Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

تریپورہ فساد : شرپسند وں کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک، نفرت کی سیاست ملک کو تباہ کردے گی : مولانا ارشدمدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

تریپورہ میں ہونے والے فساد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ شرپسندوں کے خلاف اب تک کسی ٹھوس کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ ردعمل انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے تری پورہ فسادزدہ علاقوں کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد پیش تفصیلی رپورٹ پر ظاہر کرتے ہوئے کہی۔ مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مفتی سید معصوم ثاقب اور سکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اظہر مدنی پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے تریپورہ فساد زدہ علاقہ کا دورہ کر کے اپنی تفصیلی اور تفتیشی رپورٹ مولانا مدنی کو پیش کی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ تریپورہ کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک پرامن ریاست رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ البتہ ادھر جب سے ایک مخصوص نظریہ کو ماننے والی پارٹی اقتدار میں آئی ہے فرقہ پرست عناصر اور ان کی تنظیموں کو ایک طرح سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، فساد برپا کرنے کی سازشیں تو پہلے سے ہوتی رہی ہیں، لیکن پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں ہوئے واقعات کو بہانہ بنا کر بعض فرقہ پرست تنظیموں نے وہاں حیوانیت اور بربریت کا جو مظاہرہ کیا وہ یہ بتاتا ہے کہ فرقہ واریت کا زہر کس طرح لوگوں کے دلوں میں اندر تک سرایت کر گیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق 12 مسجدوں پر حملے ہوئے، جلوس کے دوران کی گئی آتشزنی سے مذہبی عبادت گاہوں اور مسلمانوں کی دوکانوں و دیگر املاک کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تریپورہ میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ مجروح ہوئی ہے۔ ایک ایسے جمہوری ملک میں کہ جہاں آئین کی بالادستی مسلم ہو جس میں ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہوں۔ ایک منتخب شدہ حکومت کے ہوتے ہوئے کسی ریاست میں اگر اس طرح کے افسوسناک واقعات رونما ہوں اور مرکز و ریاست دونوں حکومتیں کچھ نہ کریں، تو اس سے آئین وقانون کے بالادستی کے ساتھ ساتھ انصاف کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

مولانا مدنی نے دعوی کیا کہ جلوس کے دوران شرپسندوں کی بھیڑ مسلم اکثریتی علاقوں سے انتہائی دلآ زار نعرہ لگاتی اور مسجدوں اور دوکانوں کو جلاتی ہوئی گزری، اور پولس اور انتظامیہ کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے رہے، یہ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ باور کرایا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ اس کا رد عمل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی غیر ملک میں کچھ ہوتا ہے تو اس کا انتقام اپنے ملک کے شہریوں سے لیا جانا کہا کا انصاف ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے شرپسند عناصر کے خلاف جس طرح کی کارروائی کی ویسی کارروائی ہماری حکومت نے شرپسند عناصر کے خلاف کیوں نہیں کی؟ ہم نے بنگلہ دیش میں ہوئے تشدد کی سخت مذمت کی تھی، کسی بھی مہذب سماج میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

تریپورہ میں فرقہ پرست طاقتوں نے مسلم اقلیت کے خلاف جو کچھ کیا، ہم اس کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تریپورہ کی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ریاست میں مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کو نہ صرف یقینی بنائے بلکہ خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کرے، اگر ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا یا انہیں سیاسی تحفظ فراہم کیا گیا تو ان کے حوصلہ مزید بڑھ سکتے ہیں، اور وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی مذموم کارروائیاں انجام دیکر امن و قانون کے لئے خطرہ بنتے رہیں گے۔

مولانا مدنی نے اس امرپر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا کہ تریپورہ کئی دنوں تک شرپسند عناصر کے نشانہ پر رہا، اور آئین کی پاسداری کا حلف لینے والے ہمارے رہنما تماش بین بنے رہے۔ ملک کے آئین اور سیکولر روایت کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ تری پورہ ہائی کورٹ نے ازخود ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی سرکار اپنا فرض ایمانداری سے پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا نے ایک بار پھر اپنا دوہرا چہرہ دکھا دیا، بنگلہ دیش کے پرتشدد واقعات کو تو اس نے خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا، لیکن جب تریپورہ میں حیوانیت کا کھیل ہوا تو اس کی کوئی خبر نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند شرپسندوں کے ہاتھوں جلائی ومسمار کی گئی مسجدوں کی تعمیر نو کرائے گی، اور متاثرین کی باز آبادکاری بھی کریگی، لیکن تریپورہ کے مسلمانوں کے دلوں میں ان واقعات کے بعد جو ڈر اور خوف بیٹھ گیا ہے، وہ اتنے بھر سے دور نہ ہوگا، بلکہ اس کی واحد صورت یہ ہے کہ پورے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہو، اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو، تاکہ انہیں ملک کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امتیاز اور تعصب کا رویہ اختیار کر کے ایک خاص کمیونٹی کو قومی دھارے سے الگ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ در حقیقت وہ ملک کو تباہی کے راستہ پر ڈال رہے ہیں۔ جمہوری نظام سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے، ملک کی بڑی آبادی کا خودکو غیر محفوظ تصور کرنا انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہے۔ حکومتیں ڈر اور خوف سے نہیں، بلکہ عدل و انصاف سے چلتی ہیں۔

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان