Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

زرعی اراضی و غیر زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کی پالیسی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی عکاس : محبوبہ مفتی

Published

on

Mehbooba Mufti

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کی نئی پالیسی ان کے یہاں کی ڈیمو گرامی کو تبدیل کرنے کے مذموم ارادوں کی عکاس ہے انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو سرکاری نوکریوں کے جائز حصے سے محروم رکھنے کے بعد ایسے ہنگامی فیصلے باہر کے لوگوں کو جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔

موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔ بتادیں کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں جموں میں منعقدہ انتظامی کونسل کی ایک میٹنگ میں بورڈ آف ریونیو کے ذریعے زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کے وضع کردہ ضوابط کو منظوری دی گئی ہے۔

ان نئے ضوابط کے تحت ضلع مجسٹریٹ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ زمین کے استعمال میں زرعی سے غیر زرعی مقاصد میں تبدیلی کی اجازت اس طریقہ کار کے مطابق دے جس کو بورڈ آف ریونیو کے ذریعہ مطلع کیا جائے۔

محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’جموں وکشمیر انتظامیہ کی زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کی نئی پالیسی سے ان کی یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے مذموم ارادے صاف ظاہر ہوتے ہیں۔‘

ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’ترقی کا ایجنڈا ایک فریب ہے جو تازہ ترین ضابطہ ہے اس کے لئے پندرہ سالہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔‘

موصوفہ نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا: ’مقامی لوگوں کو سرکاری نوکریوں کے اپنے جائز حصے سے محروم کرنے کے بعد ایسے اچانک لیے جانے والے فیصلے باہر کے لوگوں کو جموں وکشمیر میں زمین خریدنے کے لئے راستہ ہموار کریں گے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے فیصلے مقامی لوگوں کو مزید بے اختیار کرنے کے لئے لئے جا رہے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی فرض انجام دہی پرخاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا، ۶ ماہ قید بامشقت اور ۵۰۰ جرمانہ کی سزا

Published

on

Police

۲۱ ستمبر کو ایڈیشنل سیشن کورٹ، کورٹ نمبر 34، ممبئی گوونڈی پولیس216/2018 دفعہ 353, 509, 354(ا) بی این ایس کے تحت جرم میں ملزم نامہ سروج پیشہ ڈرائیور، رہائشی .کمپاؤنڈ کے سامنے، منزلہ، 11 واں روڈ، چمبورممبئی کو قصوروار ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔۲۱ اگست ۲۰۱۸ کو شکایت کنندہ خاتون پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کی ڈیوٹی کر رہی تھیں اس دوران ملزم نے شکایت کنندہ کو نشانہ بنا کر فحش اشارے کرکے اور فحش گالی گلوچ کرکے شکایت کنندہ سے ناروا سلوک کیا اس کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ نے گوونڈی پولیس تھانے میں شکایت کی 216/2018 دفعہ 353, 354(ا), 509 بی این ایس کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم میں ۲۱ ستمبر ایڈیشنل سیشن عدالت، کورٹ نمبر 34 ممبئی نے ملزم سروج کو دفعہ 353 تعزیری کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ، دفعہ 354(ا) کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ نیز دفعہ 509 دفعہ کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ بھرنے پر 1 مہینے کی اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔مذکورہ معاملے میں تفتیشی افسر سپودن پرینکا پاٹل نے کی گئی گہری تفتیش، سائنسی اور مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد کا مجموعہ اور اس کی صحیح طریقے سے دستاویزی کارروائی، نیز سرکاری وکیل جیوتی ساونت اور پیروی افسر سب انسپکٹر اجے یادو نے عدالت کے سامنے مؤثر پیروی کرمذکورہ معاملے کا عدالتی کام کاج دیکھنے والے افسران نے سرکاری فریق کے ساتھ مناسب تال میل رکھنا اور مسلسل اور نتیجہ خیز پیروی کرنا اس کی وجہ سے ملزم کے خلاف جرم بغیر کسی شک کے فائدے کے ثابت ہو کر اسےعدالت نے سخت سزا سنائی ہے۔مذکورہ قابل ذکر کارکردگی جناب پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما، دھننجے کلکرنی،ڈی سی پی زون 01 سمیر شیخ، کی رہنمائی میں انجام دی ہے ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان