Connect with us
Thursday,19-March-2026

(جنرل (عام

حد بندی کمیشن کا قیام غیر قانونی، مجوزہ رپورٹ لوگوں کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش : ڈاکٹر فاروق عبداللہ

Published

on

dr-farooq-abdullah

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی بنیاد ناانصافی کیخلاف جدوجہد سے ہی پڑی ہے، اور یہ جماعت آج بھی جموں وکشمیرکے عوام کیساتھ ہو رہی ناانصافیوں کیخلاف برسرجہد ہے، اور ہماری جماعت کسی بھی صورت میں اپنے اصولوں سے انحراف کرنے والی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کو جہاں جموں و کشمیر کی واحد اور حقیقی عوامی نمائندہ جماعت ہونے کا طرہ امتیاز حاصل رہا ہے، وہیں اس جماعت نے بھی ہمیشہ لوگوں کو ہی طاقت کا سرچشمہ سمجھا ہے، اور یہ جماعت آج بھی اسی اصول پر قائم و دائم ہے۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج جموں میں کٹرا، سانبہ، نگروٹہ اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے عوامی وفود، معزز شہریوں، بی ڈی سی ممبران اور پارٹی مبران سے کہا۔

حدبندی کمیشن کی رپورٹ کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ نا انصافی پر مبنی ہے، جس کا مقصد جموں وکشمیر کے عوام کو علاقائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے بھاجپا کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کے تینوں ایسوسی ایٹ ممبران نے کمیشن میں اپنا جواب داخل کر دیا ہے، اور ایسی کسی بھی مشق سے گریز کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔

اُن کے مطابق ہمارا ماننا ہے کہ جس قانون کے تحت اس حد بندی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، اُس قانون کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اور اس مشکوک قانون کے تحت جموں وکشمیر کی حد بندی کرنا سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ نشستوں کی حدبندی آبادی کے تناسب سے ہونی چاہئے لیکن یہاں من مانے طریقے سے نشستوں کی حدبندی کی گئی ہے، اور کئی تاریخی اہمیت کی حامل نشستوں کا نام و نشان ہی ختم کر دیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا کے ان مذموم منصوبوں کا مقابلہ صرف اور صرف ہوشیاری اور متحد ہو کر کیا جاسکتا ہے، اور وقت کا تقاضا ہمیں عملی طو رپر اتحاد و اتفاق میں رہیں، اور جموں و کشمیر کیخلاف ہو رہی ہر ایک سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

دریں اثناء ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاسی جاکر پارٹی کے علیل لیڈر طارق بٹ کی عیادت کی۔ انہوں نے موصوف کے اہل خانہ سے کہا کہ طارق بٹ کو نئی دہلی پہنچائیں اور ہم وہاں اُن کا علاج و معالجہ کرائیں گے۔ انہوں نے طارق بٹ کی فوری صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔

جرم

ممبئی : باندرہ بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، تلاشی کے دوران کوئی بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں، علاقہ میں الرٹ جاری

Published

on

Bomb-Disposal-Team

ممبئی : باندرہ بی کے سی میں بم کی دھمکی کے بعد سنسی پھیل گئی ہے ۔ای میل میں 19 سائینائیڈ بم نیوکلیر بم ممبئی کے بی کے سی میں پاسپورٹ آفس میں نصب ہونے کی ای میل موصول ہونے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پولیس کو فوری طور پر اس ای میل کی اطلاع ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں پاسپورٹ آفس میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد ہنگامہ برپاہو گیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں سائینائیڈ سے بھرے 19 بموں کی تنصیب کی دھمکی دی گئی۔ ای میل موصول ہونے کے بعد خوف و دہشت پیدا ہوگئی دھمکی آمیز ای میل میں کہا گیا کہ بم آج دوپہر 1.30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اس دھمکی آمیز ای میل کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے اور بم اسکواڈ نے تلاشی لی لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس لیے پولیس اس ای میل کی تفصیلات لے رہی ہے جس کے ذریعے یہ دھمکی بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

: تین ای میل آئی ڈیز پر دھمکی آمیز میل
بدھ کو، بی کے سی میں پاسپورٹ آفس کو تین دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ جس میں پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں رکھے گئے 19 سائینائیڈ بم دوپہر 1.30 بجے پھٹنے کی دھمکی دی گئی۔ دھمکی آمیز میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in ای میل پتے پر موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور ممبئی پولیس کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

: شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل
بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی داخلی دروازے، داخلی اور خارجی راستوں، علاقے میں موجود درختوں اور جھاڑیوں اور تمام اطراف کے علاقوں کا مکمل معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس معائنہ میں انہیں کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ پھر بھی پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

جعلی دھمکی آمیز ای میلز بھی اکثر بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی جعلی ای میلز خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے سائبر پولیس نے ای میل آئی ڈی کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

Published

on

street-vendor-police

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان