Connect with us
Thursday,26-March-2026

سیاست

یو پی : چھٹے مرحلے کی تیاریاں مکمل، ووٹنگ کل

Published

on

voting-management

اترپردیش میں چھٹے مرحلے کے تحت پوروانچل خطے کی 10 اضلاع کی 57 سیٹوں پر ووٹنگ کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جمعرات کو صبح 7 تا شام 6 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے پرامن و غیرجانبدارانہ الیکشن کے انعقاد کے لئے کمیشن نے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ہیں، جن اضلاع میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے، ان میں امبیڈکر نگر، بلرامپور، سدھارتھ نگر، بستی، سنت کبیر نگر، مہاراج گنج، گورکھ پور، کشی نگر، دیوریا اور بلیا شامل ہیں۔

چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے بتایا کہ اس مرحلے میں 2.14 کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.15 کروڑ مرد اور ایک کروڑ خاتون 676 امیدواروں کے انتخابی قسمت کو ای وی ایم میں قید کریں گے۔ اس مرحلے میں 66 خاتون امیدوار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے میں رائے دہندگان 13936 پولنگ مراکز کے 25326 پولنگ بوتھوں پر اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کرسکیں گے۔

وہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا مجموعی طور سے نو اسمبلی حلقے بشمول گورکھپور صدر، بانسی، اٹوہ، ڈومریا گنج، بلیا صدر، پھیپھنا، بیریا، سکندر پور اور بانسڈیہہ کو حساس اسمبلی حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے اس مرحلے میں 824 مزرعے اور بستیاں ایسی نشانزدی کی گئی ہیں، جہاں پر ناخشگوار واقعات پیش آ سکتے ہیں، وہیں 2962 پولنگ بوتھ کو کافی حساس زمرے میں رکھا گیا ہے۔

کمار نے کہا کہ اس مرحلے میں 109 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں، جہاں پر 19 خاتون انسپکٹر یا سب انسپکٹر اور 259 کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔ وہیں سنٹرل فورسز کی 797.94 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ یوپی پولیس کے 6783 انسپکٹر اور سب انسپکٹر، 57550 کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ 17.1 کمپنیاں پی اے سی، 46236 ہوم گارڈ، 1627 پی آرڈ جوان اور 15004 چوکیدار الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں۔

سابقہ مراحل میں مین اپوزیشن بالخصوص سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے سخت چیلنجز کا سامنا کرنے کے بعد حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو امید ہے کہ پوروانچل خطے میں اسے اپنے حریف پر سبقت حاصل ہوگی۔ آخری تین مراحل میں اپنی سبقت کو قائم رکھنے کے لئے بی جے پی نے اس مرحلے میں سخت انتخابی مہم چلائی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر جے پی نڈا، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بی جے پی اور اس کی اتحاد اپنا دل و نشاد پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں متعدد ریلیوں سے خطاب کیا۔

وہیں سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بھی اپنے امیدواروں کی حمایت میں عوامی ریلیوں سے خطاب کیا۔ یہ مرحلہ سابقہ مرحلے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اسی مرحلے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ بذات خود گورکھپور صدر سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ پہلی بار اسمبلی انتخاب لڑرہے ہیں۔

ایس پی نے سابق بی جے پی ریاستی صدر اوپیندر شکلا کی بیوی شبھابتی شکلا کو انتخابی میدان میں اتار کر مقابلے کو کافی دلچسپ بنا دیا ہے۔ وہیں آزاد سماج پارٹی کے صدر چندر شیکھر آزاد بھی یوگی کے خلاف انتخابی میدان میں ہیں۔

اس مرحلے میں یوگی کے 6 وزراء کا قار داؤ پر ہے۔ وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی ضلع کشی نگر کی پتھر دیوا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں سابق وزیر و ایس پی امیدوار برہما شنکر ترپاٹھی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اسی طرح سے وزیر صحت جئے پرتاپ سنگھ کو ضلع سدھارتھ نگر کی بانسی اسمبلی سیٹ سے ایس پی امیدوار نوین و بی ایس پی کے ہری شنکر سے چیلنج در پیش ہے۔

وزیر تعلیم (آزادانہ انچارج) ستیش چندر دیویدی ضلع سدھاتھ نگر کی اٹوہ سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں، جہاں سے انہیں سابق اسمبلی اسپیکر و ایس پی لیڈر ماتا پرساد پانڈے سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ وہیں مملکتی وزراء میں سے اننت سوروپ شکلا بلیا کی بیریا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ جئے پرکاش نشاد دیوریا کی رودر پور سیٹ سے قسمت آزما رہے ہیں۔ انہیں کانگریس کے سابق ایم ایل اے و قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ سے سخت چیلنج مل رہا ہے۔ وہیں شری رام چوہان کھجنی اسمبلی حلقے سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

اس مرحلے میں رائے دہندگان الیکشن سے عین قبل بی جے پی کو خیر آباد کہہ کر ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ کے بھی انتخابی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ سوامی پرساد موریہ ضلع کشی نگر کی اپنی روایتی سیٹ پڈرونہ چھوڑ کر فاضل نگر سے قسمت آزما رہے ہیں۔

سابقہ مرحلے کی طرح یہ مرحلے بھی کانگریس کی وقار کی لڑائی ہے۔ اس کے ریاستی صدر اجئے کمار للو ضلع کشی نگر کے تمکوہی راج اسمبلی حلقے سے انتخابی میدان میں ہیں۔ جبکہ دیگر معروف چہروں میں گینگسٹر سے مافیا بنے ہری شنکر تیواری کے بیٹے ونئے شنکر تیواری گورکھپور کی چلو پار سیٹ سے ایس پی کی ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ بی ایس پی چھوڑ کر ایس پی میں شامل ہوئے ہیں۔

بی جے پی کے نائب ریاستی صدر دیا شنکر سنگھ بلیا کی صدر سیٹ سے سابق وزیر و ایس پی امیدوار ناراد رائے کے سامنے تال ٹھونک رہے ہیں۔ قتل کے پاداش میں عمر قید کی سزا جھیل رہے امر منی ترپاٹھی کے بیٹے امن منی ترپاٹھی بی ایس پی کے ٹکٹ پر مہاراج گنج کی نوتنواں سیٹ سے اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے میڈیا صلاح کار شلبھ منی ترپاٹھی دیوریا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ان 57 سیٹوں میں سے 46 پر بی جے پی نے جیت درج کی تھی، جبکہ بی ایس پی کو 4، ایس پی کو 3 اور کانگریس، اپنا دل اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کو ایک ایک، جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار نے جیت کا پرچم بلند کیا تھا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اس مرحلے میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی سابقہ کارکردگی کو برقرار رکھنا ہے۔ پارٹی بہتر حکمرانی اور ترقیاتی کاموں پر الیکشن لڑ رہی ہے، لیکن متعدد ایسے مسائل ہیں جو پارٹی کی توقعات پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اگرچہ حکمراں جماعت کے خلاف کوئی واضح ناراضگی نہیں ہے، لیکن سیٹوں پر رائے دہندگان کسی نہ کسی وجہ سے بی جے پی امیدواروں سے ناخوش ہیں۔ علاوہ ازیں آوارہ مویشیوں کا مسئلہ بی جے پی کے سامنے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ وہیں ایس پی سربراہ انہوں موضوعات کو اپنی انتخابی ریلیوں میں لگاتار اٹھا رہے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے اعتبار سے اس خطے میں ذات۔پات کی صف بندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بی ایس پی کو خارج کرنا کوئی دانشمندی نہ ہوگی۔ اس مرحلے کی متعدد سیٹوں پر دلت اور پسماندہ طبقات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، اور ماضی میں یہ بی ایس پی کے لئے ذوق تر ذوق ووٹ کرتے رہے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ بی ایس پی نے سابقہ الیکشن میں بہتر مظاہرہ نہیں کیا تھا، لیکن اس کا اس مرحلے میں اپنا کور ووٹ بینک ہے۔

سیاست

پی ایم مودی کا آندھرا پردیش میں مارکاپورم سڑک حادثہ پر اظہار افسوس، متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان

Published

on

نئی دہلی / امراوتی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آندھرا پردیش کے مارکاپورم ضلع میں ہونے والے المناک سڑک حادثے پر غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ پی ایم او کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، “آندھرا پردیش کے مارکاپورم ضلع میں حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں”۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل ریلیف فنڈ سے ہر مرنے والے کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا دی جائے گی۔ زخمیوں کو 50,000 روپے ملیں گے۔ قبل ازیں چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کے مارکاپورم میں سڑک حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس واقعے پر اپنے گہرے غم کا اظہار کیا، جس میں ایک نجی بس میں سوار متعدد مسافر ٹرک سے ٹکرانے کے بعد زندہ جل گئے تھے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر شیئر کیا کہ سی ایم نائیڈو نے حادثے کی تفصیلات جاننے کے لیے حکام سے بات کی۔ عہدیداروں نے انہیں بتایا کہ ہری کرشنا ٹریولس کی بس تلنگانہ ریاست کے نرمل سے نیلور جارہی تھی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ حادثے کی وجوہات کی تفصیلی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔ آندھرا پردیش کے مارکاپورم ضلع میں جمعرات کو ایک نجی ٹریول کی بس ٹپر ٹرک سے ٹکرا گئی اور اس میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ جمعرات کی صبح 6:30 بجے ریاورم کے قریب پیش آیا، جب بس پتھر کی کھدائی کے قریب ٹرک سے ٹکرا گئی۔ آگ لگنے سے دونوں گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔ تصادم کے وقت ہری کرشنا ٹریولز کی بس میں 35 مسافر سوار تھے۔ پندرہ مسافر زخمی ہوئے جنہیں مارکاپورم کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ آگ لگنے کے فوراً بعد دس مسافر بس سے اترنے میں کامیاب ہو گئے۔

Continue Reading

بزنس

ایران امریکہ کشیدگی کے درمیان عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔

Published

on

ممبئی: ایران نے جنگ جاری رکھنے اور امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کردیا ہے۔ اس پیش رفت کا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ جمعرات کو تیل کی عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ برینٹ کروڈ فیوچر 1.21 فیصد بڑھ کر 103.46 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 1.35 فیصد اضافے کے ساتھ 91.54 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطوں کو مذاکرات سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ تہران سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وہ امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دے گا۔ اس سے قبل بدھ کے روز، مغربی ایشیا کے خطے میں جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی امیدوں کے درمیان خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے ہندوستان کے معاشی اشاریوں جیسے افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو کچھ راحت مل سکتی ہے، حالانکہ تکنیکی اشارے بتاتے ہیں کہ کلیدی سپورٹ لیولز کو جانچا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے لیے، خام تیل کی قیمتوں میں ہر $10 فی بیرل تبدیلی عام طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو جی ڈی پی کے 0.3–0.5 فیصد پوائنٹس سے متاثر کرتی ہے اور قیمتوں کی مزید نقل و حرکت پر منحصر ہے، صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) افراط زر میں 20-30 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ہوتا ہے۔ دریں اثنا، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہندوستان سمیت پانچ “دوستانہ” ممالک کے بحری جہازوں پر کوئی پابندی نہیں لگائے گا، جس سے انہیں تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ دوسروں کے لیے رسائی پر پابندی ہوگی۔ خطے میں جاری تنازعات کے باوجود بھارت کے ساتھ ساتھ روس، چین، پاکستان اور عراق کے جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو مخالف سمجھے جاتے ہیں یا جاری تنازع میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران میں کردار ادا کرنے والے امریکا، اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کے بحری جہازوں کو آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایوان اسمبلی میں ابوعاصم اعظمی کا مہاراشٹر میں نفرتی تقاریر جیسے جرائم کے واقعات پر تشویش، سخت کارروائی کا مطالبہ

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ایوان میں سرکار کی ہیٹ اسپیچ اشتعال انگیز تقاریر کے سبب نفرتی جرائم میں اضافہ ہوا ہے اس پر کارروائی ضروری ہے سپریم کورٹ بھی اپنے رہنمایانہ اصول میں ہیٹ اسپیچ پر کارروائی کا حکم دینے کے ساتھ سرکاروں کو ازخود نوٹس لے کر کیس درج کرنے کی بھی ہدایت دی تھی لیکن سرکار کی اس پر نیت صاف نہیں ہے اور اسی بدنیتی کے سبب ہیٹ اسپیچ کے کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہو تی اس لئے اس پر کارروائی کی ضرورت ہے سرکار اس معاملہ میں سخت کارروائی کرے۔ مہاراشٹر میں نفرتی ایجنڈے جاری ہے اور اس کے سبب حالات خراب ہوتے ہیں ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مہاراشٹر میں نظم و نسق کی حالت خراب ہے اس کے ساتھ ہی سائنر جرائم میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے اس میں بزرگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے ساتھ ہی جرائم کے معاملات میں سزاکا ریٹ کم ہے یعنی زیادہ تر کیسوں میں جرم ثابت نہیں ہوتا ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے ایسے میں تفتیش پر بھی سوال اٹھتاہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان