Connect with us
Sunday,06-September-2026

(جنرل (عام

حج- 2022 کا سرکاری اعلان نومبر کے پہلے ہفتے میں : نقوی

Published

on

Naqvi..

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ حج ادا کرنے کے خواہشمند افراد کے انتخاب کا عمل، کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے اور سعودی عرب حکومت کی جانب سے حج 2022 کے وقت طے کیے جانے والے کورونا پروٹوکول، رہنما خطوط اور میعار کے تحت ہوگا، اور اس کا باضابطہ اعلان نومبر کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا۔

مسٹر نقوی نے آج یہاں حج جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کو ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈ، ’ای مسیحا‘ ہیلتھ سہولت، مکہ مدینہ میں قیام کرنے کی عمارت / ٹرانسپورٹ کی معلومات ہندوستان میں ہی فراہم کرنے والے ای – لگیج ٹیگنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بار سعودی عرب اور ہندوستان کی حکومت کے ہیلتھ اینڈ کورونا پروٹوکول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حج-2022 کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حج-2022 کا سرکاری اعلان نومبر کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حج کے لئے آن لائن درخواستوں کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ ہندوستان کا حج 2022 کا مکمل عمل 100 فیصد آن لائن ڈیجیٹل ہوگا۔ انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ حجاج کرام ہندوستان سے جاتے ہیں۔

(جنرل (عام

نوراتری گربا ڈانڈیا میں وشو ہندو پریشد کی مسلم پابندی پر حکومت موقف واضح کرے :سماج وادی پارٹیے ایم ایل اے رئیس شیخ

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی ؛ وشو ہندو پریشد نے 11 اکتوبر سے شروع ہونے والی نوراتری کے دوران مسلم نوجوانوں پر گربا ڈانڈیا گیمز پر پابندی لگانے کے لیے غیر قانونی ضابطے جاری کیے ہیں۔ ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، سماج وادی پارٹی کے بھیونڈی ایسٹ کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے اتوار کو مطالبہ کیا۔اس حوالے سے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ تہوار معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں ہندوستان میں دوسرے مذاہب کے تہواروں میں شرکت کی روایت ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ عید اور رمضان میں خوشی سے شریک ہوتے ہیں۔ تاہم وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حال ہی میں نیویارک میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بیان دیا تھا کہ ‘جو مسلمانوں کو نہیں کہتا وہ ہندو نہیں ہے’۔ وشو ہندو پریشد نے مسلمانوں پر گربا ڈنڈیا پر پابندی لگانے کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے بھاگوت کے بیان کا ضرور نوٹس نہیں لیا ہوگا۔ یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسی ہے کہ ایک خیال پیش کریں اور حقیقت میں اس کے برعکس کریں،یہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی ثقافتی پولیسنگ ہے۔ مسلمانوں پر پابندی لگانے کا وشو ہندو پریشد کا فتویٰ ہندوستانی آئین کے خلاف ہے۔ ریاستی حکومت کو اس فرمان کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ کیونکہ اس طرح کے انتہا پسندانہ موقف کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتاتہوار ہندوستانیوں کی ثقافت ہیں اور فرقہ وارانہ جذبات کو بانٹنے کا جشن ہیں۔ تاہم حال ہی میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی انتہا پسند تنظیمیں تہواروں کے دوران مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور فسادات بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت اس کا نوٹس لے اور اس طرح کی حرکتوں پر قدغن لگائے ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی نفع بخش کاروبار کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی دو اہم ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی ویزا ڈ ٹریڈرس وی کے نام سے جعلی فیس بک پیج بنا کر اس کے ذریعے زیادہ منافع دلانے کے بہانے آن لائن دھوکہ دہی کرنے والے 02 اہم ملزمان کو جے پور راجستھان سے گرفتار کرنے کا دعوی ممبئی پولس نے کیا ہے اوشیورہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں رہنے والی شکایت کنندہ خاتون نے تاریخ ۱۲جولائی ۲۰۲۶کو اپنے موبائل کے ذریعے فیس بک پر سرفنگ کرتے ہوئے انہیں ایک فیس بک پیج ملا۔ مذکورہ پیج وزرڈ ٹریڈرز 7 کے نام سے بنایا گیا تھا اس کا یو آر ایل https://facebook-com/1221162594405776 ایسا تھا، انہوں نے مذکورہ پیج پر ایک پوسٹ کی ہوئی تھی۔ اس میں ملزمان نے کہا تھا کہ 99 روپے بھرنے پر 9999 روپے ملیں گے ایسا لکھا ہوا تھا۔ شکایت کنندہ نے مذکورہ فیس بک پیج کلک کیا تو 8426965923 اس واٹس ایپ نمبر سے ان کو ہائے ایسا میسج پیغام موصول ہوا ۔مذکورہ نمبر سے ایک نامعلوم شخص نے شکایت کنندہ سے اس اسکیم کی معلومات دی۔شکایت کنندہ نے اس میں سے 99 روپے والی اسکیم لینے کے بارے میں بتانے پر انہوں نے ان کے بھیجے ہوئے کیو آر کوڈ پر 99 روپے گوگل پے کے ذریعے بھیجے اور اس کا اسکرین شاٹ ان کو بھیجا۔

اس کے بعد ملزم نے تاریخ ۱۳ جولائی کو رات 03:30 بجے تک شکایت کنندہ سے مختلف موبائل نمبروں سے رابطہ کرکے مختلف بہانے بتا کر شکایت کنندہ کو ان کے اکاؤنٹ سے مختلف اکاؤنٹس پر کل 22 ٹرانزیکشن منتقلی پر مجبور کرکے ان کی کل 73,521روپے کی مالی دھوکہ دہی کی اس لیے شکایت کنندہ نے اوشیورہ پولیس اسٹیشن میں دی گئی شکایت پر دفعہ 318(4), 319(2) بی این ایس اور دفعہ 66(c), 66(d) آئی ٹی ایکٹ 2000 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔مذکورہ مقدمے میں شکایت کنندہ نے دیے گئے بیان کے مطابق پہلے ملزمان نے مقدمے میں استعمال کیا ہوا فیس بک پیج وزرڈ ٹریڈرز 7 اس فیس بک اکاؤنٹ کی معلومات لی تو مذکورہ جرم کرنے والے دو اہم ملزمان کا پتہ چلا اور مندرجہ ذیل ملزمان کو اوشیورہ پولیس اسٹیشن، ممبئی کی سائبر ٹیم نے پچھلے 04 دنوں سے راجستھان ریاست کے ضلع جے پور، ضلع دوسہ سے ان کا تعاقب کیا تو وہ وقتاً فوقتاً اپناٹھکانہ بدل رہے تھے۔ ملزمان کو نہایت ہوشیاری سے جال بچھا کر مقامی پولیس اسٹیشن، شیو داس پورہ، جنوبی جے پور، ریاست راجستھان سے مقامی پولیس کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کواندھیری کورٹ کے سامنے حاضر کیا تو ان کو تاریخ ۷ ستمبر تک پولیس کسٹڈی پر بھیج دیا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے جرم میں استعمال سامان بھی برآمد کیا گیا ۔ جن میں 02 آئی فون کمپنی کا موبائل قیمت 70,000روپے01 اوپو کمپنی کا موبائل قیمت 10,000مختلف موبائل کمپنیوں کے کل 11 پرانے استعمال شدہ سم کارڈز01 این ایس ڈی ایل بینک کا ڈیبٹ کارڈ نمبر01 پی ٹی ایم کمپنی کا کیو آر اسکینر اس کا یوپی آئی آئی ڈی paytm.s2gotdq@ptyشامل ہے ۔ ملزمین کی شناخت دیپک سیتارام مینا، عمر 21 سال، بے روزگار،تالاب گاؤں، تعلقہ لالسوٹ، ضلع دوسہ، ریاست راجستھان ، ہرکیش گوپال مینا، عمر 30 سال بے روزگار راجستھان جانکپ کالونی، تعلقہ کوٹپوٹلی، ضلع جے پور، ریاست راجستھان ہےدونوں کو گرفتار کرنے کے بعد پولس نے مزید کارروائی شروع کر دی ہے اور اس معاملہ میں پولس نے ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی بھی جانچ شروع کی ہے ۔ مذکورہ کارروائی ممبئی اوشیوارہ پولس اسٹیشن کے عملہ اور ڈی سی پی پرشوتم کرا ڈ کی رہنمائی میں انجام دی گئی ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

Published

on

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان