Connect with us
Saturday,28-March-2026

(جنرل (عام

وزیراعلیٰ بہار نے اسکول کے مساوی سہولتیں مدارس کے طلباء و طالبات کو فراہم کرانے کا فیصلہ کیا : عبدالقیوم انصاری

Published

on

Abdul-Qayyum-Ansari

ملحقہ مدارس میں درجہ 1 سے 8 (تحتانیہ سے وسطانیہ) ایس سی ای آر ٹی کی کتابیں اور درجہ 9 سے 12 (فوقانیہ سے مولوی) این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو اسلامی کتابوں کے ساتھ نافذ کرنے اور اساتذہ کرام کو چھٹی شرح تنخواہ اور نئے اساتذہ کرام کو پے اسکیل دیئے جانے اور مدرسہ بورڈ کو ڈیجیٹل کرنے، مدرسہ بورڈ میں سرور نصب کرنے، آن لائن داخلہ، آن لائن رجسٹریشن، آن لائن امتحان فارم، آن لائن ایڈمٹ کارڈ فراہم کرانے پر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو رول ماڈل ان انڈیا قرار دیا گیا ہے۔یہ بات بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیرمین عبدالقیوم انصاری نے آج یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مورخہ 09 ستمبر 2021 کو انڈیا ہیبٹیٹ سنٹر میں رینو کا کمار سکریٹری مائنوریٹی افیئر، حکومت ہند و انوپ کمار ریٹائرڈ آئی اے ایس، چائلڈ رائٹ کمیشن حکومت ہند کی صدارت میں اور 3 دسمبر 2021 کو منعقدہ میٹنگ میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں کئے گئے بدلاؤ کے ساتھ ہی محترمہ رینوکا کمار سکریٹری مائنوریٹی افیئر حکومت ہند نے تمام صوبہ کے اقلیتی فلاح کے سکریٹری و محکمہ تعلیم کے سکریٹری کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ مدرسہ میں پڑھنے والے طلباو طالبات ہندوستان کے بچے ہیں، اور ان کو رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ و چائلڈ رائٹ کے تحت تمام سہولتیں جو اسکول کے طلباء و طالبات کو دیئے جا رہے ہیں دیئے جائیں گے۔ اس کی روشنی میں ملحقہ مدارس کے تمام صدر مدرسین، امداد یافتہ و غیر امداد یافتہ، محکمہ تعلیم کے ’سمگر شکچھا‘ و ضلعی اقلیتی فلاح افسر سے رابطہ کر کے یو ڈائس نمبر حاصل کریں، اور نمبر حاصل کرنے کے بعد ضلع افسر سے مدرسہ میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کیلئے مڈ ڈے میل، سائیکل، پوشاک، اسٹائپن، حوصلہ افزدائی رقم فوقانیہ میں اول درجہ سے پاس کرنے والے طلباء و طالبات کو 10 ہزار، مولوی میں اول درجہ سے پاس طالبات کو 15 ہزار کیلئے درخواست دیکر بچوں کو تمام سہولتیں فراہم کرائیں۔ جو صدر مدرسین اس کے تحت بچوں کو سہولت فراہم نہیں کرائیں گے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی، ساتھ ہی ضلع سطح پر کسی افسر کے ذریعہ بچوں کو سہلوت فراہم کرانے میں عدم توجہی دکھائی جاتی ہے تو اس کی شکایت دفتر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو دیں۔ نتیش کمار وزیراعلیٰ بہار نے اسکول کے مساوی مدرسہ میں پڑھنے والے طلباء و طالبات و اساتذہ کرام کو تمام سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر عمل در آمد کرانا صدر مدرسین و ضلعی افسران کی ذمہ داری ہے۔

ملحقہ مدارس کے اساتذہ و طلباء و طالبات کیلئے ڈریس کوڈ نافذ کیا گیا ہے۔ لازمی طور پر ڈریس کوڈ کو صدر مدرسین اپنے مدرسہ میں نافذ کریں، اور اس پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں۔ جانچ کے دوران پکڑے جانے پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔

نتیش کمار وزیراعلیٰ بہار نے مدرسوں میں مدرسہ استحکام منصوبہ نافذ کیا ہے۔ جس کے تحت سبھی مدرسوں میں کمروں کی تعمیر، بیت الخلاء اور پانی کا انتظام کرانا ہے، ساتھ ہی ٹیبل، بنچ مہیا کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر مدرسین کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ضلع اقلیتی فلاح افسر کے پاس اس سلسلے میں درخواست دیں، اور اس درخواست کے ساتھ مدرسہ کے زمین کے دستاویز کی عکسی کاپی، ایل پی سی منسلک کریں تاکہ مدرسوں میں کمروں کی تعمیر کرائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ نتیش کمار وزیراعلیٰ بہار نے بے روزگار نوجوانوں کیلئے”سہائتا“ منصوبہ نافذ کیا ہے، جو طلباء و طالبات مولوی پاس کر کے اپنی تعلیم منقطہ کر لئے ہیں وہ اپنے ضلع میں ڈی آر سی سی افسر سے رابطہ کر کے اپنا رجسٹریشن کرائیں۔ ان طلباء و طالبات کو 1000 روپئے ماہانہ دیا جائے گا۔ مدرسہ کے جو طلباء و طالبات مولوی پاس کر چکے ہیں اور آگے تعلیم جاری رکھ سکیں ان طلباء و طالبات کو کریڈٹ کارڈ منصوبہ کے تحت 4 لاکھ روپئے فراہم کرانے کا انتظام کیاگیا ہے۔ طلباء و طالبات اس منصوبہ سے بھی فائدہ حاصل کریں۔

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان