Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ارتقا بزاز : سری نگر سے تعلق رکھنے والی نوجوان خطاط و پینٹر

Published

on

Artaqa-Bzaaze

وادی کشمیر کے نوجوان خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں جہاں ایک طرف تعلیم کے مختلف شعبوں بالخصوص مسابقتی امتحانات میں امتیازی پوزیشنز حاصل کر کے اپنی ذہانت و ذکاوت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ وہیں فنون لطیفہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔ سری نگر سے تعلق رکھنے والی جوان سال ارتقا بزاز ایک ہونہار اور محنتی طالبہ ہیں، جو بچپن سے ہی پینٹنگ اور خطاطی میں حد درجہ والہانہ لگاؤ رکھتی تھیں آج ان ہی دو فنون کو پروان چڑھا کر اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی جلوہ نمائی کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جوش و جذبہ اور شوق ہو تو کسی بھی شعبے میں اپنا نام روشن کیا جاسکتا ہے، اور محنت کرنے سے راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پینٹنگ اور خطاطی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے کافی گنجائش موجود ہے۔

موصوف خطاط و پینٹر نے ان باتوں کا اظہار محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے خصوصی ہفتہ وار پروگرام ’سکون‘ میں اپنی گفتگو کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے بچپن سے ہی پینٹنگ کے ساتھ کافی لگاؤ تھا اور میں نے پہلی جماعت سے ہی رنگوں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اسکول میں ایک پینٹنگ مقابلے میں چھتری بنانے پر مجھے ایک ایوارڈ سے نوازا گیا جو میری حوصلہ افزائی کا باعث بن گیا۔‘

ارتقا بزاز، جو کشمیر یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں گریجویشن کر رہی ہیں، نے کہا کہ دسویں جماعت سے میں نے خطاطی شروع کی۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے دسویں جماعت سے خطاطی شروع کی اور میں زیادہ تر اسلامی خطاطی کرتی ہوں‘۔

انہوں نے کہا: ’جب میں قرآنی آیات کو کاغذ پر اتارتی ہوں تو وہ مجھے اللہ سے نزدیک کر دیتی ہیں اور مجھ پرایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔‘ ارتقا نے کہا کہ میرے گھر والوں نے مجھے اپنے شوق کے اس فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لئے کافی سپورٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر میدان میں آگے بڑھنے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہمت کرنے سے سب کچھ آسان ہوجاتا ہے۔ موصوف خطاط نے کہا کہ کشمیر میں اس شعبے میں بھی اپنا نام روشن کرنے اور اپنی روزی روٹی کی سبیل کرنے کے لئے مواقع کی ہوئی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس فیلڈ میں بھی اپنا نام روشن کیا جا سکتا ہے شرط یہ ہے کہ محنت ولگن، جوش و جذبے اور شوق ہو، محنت سے راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اپنے فن پاروں کو لوگوں کے سامنے رکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے اپنے فن پارے رکھے جا سکتے ہیں۔‘

ارتقا نے کہا: ’میں بھی سوشل میڈیا پر اپنے فن پارے اپ لوڈ لرتی ہوں جن کو کافی سراہا جاتا ہے جس سے میری حوصہ افزائی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان جس قدر زیادہ سے زیادہ فنون لطیفہ کے ساتھ مصروف رہیں گے اس قدر ہمارے سماج سے برائیوں کا قع قمع ہوگا اور منشیات کی وبا بھی ختم ہوگی۔

موصوفہ نے کہا کہ کشمیر میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے یہاں کے نوجوان خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، با صلاحیت ہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کو بروئے کار لایا جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان