Connect with us
Wednesday,25-March-2026

سیاست

جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ہم وہ حاصل کر کے ہی دم لیں گے : عمر عبد ﷲ

Published

on

Omar-Abdullah.

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداﷲ نے کہا کہ ہمارا سب کچھ دفعہ 370 کیساتھ جڑا ہوا ہے، اور ہم اس کی بحالی کیلئے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی جانب سے 370 پر دیا گیا بیان سمجھ سے بالا تر ہے، ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا، ہم اس کو واپس حاصل کر کے ہی دم لیں گے۔

ان باتوں کا اظہار موصوف نے کشتواڑ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ 370 کی بحالی کا معاملہ جموں وکشمیر کی آنے نسلوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے لہذا اس کی بحالی کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

عمر عبداﷲ نے کہا کہ آنجہانی سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے وقت جموں وکشمیر میں دفعہ 370 لاگو کیا گیا لہذا کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کو اس پر لب کشائی نہیں کرنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 370 تو کانگریس کی وراثت ہے، یہ تو ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی حکومت میں معرض وجود میں آیا تھا۔ عمر نے کہ ابھی تک عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ آنا باقی ہے تو آزاد صاحب کس بنیاد پر پہلے ہی فیصلہ سُنا رہے ہیں؟

عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون کی بحالی کی خاطر نیشنل کانفرنس ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرئے گی۔ انہوں نے کہا کہ 370 کی بحالی کی خاطر نیشنل کانفرنس نے عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کی ہیں اور ہمارا کیس کافی مضبوط ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ 370 کی بحالی کی خاطر نیشنل کانفرنس قانونی اور آئینی لڑائی لڑے گی اگر باقی سیاسی پارٹیوں کوا س مسئلے پر چپ رہنا ہے تو وہ رہ سکتی ہے، لیکن نیشنل کانفرنس اپنے موقف پر چٹان کی طرح قائم ہے، اور اس میں نرمی لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نائب صدر نے کہا کہ جن پارٹیوں سے ہمیں اُمید تھی وہ ہماری آواز اٹھائیں گی، وہ بھی خاموش بیٹھے ہیں، یہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔

موصوف لیڈر نے بتایا کہ لداخ کے لوگوں کا نوکریوں، زمین اور اسکالر شپ کا حق برقرار رکھا گیا ہے لیکن جموں وکشمیر میں ڈومسائیل قانون لاگو کیا گیا اور اس طرح سے ایک ریاست میں دو نظام لاگو کئے گئے ہیں۔

عمر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لوگوں کے مسائل حل کرنے کی خاطر زبانی جمع خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی طور پر اس حوالے سے صرف کاغذی گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہند مسلم اور سکھوں کے اتحاد اور اتفاق کو زک پہنچانے کیلئے بہت لوگ اپنی دکانیں کھول کے بیٹھے ہیں، اور مزید لوگ بھی اپنی دکانیں کھولیں گے، عوام کو اس حوالے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اجیت پوار کے گھر پر کالا جادو کیا جاتا تھا, روہیت پوار کا سنسنی خیز خلاصہ, تفتیش کا مطالبہ

Published

on

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی روہیت پوار نے اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کے بعد اب سنسنی خیز خلاصہ کر تے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اجیت پوار کے گھر کے باہر کالا جادو کیا جاتا تھا اس کالا جادو کی وجہ پارٹی پر قابو و کنٹرول تو نہیں کیونکہ 16 فروری کو ایک مکتوب الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ارسال کیا گیا تھا جس میں پرفل پٹیل کو قومی صدر مقرر کیا گیا تھا اس میں تین عہدیداروں کی دستخط تھی جس میں سنیل تتکرے, برج موہن سریواستو کا نام شامل ہے انہوں نے کہا کہ ان کی چچی سنترا پوار بھی اس سے لاعلم تھی یہ انتہائی تشویشناک بات ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی پر مکمل قبضہ کر نے کی سازش پہلے ہی انجام دی گئی تھی اس لئے اس کی جانچ ضروری ہے کہ اجیت پوار کی موت حادثہ یا قتل ہے انہوں نے کہا کہ اشوک کھرات سے ہی اجیت پوار کے گھر کے باہر جادو ٹونا کروایا جاتا تھا اس سنسنی خیز خلاصہ کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روہیت پوار نے کئی سنسنی خیز خلاصے کئے ہیں جس میں انہوں نے پارٹی پر دبدبہ قائم رکھنے کیلئے پرافل پٹیل اور سنیل تتکر ے کے الیکشن کمیشن کے اس مکتوب کا حوالہ دیا جو انہوں نے حادثہ کے 16دن بعد ہی الیکشن کمیشن میں جمع کروایا تھا اس معاملہ میں بھی روہیت پوار نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ روہیت پوار نے ایوان اسمبلی میں اس سے قبل اجیت پوار حادثہ میں داخل کرناٹک کی ایف آئی آر کی تفصیلات بتائی اور کہا کہ کرناٹک پولیس نے اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ پونہ میں رات دن اجیت پوار عوام کی خدمت کر تے تھے کیا اب اس ایف آئی آر کو بارامتی میں درج کر کے اس کی تفتیش ہوگی انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں ایف آئی آر مہاراشٹر منتقل کر دی گئی ہے اس کی تفتیش اب ڈی جی پی کے سپرد ہے کیا ڈی جی پی اس تفتیش کو آگے بڑھائیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کماٹی پورہ بازآباکاری پروجیکٹ کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے, امین پٹیل کا پرزور مطالبہ, کام شروع کرنے کی یقین دہانی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے توجہ طلب نوٹس کے معرفت کماٹی پورہ بازآباکاری کلسٹر ڈیولپمنٹ کو فوری طور پر مکمل کرنے اور ورک آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ میں ۱۶ ہزار عمارتیں ہیں جس میں ۲۵ ہزار مکین آباد ہیں ان عمارتوں کی حالت خستہ ہے اور مانسون میں حادثات کا خطرہ ہے اگر ان عمارتوں کو حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی زمہ دار سرکار اور مہاڈ و متعلقہ ایجنسی ہو گی اس لئے اس پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ علاقہ ایک گھنی، کثیر لسانی، متوسط ​​طبقے کی آبادی پر مشتمل ہے جو متعدد پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں آباد ہے۔ مقامی باشندوں کی جانب سے ان تعمیرات کی فوری بحالی کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کماٹی پورہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ذریعے دوبارہ ترقی بازآبادکاری کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے، اور معمار ٹھیکیدارکی تقرری اور ٹینڈرز جاری کرنے جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔تاہم، دوبارہ ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت بڑی تعداد میں عمارتیں عمر کھادی اور کماٹی پورہ جیسے علاقوں میں واقع ہیں۔ چھتیں گرنے، پانی کے رساؤ اور ساخت کی خرابی جیسے واقعات کی وجہ سے رہائشی خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ری ڈیولپمنٹ کو تیز کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، پائدھونی، بھولیشور، نال بازار، کلبا دیوی، اور محمد علی روڈ جیسے علاقے گنجان آباد ہیں اور بہت سی پرانی اور غیر محفوظ عمارتیں ہیں۔ مہاڈا کے لیے سروے کرنے، غیر قانونی تعمیرات کا معائنہ کرنے اور دوبارہ ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، مہاڈا میں عملے کی کمی کی وجہ سے، عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے رہائشیوں میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ہاؤسنگ کا بیان ، ڈیولپمنٹ کنٹرول ریگولیشن (ڈی سی آر) 33(9) کے تحت 12 جنوری 2023 کی حکومتی قرارداد کے ذریعے مہاڈا کے ذریعے کماٹی پورہ علاقے میں پرانی اور خستہ حال سیسڈ اور نان سیسڈ عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت، تقریباً734 عمارتوں اور 8,001 کرایہ داروں/ رہائشیوں کی بحالی کی جائے گی۔ پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے، مہاڈا کو 9 جولائی 2025 کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے، خصوصی منصوبہ بندی اتھارٹی قرار دیا گیا تھا۔
ٹینڈرز 12 جون 2025 کو جاری کیے گئے تھے، اور مناسب کارروائی کے بعد،بھاگیرتھی ہاؤسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ لمیٹڈ اور کماٹی ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ14 نومبر 2025 کوورک آرڈر جاری کرنے کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت 1989-1995 کے دوران، تقریباً 269 سیسڈ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیاجس کے نتیجے میں 66 نئی عمارتیں بنیں۔ مرمت کے لیے، حکومت نے 29 اگست 2024 کو مہاراشٹر ہاؤسنگ فنڈ سے 150 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ ان میں سے، عمر کھادی اور کماٹی پورہ علاقوں میں 12 عمارتوں کی ساختی مرمت کے لیے 12.80 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، اور کام جاری ہے۔
عمر کھادی کے علاقے میں 81 عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک تجویز 3 دسمبر 2024 کو ایم ایچ اے ڈی اے کو پیش کی گئی۔ فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ 20 عمارتوں کی بحالی کی تجویز ناقابل عمل پائی گئی، اور 36 عمارتوں کی نظرثانی شدہ رپورٹ 23 فروری 2026 کو پیش کی گئی، جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ایم ایچ اے ڈی اے ایکٹ 1976 کی دفعہ79(اے) کے تحت عمارت کےمالکان کو دوبارہ ترقی کی تجاویز کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم،ہائی کورٹ نے 28 جولائی 2025 (درخواست نمبر 34771/2024) کو اس کارروائی پر روک لگا دی۔ نوٹسز کا جائزہ لینے کے لیے دو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ مہاڈا نے ممبئی میں عمارتوں کے اسٹرکچرل اسٹیبلٹی آڈٹ کرنے کے لیے 64 اسٹرکچرل آڈیٹرز/آرکیٹیکٹس کو مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، 23 فروری 2026 کو عملے کے ریکارڈ کی منظوری کے بعد ایم ایچ اے ڈی اے میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے بھرتی جاری ہے۔وزیر مملکت پنکج بھوئیر نے کہا کہ ایک ہفتہ میں ورک آرڈر جاری کر کے دو ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا اور اس پروجیکٹ کو وائٹل پروجیکٹ پر بھی وزیر اعلیٰ سے میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا یہ یقین دہانی وزیر موصوف نے کروائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈھونگی بابا اشوک کھرات شنکر کا اوتار قرار, ایوان اسمبلی میں وزیر اعلی فڑنویس کا دعوی, تفصیلات پیش

Published

on

ممبئی: ڈھونگی بابا اشوک کھرات کیخلاف کل 11 ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں 6 معاملات جنسی زیادتی کے شامل ہیں اس میں کھرات خود کوخدائی اوتارقرار دے کر خواتین کے جنسی استحصال کیا کرتا تھا اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مستقبل تباہ کرنے کی بھی دھمکی دیا کرتا تھا اس معاملہ میں بھی ڈھونگی بابا نے متاثرہ خاتون کو دھمکی دی تھی اس کے ساتھ ہی اس نے خاتون کا حمل ساقط کروایا تھا اس کے ساتھ ہی اس نے خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کے دوران انہیں بتایا تھا کہ وہ خدائی اوتار یعنی شنکر کا اوتار ہے اور وہ ان کی شدھی کرتا ہے اس لئے وہ اپنی زبان بند رکھے اگر وہ اپنی زبان کھولتی ہے تو اس کے برے نتائج ہوں گے اس قسم کی تفصیلات ایوان اسمبلی میں وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ایوان میں پیش کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اشوک کھرات کی جائیداد سے متعلق تفصیلات بھی جمع کر لی گئی ہے اس کے ساتھ متاثرہ خواتین سے بھی یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اس کے خلاف شکایت درج کروائیں یہ معاملہ ایس آئی ٹی کے سپرد کیا گیا ہے اس کی تفتیش میں کئی اہم خلاصے بھی ہوئے ہیں۔ فڑنویس نے یہ واضح کیا ہے کہ اس رابطہ کاروں سے بھی تفتیش ممکن ہے پولیس اور ایس آئی ٹی ٹیمیں اس کے موبائل فون ڈیجیٹل سمیت دیگر ٹیکنیکل دستاویزات کی بنیاد پر تفتیش کر رہی ہے اور یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ آیا اسے کس کی سر پرستی حاصل تھی اور کون کون لوگ اس میں ملوث تھے اس میں وزراء سے لے کر اعلی افسران کے ملوث ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اس لئے وزیر اعلی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جو بھی رابطہ کار ہے ان سے باز پرس ہوگی اس لئے اب وزیر اعلی کے اس اعلان کے بعد اب ڈھونگی بابا کے رابطہ کاروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اس معاملہ میں ڈھونگی بابا کے معتقد روپالی چاکنکرسمیت کئی اہم وزیر اور دیگر سے بھی باز پرس کا امکان ہے ایس آئی ٹی نے اپنی تفتیش میں کئی اہم پیش رفت کی ہے۔ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ اشوک کھرات کے پین ڈرائیو سے 58 ویڈیو اور فوٹو بھی برآمد ہوئی ہے اس سے متعلق بھی جانچ جاری ہے اس کے ساتھ ہی پین ڈرائیو سے لے کر موبائل فون اور اس کی پستول سمیت دیگر دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان