سیاست
یو پی : چھٹے مرحلے کی تیاریاں مکمل، ووٹنگ کل
اترپردیش میں چھٹے مرحلے کے تحت پوروانچل خطے کی 10 اضلاع کی 57 سیٹوں پر ووٹنگ کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جمعرات کو صبح 7 تا شام 6 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے پرامن و غیرجانبدارانہ الیکشن کے انعقاد کے لئے کمیشن نے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ہیں، جن اضلاع میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے، ان میں امبیڈکر نگر، بلرامپور، سدھارتھ نگر، بستی، سنت کبیر نگر، مہاراج گنج، گورکھ پور، کشی نگر، دیوریا اور بلیا شامل ہیں۔
چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے بتایا کہ اس مرحلے میں 2.14 کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.15 کروڑ مرد اور ایک کروڑ خاتون 676 امیدواروں کے انتخابی قسمت کو ای وی ایم میں قید کریں گے۔ اس مرحلے میں 66 خاتون امیدوار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے میں رائے دہندگان 13936 پولنگ مراکز کے 25326 پولنگ بوتھوں پر اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کرسکیں گے۔
وہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا مجموعی طور سے نو اسمبلی حلقے بشمول گورکھپور صدر، بانسی، اٹوہ، ڈومریا گنج، بلیا صدر، پھیپھنا، بیریا، سکندر پور اور بانسڈیہہ کو حساس اسمبلی حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے اس مرحلے میں 824 مزرعے اور بستیاں ایسی نشانزدی کی گئی ہیں، جہاں پر ناخشگوار واقعات پیش آ سکتے ہیں، وہیں 2962 پولنگ بوتھ کو کافی حساس زمرے میں رکھا گیا ہے۔
کمار نے کہا کہ اس مرحلے میں 109 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں، جہاں پر 19 خاتون انسپکٹر یا سب انسپکٹر اور 259 کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔ وہیں سنٹرل فورسز کی 797.94 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ یوپی پولیس کے 6783 انسپکٹر اور سب انسپکٹر، 57550 کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ 17.1 کمپنیاں پی اے سی، 46236 ہوم گارڈ، 1627 پی آرڈ جوان اور 15004 چوکیدار الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں۔
سابقہ مراحل میں مین اپوزیشن بالخصوص سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے سخت چیلنجز کا سامنا کرنے کے بعد حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو امید ہے کہ پوروانچل خطے میں اسے اپنے حریف پر سبقت حاصل ہوگی۔ آخری تین مراحل میں اپنی سبقت کو قائم رکھنے کے لئے بی جے پی نے اس مرحلے میں سخت انتخابی مہم چلائی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر جے پی نڈا، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بی جے پی اور اس کی اتحاد اپنا دل و نشاد پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں متعدد ریلیوں سے خطاب کیا۔
وہیں سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بھی اپنے امیدواروں کی حمایت میں عوامی ریلیوں سے خطاب کیا۔ یہ مرحلہ سابقہ مرحلے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اسی مرحلے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ بذات خود گورکھپور صدر سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ پہلی بار اسمبلی انتخاب لڑرہے ہیں۔
ایس پی نے سابق بی جے پی ریاستی صدر اوپیندر شکلا کی بیوی شبھابتی شکلا کو انتخابی میدان میں اتار کر مقابلے کو کافی دلچسپ بنا دیا ہے۔ وہیں آزاد سماج پارٹی کے صدر چندر شیکھر آزاد بھی یوگی کے خلاف انتخابی میدان میں ہیں۔
اس مرحلے میں یوگی کے 6 وزراء کا قار داؤ پر ہے۔ وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی ضلع کشی نگر کی پتھر دیوا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں سابق وزیر و ایس پی امیدوار برہما شنکر ترپاٹھی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اسی طرح سے وزیر صحت جئے پرتاپ سنگھ کو ضلع سدھارتھ نگر کی بانسی اسمبلی سیٹ سے ایس پی امیدوار نوین و بی ایس پی کے ہری شنکر سے چیلنج در پیش ہے۔
وزیر تعلیم (آزادانہ انچارج) ستیش چندر دیویدی ضلع سدھاتھ نگر کی اٹوہ سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں، جہاں سے انہیں سابق اسمبلی اسپیکر و ایس پی لیڈر ماتا پرساد پانڈے سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ وہیں مملکتی وزراء میں سے اننت سوروپ شکلا بلیا کی بیریا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ جئے پرکاش نشاد دیوریا کی رودر پور سیٹ سے قسمت آزما رہے ہیں۔ انہیں کانگریس کے سابق ایم ایل اے و قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ سے سخت چیلنج مل رہا ہے۔ وہیں شری رام چوہان کھجنی اسمبلی حلقے سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
اس مرحلے میں رائے دہندگان الیکشن سے عین قبل بی جے پی کو خیر آباد کہہ کر ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ کے بھی انتخابی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ سوامی پرساد موریہ ضلع کشی نگر کی اپنی روایتی سیٹ پڈرونہ چھوڑ کر فاضل نگر سے قسمت آزما رہے ہیں۔
سابقہ مرحلے کی طرح یہ مرحلے بھی کانگریس کی وقار کی لڑائی ہے۔ اس کے ریاستی صدر اجئے کمار للو ضلع کشی نگر کے تمکوہی راج اسمبلی حلقے سے انتخابی میدان میں ہیں۔ جبکہ دیگر معروف چہروں میں گینگسٹر سے مافیا بنے ہری شنکر تیواری کے بیٹے ونئے شنکر تیواری گورکھپور کی چلو پار سیٹ سے ایس پی کی ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ بی ایس پی چھوڑ کر ایس پی میں شامل ہوئے ہیں۔
بی جے پی کے نائب ریاستی صدر دیا شنکر سنگھ بلیا کی صدر سیٹ سے سابق وزیر و ایس پی امیدوار ناراد رائے کے سامنے تال ٹھونک رہے ہیں۔ قتل کے پاداش میں عمر قید کی سزا جھیل رہے امر منی ترپاٹھی کے بیٹے امن منی ترپاٹھی بی ایس پی کے ٹکٹ پر مہاراج گنج کی نوتنواں سیٹ سے اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے میڈیا صلاح کار شلبھ منی ترپاٹھی دیوریا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ان 57 سیٹوں میں سے 46 پر بی جے پی نے جیت درج کی تھی، جبکہ بی ایس پی کو 4، ایس پی کو 3 اور کانگریس، اپنا دل اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کو ایک ایک، جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار نے جیت کا پرچم بلند کیا تھا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اس مرحلے میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی سابقہ کارکردگی کو برقرار رکھنا ہے۔ پارٹی بہتر حکمرانی اور ترقیاتی کاموں پر الیکشن لڑ رہی ہے، لیکن متعدد ایسے مسائل ہیں جو پارٹی کی توقعات پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اگرچہ حکمراں جماعت کے خلاف کوئی واضح ناراضگی نہیں ہے، لیکن سیٹوں پر رائے دہندگان کسی نہ کسی وجہ سے بی جے پی امیدواروں سے ناخوش ہیں۔ علاوہ ازیں آوارہ مویشیوں کا مسئلہ بی جے پی کے سامنے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ وہیں ایس پی سربراہ انہوں موضوعات کو اپنی انتخابی ریلیوں میں لگاتار اٹھا رہے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے اعتبار سے اس خطے میں ذات۔پات کی صف بندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بی ایس پی کو خارج کرنا کوئی دانشمندی نہ ہوگی۔ اس مرحلے کی متعدد سیٹوں پر دلت اور پسماندہ طبقات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، اور ماضی میں یہ بی ایس پی کے لئے ذوق تر ذوق ووٹ کرتے رہے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ بی ایس پی نے سابقہ الیکشن میں بہتر مظاہرہ نہیں کیا تھا، لیکن اس کا اس مرحلے میں اپنا کور ووٹ بینک ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایوان اسمبلی میں ابوعاصم اعظمی کا مہاراشٹر میں نفرتی تقاریر جیسے جرائم کے واقعات پر تشویش، سخت کارروائی کا مطالبہ

ممبئی: مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ایوان میں سرکار کی ہیٹ اسپیچ اشتعال انگیز تقاریر کے سبب نفرتی جرائم میں اضافہ ہوا ہے اس پر کارروائی ضروری ہے سپریم کورٹ بھی اپنے رہنمایانہ اصول میں ہیٹ اسپیچ پر کارروائی کا حکم دینے کے ساتھ سرکاروں کو ازخود نوٹس لے کر کیس درج کرنے کی بھی ہدایت دی تھی لیکن سرکار کی اس پر نیت صاف نہیں ہے اور اسی بدنیتی کے سبب ہیٹ اسپیچ کے کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہو تی اس لئے اس پر کارروائی کی ضرورت ہے سرکار اس معاملہ میں سخت کارروائی کرے۔ مہاراشٹر میں نفرتی ایجنڈے جاری ہے اور اس کے سبب حالات خراب ہوتے ہیں ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مہاراشٹر میں نظم و نسق کی حالت خراب ہے اس کے ساتھ ہی سائنر جرائم میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے اس میں بزرگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے ساتھ ہی جرائم کے معاملات میں سزاکا ریٹ کم ہے یعنی زیادہ تر کیسوں میں جرم ثابت نہیں ہوتا ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے ایسے میں تفتیش پر بھی سوال اٹھتاہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اجیت پوار کے گھر پر کالا جادو کیا جاتا تھا، روہیت پوار کا سنسنی خیز خلاصہ، تفتیش کا مطالبہ

ممبئی : نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی روہیت پوار نے اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کے بعد اب سنسنی خیز خلاصہ کر تے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اجیت پوار کے گھر کے باہر کالا جادو کیا جاتا تھا اس کالا جادو کی وجہ پارٹی پر قابو و کنٹرول تو نہیں کیونکہ 16 فروری کو ایک مکتوب الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ارسال کیا گیا تھا جس میں پرفل پٹیل کو قومی صدر مقرر کیا گیا تھا, اس میں تین عہدیداروں کی دستخط تھی جس میں سنیل تتکرے, برج موہن سریواستو کا نام شامل ہے انہوں نے کہا کہ ان کی چچی سنترا پوار بھی اس سے لاعلم تھی یہ انتہائی تشویشناک بات ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی پر مکمل قبضہ کر نے کی سازش پہلے ہی انجام دی گئی تھی اس لئے اس کی جانچ ضروری ہے کہ اجیت پوار کی موت حادثہ یا قتل ہے انہوں نے کہا کہ اشوک کھرات سے ہی اجیت پوار کے گھر کے باہر جادو ٹونا کروایا جاتا تھا اس سنسنی خیز خلاصہ کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روہیت پوار نے کئی سنسنی خیز خلاصے کئے ہیں جس میں انہوں نے پارٹی پر دبدبہ قائم رکھنے کیلئے پرافل پٹیل اور سنیل تتکر ے کے الیکشن کمیشن کے اس مکتوب کا حوالہ دیا جو انہوں نے حادثہ کے 16 دن بعد ہی الیکشن کمیشن میں جمع کروایا تھا اس معاملہ میں بھی روہیت پوار نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ روہیت پوار نے ایوان اسمبلی میں اس سے قبل اجیت پوار حادثہ میں داخل کرناٹک کی ایف آئی آر کی تفصیلات بتائی اور کہا کہ کرناٹک پولیس نے اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ پونہ میں رات دن اجیت پوار عوام کی خدمت کر تے تھے کیا, اب اس ایف آئی آر کو بارامتی میں درج کر کے اس کی تفتیش ہوگی انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں ایف آئی آر مہاراشٹر منتقل کر دی گئی ہے. اس کی تفتیش اب ڈی جی پی کے سپرد ہے کیا ڈی جی پی اس تفتیش کو آگے بڑھائیں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
کماٹی پورہ بازآباکاری پروجیکٹ کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے, امین پٹیل کا پرزور مطالبہ, کام شروع کرنے کی یقین دہانی

ممبئی: مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے توجہ طلب نوٹس کے معرفت کماٹی پورہ بازآباکاری کلسٹر ڈیولپمنٹ کو فوری طور پر مکمل کرنے اور ورک آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ میں ۱۶ ہزار عمارتیں ہیں جس میں ۲۵ ہزار مکین آباد ہیں ان عمارتوں کی حالت خستہ ہے اور مانسون میں حادثات کا خطرہ ہے اگر ان عمارتوں کو حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی زمہ دار سرکار اور مہاڈ و متعلقہ ایجنسی ہو گی اس لئے اس پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ علاقہ ایک گھنی، کثیر لسانی، متوسط طبقے کی آبادی پر مشتمل ہے جو متعدد پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں آباد ہے۔ مقامی باشندوں کی جانب سے ان تعمیرات کی فوری بحالی کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کماٹی پورہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ذریعے دوبارہ ترقی بازآبادکاری کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے، اور معمار ٹھیکیدارکی تقرری اور ٹینڈرز جاری کرنے جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔تاہم، دوبارہ ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت بڑی تعداد میں عمارتیں عمر کھادی اور کماٹی پورہ جیسے علاقوں میں واقع ہیں۔ چھتیں گرنے، پانی کے رساؤ اور ساخت کی خرابی جیسے واقعات کی وجہ سے رہائشی خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ری ڈیولپمنٹ کو تیز کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، پائدھونی، بھولیشور، نال بازار، کلبا دیوی، اور محمد علی روڈ جیسے علاقے گنجان آباد ہیں اور بہت سی پرانی اور غیر محفوظ عمارتیں ہیں۔ مہاڈا کے لیے سروے کرنے، غیر قانونی تعمیرات کا معائنہ کرنے اور دوبارہ ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، مہاڈا میں عملے کی کمی کی وجہ سے، عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے رہائشیوں میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ہاؤسنگ کا بیان ، ڈیولپمنٹ کنٹرول ریگولیشن (ڈی سی آر) 33(9) کے تحت 12 جنوری 2023 کی حکومتی قرارداد کے ذریعے مہاڈا کے ذریعے کماٹی پورہ علاقے میں پرانی اور خستہ حال سیسڈ اور نان سیسڈ عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت، تقریباً734 عمارتوں اور 8,001 کرایہ داروں/ رہائشیوں کی بحالی کی جائے گی۔ پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے، مہاڈا کو 9 جولائی 2025 کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے، خصوصی منصوبہ بندی اتھارٹی قرار دیا گیا تھا۔
ٹینڈرز 12 جون 2025 کو جاری کیے گئے تھے، اور مناسب کارروائی کے بعد،بھاگیرتھی ہاؤسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ لمیٹڈ اور کماٹی ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ14 نومبر 2025 کوورک آرڈر جاری کرنے کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت 1989-1995 کے دوران، تقریباً 269 سیسڈ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیاجس کے نتیجے میں 66 نئی عمارتیں بنیں۔ مرمت کے لیے، حکومت نے 29 اگست 2024 کو مہاراشٹر ہاؤسنگ فنڈ سے 150 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ ان میں سے، عمر کھادی اور کماٹی پورہ علاقوں میں 12 عمارتوں کی ساختی مرمت کے لیے 12.80 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، اور کام جاری ہے۔
عمر کھادی کے علاقے میں 81 عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک تجویز 3 دسمبر 2024 کو ایم ایچ اے ڈی اے کو پیش کی گئی۔ فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ 20 عمارتوں کی بحالی کی تجویز ناقابل عمل پائی گئی، اور 36 عمارتوں کی نظرثانی شدہ رپورٹ 23 فروری 2026 کو پیش کی گئی، جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ایم ایچ اے ڈی اے ایکٹ 1976 کی دفعہ79(اے) کے تحت عمارت کےمالکان کو دوبارہ ترقی کی تجاویز کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم،ہائی کورٹ نے 28 جولائی 2025 (درخواست نمبر 34771/2024) کو اس کارروائی پر روک لگا دی۔ نوٹسز کا جائزہ لینے کے لیے دو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ مہاڈا نے ممبئی میں عمارتوں کے اسٹرکچرل اسٹیبلٹی آڈٹ کرنے کے لیے 64 اسٹرکچرل آڈیٹرز/آرکیٹیکٹس کو مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، 23 فروری 2026 کو عملے کے ریکارڈ کی منظوری کے بعد ایم ایچ اے ڈی اے میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے بھرتی جاری ہے۔وزیر مملکت پنکج بھوئیر نے کہا کہ ایک ہفتہ میں ورک آرڈر جاری کر کے دو ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا اور اس پروجیکٹ کو وائٹل پروجیکٹ پر بھی وزیر اعلیٰ سے میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا یہ یقین دہانی وزیر موصوف نے کروائی ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
