Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

شہزادہ اختر : میوہ باغوں میں مزدوری کرنے سے ایک کامیاب تاجرہ بننے تک

Published

on

Prince Akhtar

غربت و افلاس سے تنگ آکر میں خودکشی کر کے اپنی زندگی ختم کرنے والی تھی کہ قومی دیہی روز گار مشن (این آر ایل ایم) کی اسکیم ’امید‘ نے میرے زندہ رہنے کی امید کو جاگزین کر دیا یہ باتیں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے متری گام سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ شہزادہ اختر کی ہیں، جنہوں نے گھر کا چولھا جلانے کے لئے میوہ باغوں میں مزدوری کی، اور اپنی محنت و لگن کے باعث آج وہ ایک کامیاب تاجرہ ہیں۔ شہزادہ اختر نے تفصیلی گفتگو میں کہا کہ غریبی سے تنگ آکر میں خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والی تھی لیکن قومی دیہی روز گار (این آر ایل ایم) کی اسکیم ’امید‘ نے میرے زندہ رہنے کی امید کو جاگزین کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’میں غریبی سے لڑنے کے لئے میوہ باغوں میں مزدوری کرتی تھیں، اور موسم سرما، جب یہاں برف باری اور سردیوں کے باعث گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے، کے دوران سوزن کاری کر کے اپنے افراد خانہ کا پیٹ پالتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ لیکن یہ محنت بھرا کام کرنے کے باوجود بھی میں اپنے والد کا قرضہ ادا کر نے سے قاصر تھی جو انہوں نے گھر چلانے کے لئے گولوں سے اٹھایا تھا۔‘
شہزادہ کہتی ہیں کہ میری تقدیر اس دن بدل گئی، جب میری ملاقات میری ایک سہیلی نیلوفر سے ہوئی جو این آر ایل ایم کے عہدیداروں کے ساتھ اندھرا پردیش گئی تھی۔

انہوں نے کہا: ’سال 2015 میں این آر ایل ایم کے عہدیداروں کی ایک ٹیم ہمارے گاؤں متری گام آئی اور مجھے ایک سیلف ہلپ گروپ بنانے کے لئے دس لڑکیوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دینے کو کہا اور مجھ سے کہا گیا کہ ’امید‘ اسکیم کے تحت رجسٹر ہونے کے لئے بینک میں ایک کھاتہ کھولنا ہے، جس میں ہر ہفتے 25 روپیے جمع کرنے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پہلے میں بہت پریشان تھی کہ ہر ہفتے پچیس روپیوں کا انتظام کس طرح کر پاؤں گی تاہم میں نے ہمت نہیں ہاری اور میوہ باغوں، لوگوں کے گھروں اور دوسری جگہوں پر کام کر کے میں نے ہر ہفتے بینک کھاتے میں پچیس روپیے جمع کرنے شروع کئے۔‘

موصوفہ نے کہا کہ گروپ کے تمام ممبر بھی باقاعدگی کے ساتھ ہر ہفتے بینک کھاتے ہیں پچیس پچیس روپیے جمع کرتے رہے۔

انہوں نے کہا: ’اس طرح ہم کھاتے میں تین ہزار روپیے جمع کرنے میں کامیاب ہوئے اور اسکیم کے قاعدے کے مطابق ہم نے اس رقم کو نکال کر کسی ایک ممبر کو دینے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہم بہت خوش تھے کہ کم سے کم ہم نے بینک کھاتے میں پیسے جمع کرنے اور نکالنے کا کام سیکھا۔ شہزادہ نے کہا کہ ہم نے یہ رقم ایک ممبر کو دی، جس کو اپنے بچے کی اسکول فیس جمع کرنا تھی۔

انہوں نے کہا: ’میں بینک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی، جس سے مجھے آہستہ آہستہ دوسری نوعیت کے لین دین سیکھنے کا موقع مل گیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اس دوران این آر ایل ایم کا پروجیکٹ رسورس پرسن ہمارے گاؤں میں آیا اور انہوں نے ہمارے بینک کاؤنٹ کا آڈٹ کیا، اور ہمارے گروپ کو ’اے‘ گریڈ سے نواز کر ہمیں روالونگ فنڈ (آر ایف) کے تحت 15 ہزار روپیے دیے، جس کو ہم نے تین لڑکیوں میں بحصہ برابر منقسم کیا۔‘

شہزادہ اختر نے کہا کہ ہمارے گروپ کی ایک ممبر نے سلائی کا کام سیکھا تو اس نے اپنے حصے کی رقم سے ایک میشن خریدی دوسری ممبر نے کچھ بکریاں خریدی۔‘

انہوں نے کہا: ’تاہم میں پریشان تھی کہ کیا کروں کیونکہ میں کچھ لوگوں کی مقروض تھی، جن سے میں نے گھر چلانے کے لئے وقت وقت پر قرضہ لیا تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’اس کے بعد این آر ایل ایم نے سی آئی ایف کے تحت ہمارے کھاتے میں 40 ہزار روپیے جمع کئے، اور گروپ کے تمام ممبروں نے یہ رقم مجھے دی تاکہ میں ایک گائے خرید سکوں اور کاروبار شروع کر سکوں۔‘

انہوں نے کہا: ’لیکن میں جانتی تھی کہ گائے کی دیکھ ریکھ کرنا، اور اس کو پالنا پوسنا ایک مشکل کام ہے اس کے لئے کئی چیزوں کے علاوہ ایک گائے خانے کی بھی ضرورت ہے، لہذا میں نے اس مسئلے پر اپنے والد کے ساتھ بات کی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’بالآخر میں نے ایک گائے خریدی اور گائے خانہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو گرما کے دوران ترپال کے بنے ایک گائے خانے میں رکھا۔‘ موصوفہ نے کہا کہ جس دن میں نے گائے خریدی، اسی دن ہمیں امید پروگرام کے تحت دودھ جمع کرنے کے لئے ایک مشین فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا: ’میں نے دودھ کا کاروبار شروع کیا، اور میں باقاعدگی سے بینک قرضے کی قسطیں بھی ادا کرتی رہی، اور اسی دوران این آر ایل ایم نے سی آئی ایف کی مبلغ پچیس ہزار کی دوسری قسط واگذار کی، اور گروپ ممبروں نے وہ رقم بھی مجھے ہی دے دی جس سے میں نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے دی۔‘

انکا کہنا تھا: ’میں نے اپنے اس کاروبار کے بینک کھاتے کو این آر ایل ای ے بینک کھاتے سے منسلک کر دیا، جس کی بنا پر مجھے دس لاکھ روپیے کا قرضہ دیا گیا‘ انہوں نے کہا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میرا کاروبار بھی بڑھتا گیا اور میں اپنے یونٹ میں 22 گایوں کا ریوڑ جمع کرنے میں کامیاب ہوئی، جن سے میں روزانہ 300 کلو دودھ حاصل کرتی ہوں۔

شہزادہ نے کہا کہ سال 2017 میں مجھے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے قصبے میں ایک دکان فراہم کی، جہاں میرے دو بھائی دودھ، پنیر اور دہی بیچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی لڑکیاں میرے ’ڈیئری فارم‘ میں کام کر رہی ہیں، اور اس طرح اپنی روزی روٹی خود ہی کما رہی ہیں۔

شہزادہ اختر نے کہا کہ جب ایک انسان میں کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو وہ کسی بھی مشکل سے مشکل تر رکاوٹ کو بھی پار کر کے اپنا روز گار حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے وادی کی دوسری لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر اپنے والدین پر بوجھ بننے کے بجائے خود کمائیں جس کے لئے یہاں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت نے بھی اس کے لئے کئی اسکیمیں متعارف کی ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان