Connect with us
Friday,06-November-2026

(جنرل (عام

جنسی زیادتی کے ارادے سے بچوں کو چھونا پوکسو جرم : سپریم کورٹ

Published

on

supream court

سپریم کورٹ نے جمعرات کو بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کسی بچے کو جنسی زیادتی کے ارادے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر چھونا پوکسو کے قانون کے تحت جرم ہے، اور اس کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔

بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے جنسی ہراسانی سے متعلق ایک معاملے میں اپنے 19 جنوری کے فیصلے میں کہا تھا کہ ’اسکن ٹو اسکن ٹچ‘ یعنی جسم کو براہ راست چھونا پوکسو ایکٹ کے تحت الزامات عائد کرنے کے لیے لازمی ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ پوکسو ایکٹ کی مختصر اور غلط تشریح کی گئی ہے۔ اس کے نتائج مستقبل میں بہت خطرناک ہوں گے، اس لیے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے عرضی گزاروں کی دلیلوں کو مناسب ٹھہرایا اور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ تین ججوں کی بنچ نے کہا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کی نیت سے کسی بھی طرح سے بچے کے جنسی اعضاء کو چھونے کے عمل کو پوکسو ایکٹ کی دفعہ 7 کے دائرے سے نہیں نکالا جا سکتا۔ کسی بھی طرح غلط نیت سے چھونا جرم ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ملزمان کو سخت سزا دینے کی ہدایت کی۔

جسٹس للت اور جسٹس ترویدی کا فیصلہ الگ الگ پڑھا گیا۔ فیصلہ پڑھتے ہوئے، جسٹس نے کہاکہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ جب مقننہ نے واضح ارادہ ظاہر کیا ہے تو عدالتیں اس شق میں ابہام کی صورتحال پیدا نہیں کر سکتیں۔ جسٹس بھٹ نے اپنا فیصلہ دونوں ججوں کے فیصلے کے موافق سنایا۔

بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جنسی زیادتی کے لیے ارادہ ضروری ہے نہ کہ بچے کے جسم کے ساتھ واضح یا غیر واضح جِلدی لمس۔ عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، مہاراشٹر حکومت اور قومی خواتین کمیشن اور دیگر فریقوں کے دلائل سننے کے بعد 30 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، مہاراشٹر اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین، قومی خواتین کمیشن اور دیگر نے عدالت عظمیٰ میں عرضیاں دائر کرکے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ 27 جنوری کو سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلے پر روک لگا دی تھی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل گوپال نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں پوکسو ایکٹ کی دفعہ 7 کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سرجیکل دستانے پہن کر کوئی مرد کسی عورت کو اس کی مرضی کے خلاف اس کے پورے جسم کو چھوتا ہے تو اسے جنسی زیادتی کا مجرم نہیں سمجھا جائے گا، اور اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

شری گوپال نے کئی اور دلائل کی بنیاد پر کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے طویل مدت میں خطرناک نتائج نکلنے کا امکان ہے۔ اس لیے اسے منسوخ کیا جائے۔ دیگر فریقین کی جانب سے اسی طرح کے دلائل پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

Published

on

krit-saumya

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔

گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

Published

on

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ماؤنوازوں کے خلاف گڈچرولی پولس کی بڑی کارروائی! پولس آپریشن کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف اشیاء اور دھماکہ خیز مواد برآمد کی گئیں

Published

on

Maoists

مہاراشٹر : گڈچرولی ضلع میں اب ماؤ نواز نظریے کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہاں کے شہری بالآخر اس دہشت سے آزاد ہو چکے ہیں جو کبھی ان پر مسلط تھی۔ ماضی میں، ماؤ نواز سکیورٹی فورسز کو دھمکانے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے مختلف ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے تھے۔ وہ ریاستی سرحدوں کے ساتھ واقع دور دراز اور جنگلات سے بھرپور علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ مواد تیار کرتے اور اسے خفیہ طور پر زیر زمین دفن کرتے تھے۔ ان کا مقصد مخصوص مواقع جیسے کہ ‘نکسل ہفتوں’ (Naxal weeks) یا انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے اس مواد کا استعمال کرنا تھا۔ اس صورتحال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے، گڈچرولی پولیس نے 4 نومبر 2026 کو یہ چھپایا گیا مواد کامیابی سے برآمد کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق، گڈچرولی پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ماؤ نوازوں نے ‘تَوے’ (Tavve) کے جنگلی علاقے میں جو گراپٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا ہے۔ اس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر، گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی رہنمائی میں، 4 نومبر 2026 کو ایک تلاشی آپریشن (سرچ آپریشن) شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں ‘اسپیشل آپریشن اسکواڈ’ (گڈچرولی اور پرانہِتا) کے چار یونٹس اور ‘بم ڈٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ’ (BDDS) کی دو ٹیموں نے حصہ لیا۔ جنگلی علاقے میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (SOS) اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS) کی جانب سے چلائے گئے تلاشی آپریشن کے دوران، جائے وقوعہ سے 1) 11 پریشر ککر (جنہیں دھماکہ خیز مواد کے طور پر استعمال کیا جانا تھا)، 2) کورڈٹیکس (Cordtex) تار کے 3 بنڈل (100 فٹ)، 3) 3 کلو گرام بارود، 4) 4 ڈیٹونیٹرز، 5) ایک 12 وولٹ کی بیٹری، 6) آتش بازی میں استعمال ہونے والا 250 گرام بارود، 7) اسٹیل کے 4 کنٹینر، 8) تاروں کے 8 بنڈل، 9) ایک سولر پینل، اور اس کے ساتھ ماؤ نواز (Maoist) سرگرمیوں سے متعلق دیگر سامان برآمد ہوا ۔

یہ آپریشن گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی ہدایات اور رہنمائی میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ کارروائی ایڈیشنل ایس پی (آپریشنز) کارتک مدھیرا، ایڈیشنل ایس پی شری گوکل راج جی، ایڈیشنل ایس پی آہری (پرانہتا) ہرش وردھن بی جے، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) سنیل اوئکے کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس آپریشن میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (گڈچرولی اور پرانہتا)، انٹیلی جنس سیل، اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS)کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایم رمیش نے اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی ستائش کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان