجو نے بھی خطاب کیا۔

جسٹس رمنا نے مسٹر مودی کے سامنے اپنے بیان میں عدالتی عمل میں ہندوستانی زبانوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح کی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ججوں اور عدالتی افسران کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم مودی نے وزرائے اعلیٰ سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ لوگوں کو غیر ضروری قوانین کے چنگل سے نجات دلانے کے لیےان قوانین کو ختم کرنے کی پہل کریں جو اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں مرکزی حکومت نے 1,800 ایسے قوانین کی نشاندہی کی تھی جو اپنی اہمیت وافادیت گنوا چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے 1450 قوانین کو مرکز نے ختم کر دیا ہے، لیکن ریاستوں کی طرف سے صرف 75 قوانین ختم کئے گئے ہیں۔

مسٹر مودی نے زیر سماعت قیدیوں کی حالتِ زار کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 3.5 لاکھ قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر غریب یا عام لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں تمام وزرائے اعلیٰ، ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سے اپیل کروں گا کہ وہ انسانی جذبات اور قانون کی بنیاد پر ان معاملات کو ترجیح دیں۔‘‘

اس تناظر میں مسٹر مودی نے کہا کہ ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہوتی ہے جو اس طرح کے معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، زیر سماعت قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

مسٹر مودی نے عدالتوں میں مقامی زبانوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا، “اس سے ملک کے عام شہریوں کا نظام انصاف میں اعتماد بڑھے گا اور وہ اس سے جڑے ہوئے محسوس کریں گے۔” انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سوراج کی بنیاد انصاف ہے۔ انصاف عوام کی زبان میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان سماجی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی وجہ سے عدالتی فیصلوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عام لوگ عدالتوں کے فیصلوں اور حکومتی احکامات میں فرق نہیں کر پاتے۔

مسٹر مودی نے کہا، ’’سماجی انصاف کے لیے عدلیہ کے ترازو تک جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، کئی بار زبان بھی سماجی انصاف کا ذریعہ ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ بہت سی ریاستوں نے مادری زبان میں تکنیکی اور طبی تعلیم فراہم کرنے کی پہل کی ہے۔

مسٹر مودی نے عدلیہ میں ٹکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “حکومت ہند بھی عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل انڈیا مشن کا ایک لازمی حصہ سمجھتی ہے۔” انہوں نے کہا ای – عدالت منصوبوں کو آج ایک مہم کی طرح نافذ کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نےہندوستان میں ہو رہے ڈیجیٹل انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں اور یہاں تک کہ دیہاتوں میں بھی ڈیجیٹل لین دینا عام ہو گیا ہے۔ دنیا کے تمام ڈیجیٹل لین دین میں سے 40 فیصد لین دین ہندوستان میں ہوئے۔ اسی تناظر میں انہوں نے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق قانونی کورسز میں نئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آج کل بہت سے ممالک کی لاء یونیورسٹیوں میں بلاک چین، الیکٹرانک ڈسکوری، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، آرٹیفیشل کلاؤڈ اور بائیو ایتھکس جیسے مضامین پڑھائے جانے لگے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے ملک میں بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی تعلیم ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں معاملات کے تصفیہ کے لئے ثالثی اہم ہے، ملک میں ثالثی کے ذریعہ اختلافات کو ختم کرنے کی پرانی روایت ہے۔ یہ انصاف کا ایک مختلف انسانی تصور ہے اور یہ روایت آج بھی ملک میں جاری ہے۔ ملک نے ان روایات کو کھویا نہیں ہے، ہمیں انہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے انصاف سستا اور قابل رسائی ہوتا ہے اور بروقت ملتا ہے۔ اس سے انسانی رشتوں کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔

مسٹر مودی نے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ثالثی بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا میں ثالثی کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس ہمارے آئینی حسن کی زندہ عکاسی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹسز کی یہ کانفرنس ملک میں ایک موثر اور وقت کے پابند عدالتی نظام کے لئے آگے کا خاکہ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور آئی ٹی کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر ججوں کی اسامیوں کو پر کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اس میں ریاستوں کا بڑا رول ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کا کردار آئین کے محافظ کا ہے اور مقننہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ آزادی کے امرت میں ہمیں ایک ایسے عدالتی نظام کا خواب دیکھنا چاہیے جس میں انصاف فوری اور سب کے لیے ہو۔ مجھے یقین ہے کہ آئین کی ان دو ندیوں کا یہ سنگم، ملک میں موثر اور وقت کے پابند عدالتی نظام کے مستقبل کا نقشہ تیار کرے گا۔ آزادی کے گزشتہ 75 برسوں میں عدلیہ اور ایگزیکٹو دونوں کے کردار اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ جب بھی ضرورت پڑی دونوں کے درمیان تعلقات مسلسل اس طرح پروان چڑھے کہ ملک کو درست سمت ملتی رہی۔

انہوں نے کہا، “ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو کس طرح اس قابل بنائیں کہ یہ 2047 کی امنگوں پر پورا اتر سکے۔”

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی پارلیمنٹ نے ہرمز سے دشمن کے بحری جہازوں کو روکنے کا مسودہ پیش کیا، خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے

Published

on

Iran-Parliment

تہران : ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی قانون سازوں نے آبنائے ہرمز کے راستے ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے ایک بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس مسودے میں بعض جہازوں پر پابندیاں اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے شامل ہیں۔ یہ بل فی الحال ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے زیر غور ہے۔ اس بل کے علاوہ ایران آبنائے کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ پچھلے بل میں ایک ایسی شق شامل تھی جس کے تحت امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے بحری جہازوں کو ایران آبنائے سے گزرنے سے دشمن سمجھتا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق، نئی تجویز اپنا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دوسرے ممالک اور کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی جہازوں اور فوجی یا سویلین کارگو کو بھی معاوضے کی وصولی تک ٹرانزٹ سے روک دیا جائے گا۔ فارس نیوز نے بتایا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی پر جہاز کی کارگو ویلیو کا 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت آبنائے سے گزرنے کی اجازت والے بحری جہازوں سے محفوظ نیوی گیشن کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے نیوی گیشن سروس فیس وصول کرے گی۔ جہازوں کو یہ فیس ایرانی کرنسی میں ادا کرنی ہوگی۔

اس بل کا مسودہ تیار کرنے کی کوشش کا اعلان پہلی بار مارچ میں ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کیا تھا۔ اگلے مہینے، ایک مسودہ جاری کیا گیا تھا جس میں ایران کے دشمن سمجھے جانے والے ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں چھوٹ کے امکانات تھے۔ بل کا نیا ورژن مجوزہ پابندیوں کو مزید جہازوں تک پھیلاتا ہے اور اس میں کارگو بھی شامل ہے۔ ایرانی میڈیا نے حال ہی میں خبر دی تھی کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے بدھ کے روز کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسماعیل باغی نے کہا کہ مسقط اور تہران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن روٹ کے لیے جغرافیائی نقاط پر متفق ہو چکے ہیں۔ مشترکہ بیان کا جائزہ اور مسودہ تیار کرنے کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ اگر کوئی بیرونی فریق اس عمل میں مداخلت نہیں کرتا تو جلد مشترکہ بیان جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں طے پانے والے اہم نکات اور نظریات پر مبنی ہو گا، حالانکہ اس معاہدے کی حیثیت کے حوالے سے عمان کی جانب سے کوئی عوامی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

تسریم نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مجوزہ انتظامات کے تحت ایران اپنے زیر کنٹرول شپنگ لین کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے سمندری ٹریفک اور جہازوں کے جانے والے جہازوں کی نگرانی کرے گا اور اسے نیوی گیشن کی حفاظت اور حفاظت کے لیے ضروری مداخلت کا حق حاصل ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان