Connect with us
Monday,20-April-2026

(جنرل (عام

ملک کی 60 کروڑ آبادی کو مودی سرکار نے بے روزگار کر دیا : طارق انور

Published

on

National Solidarity Conference

دہلی پردیش قومی تنظیم کے زیر اہتمام ضلع نجف گڑھ قومی تنظیم کی جانب سے منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر طارق انور نے کہاکہ جس طرح سے نفرت پھیلانے کا کام آر ایس ایس، بی جے پی اور اس کے لوگ کر رہے ہیں، اور سرکار میں بیٹھے لوگ نفرت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ وہ گاندھی کے بھارت کیلئے ٹھیک نہیں ہے، اس لئے آل انڈیا قومی تنظیم نے پورے ملک میں نفرت چھوڑو بھارت جوڑو مہم کی شروعات کی ہے، اور یہ مہم کامیابی کیساتھ جاری بھی ہے۔

مسٹر طارق انور نے کہا کہ ایسے تمام لوگ جو گاندھیائی نظریہ میں یقین رکھتے ہیں، ان کا قومی تنظیم میں استقبال ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری 45 سال کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ 55 سے 60 کروڑ لوگ غریبی ریکھا سے نیچے ہیں، اور غریبی کا عالم یہ ہے کہ آج 80 کروڑ آبادی سرکار کی جانب سے دئے جانے والے اناج پر منحصر ہو کر رہ گئی ہے، اور بی جے پی ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہے کہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی جب ملے، تو وہ کہیں کہ مودی کی وجہ سے ہی روٹی ملی ہے، اور اس کے بعد کیا ہوگا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ دو کروڑ لوگوں کو روز گار دیں گے، لیکن یہ سال میں دو کروڑ لوگوں کا روز گار چھین رہے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ تھا، لیکن آج یہ لوگ طاقت کے نشے میں کسانوں کو روندنے کا کام کر رہے ہیں۔ جو کسان ہمارے لئے دو وقت کی روٹی اگاتا ہے آج اسی کسان کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔

طارق انور نے کہا کہ فرقہ پرستی اپنے شباب پر ہے اس لئے ضروری ہے کہ پہلے ملک کو فرقہ پرستی سے بچایا جائے اور ہمارے بزرگوں نے جو بھارت ہم کو سونپا تھا، اس کی حفاظت کی جائے۔ ان کے خوابوں کا بھارت بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کو بانٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں بھارت کی امیج خراب ہو رہی ہے۔ ملک سے غداری کا جو قانون انگریزوں نے اپنی حکومت بچانے کیلئے بنایا تھا اس قانون کا غلط استعمال کر کے ہر آدمی کو وطن دشمن بتانے کی سازش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندو کو مسلمان سے لڑانے کی سازش اس لئے ہو رہی ہے تاکہ اصل ایشو سے ایجنڈے کو ڈائیورٹ کیا جاسکے۔ آج میڈیا بھی اصل ایشو پر بحث نہیں کرنا چاہتا ہے۔ ایسے ایشوز زیر بحث لائے جاتے ہیں، جن کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی الیکشن قریب آ رہا ہے۔ ویسے ہی فرقہ پرستی کا ناگ ایک بار پھر کمزروں کو ڈسنے کیلئے پھن پھیلائے کھڑا ہے اور اس سے بچائو کا واحد راستہ گاندھی کا نظریہ حیات ہے۔ اس موقع پر قومی تنظیم دہلی پردیش کے صدر ہدایت اللہ جنٹل نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کو ہرانے اور جتانے کیلئے کام نہ کریں، بلکہ دیکھیں کہ کون ان کی لڑائی لڑ رہا ہے، ورنہ ایک دن ایسے آئے گا کہ لوگ کمزروں کے بارے میں بولنا بھی چھوڑ دیں گے۔ پروگرام کی نظامت کر رہے مولانا قمر الدین (قومی سکریٹری آل انڈیا قومی تنظیم) نے لوگوں سے گاندھی کے راستے پر چلنے کی اپیل کرتے ہوئے قومی تنظیم سے جڑنے کی اپیل کی۔

اس موقع پر قومی تنظیم کے قومی جنرل سکریٹری آرگنائزیشن محمد احمد، ضلع نجف گڑھ صدر رفیع الدین خان، قومی تنظیم کراری ضلع صدر حاجی انتظار، سکندر، مولانا عبد الرشید، مولانا مقبول احمد، مہیش دویدی، قیصرانصاری، انسان علی، مولانا تصور نظامی، قاری سلیم، حافظ انصار، قاری اعجاز، ممتاز عالم، شاہنواز حسین سمیت سیکڑوں لوگ موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لینسکارٹ اسٹور میں بی جے پی لیڈر نازیہ الہی کی شرانگیزی, اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل

Published

on

ممبئی : ممبئی کے اندھیری علاقہ میں لیسنکارٹ اسٹور میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر نازیہ الہی نے نہ صرف یہ کہ نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک مسلم نوجوان سے بحث کر تے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح سے یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے لینسکارٹ میں ہندو لباس و طریقہ رسم و رواج پر پابندی کے بعد نازیہ الہی نےسوشل میڈیا پر لینسکارٹ میں داخل ہوکر یہاں ہندو ملازمین کو تلک لگایا جس کے بعد یہ معاملہ اب مذہبی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے لینسکارٹ کے مالک پیوش بنسل سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلامی رسم و رواج کے لیے اتنی “محبت” ہے تو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں ہندو عقائد کے لیے اتنی “نفرت” کیوں ہے؟ لینسکارٹ کے دوہرے معیار کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سناتن روایات کی حامی اور بی جے پی لیڈر نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا اور ملازمین کو تلک لگایا۔نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔نازیہ نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات اور شناخت سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لینسکارٹ اسٹور کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے، اس نے لکھا، “تلک آپ کےلئے باعث افتخار ہے۔ کلاوا آپ کا سنسکار (مقدس دھاگہ) آپ کا سنسکار (ثقافت) ہے۔ سناتن آپ کی پہچان ہے ہر ہر مہادیوکا نعرہ لگانا آپ کا اعزاز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہندو جہاں بھی کام کرتے ہیں، انہیں اپنی شناخت اور روایات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نازیہ نے لکھا۔چاہے آپ لینسکارٹ میں کام کریں یا ایئر انڈیا میں، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔” نازیہ نے اپنی پوسٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دفتر، وی ایچ پی، بجرنگ دل، مہاراشٹر بی جے پی اور ایئر انڈیا کو ٹیگ کیا
لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگانے کی مہم پوسٹ کی گئی تصاویر میں نازیہ الٰہی خان لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس پوسٹ پر سابق مسلم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔بہت سے صارفین نے انتہائی جارحانہ اور بیہودہ تبصرے کیے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔لینسکارٹ دوہرے معیار کے الزامات کے درمیان تنازعہ کاشکار ہوگیا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ لینسکارٹ کے اپنے ملازمین کے لیے لباس اور تصویر کے حوالے سے داخلی ہدایات گزشتہ کچھ دنوں سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ہندو اکثریتی ملک میں ایک ہندو ملکی کمپنی جس میں ہندو ملازمین اور ہندو خریداروں کی اکثریت ہے، ہندو مذہبی عقائد اور ہندو شناخت کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔ پیوش بنسل نے دو الگ الگ پوسٹس میں ان الزامات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لینسکارٹ گرومنگ گائیڈ لائنز پرانی ہیں۔
لینسکارٹ کے ڈریسنگ رولز پر تنقید
پیوش بنسل نے تسلیم کیا کہ سندھور، بندی اور کلاوا پر پابندی عائد تھی۔لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے گہرے امتیازی رہنما خطوط کسی میں موجود ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ “نئے رہنما خطوط کہاں ہیں جو سندور، بندی اور کلاوا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟” دریں اثنا، لینسکارٹ کے کئی سابق اور موجودہ ملازمین رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح کمپنی ہندو ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ کچھ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ہندو مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے تھے یا ان کی حمایت میں بات کرتے تھے۔لینسکارٹ کے حصص فروخت ہوئے۔مذہبی امتیاز کے الزامات اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے تنازعہ کے بعد، لینسکارٹ کے حصص فروخت ہو رہے ہیں۔ پیر کو، لینسکارٹ کے حصص دونوں بڑے انڈیکس، بی ایس ای اور این ایس ای پر تقریباً دو فیصد گر گئے۔ دوپہر 2:40 بجے اس خبر کو شائع کرنے کے وقت، بی ایس ای پر لینسکارٹ کے حصص 1.83%، یا ₹9.80، ₹524.75 تک نیچے تھے۔ دریں اثنا، این ایس ای پر، لینسکارٹ کے حصص 1.82%، یا ₹9.75، گر کر ₹524.80 پر آ گئے۔اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا ہے جبکہ یہ معاملہ مذہبی بھید بھائو اور فرقہ پرستی سے بھی وابستہ ہے اور کھلے عام مذہبی عناد پیدا کرتے ہوئے نازیہ الہی نے کسی ایک مذہب کا ہدف بھی بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : عیدالاضحی سے قبل جانوروں کی بے جا پکڑ دھکڑ پر روک کا مطالبہ، ابوعاصم اعظمی کی ڈی جی پی سدانندداتے سے کارروائی کا بھی مطالبہ

Published

on

ممبئی : ممبئی عید الاضحی سے قبل شرپسندوں کے جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں کی ہراسائی قربانی کے جانوروں کی پکڑ دھکڑ ہفتہ وصولی تشدد کے خلاف مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس ڈی جی پی سے ملاقات کر کے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی جانوروں کے تاجروں کو ہرساں کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے والوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں عید الاضحی پر نظم و نسق خراب کرنے والوں پر بھی ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی جی سے میٹنگ میں جانوروں کی نقل و حمل کے دوران تاجروں کو درپیش مسائل جن میں ہراساں کرنا، ہفتہ وصولی ، تشدد اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جانا شامل ہیں، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کئی مقامات پر سماج دشمن عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اس میٹنگ میں قریشی برادری کو درپیش مسائل سے متعلق بھی ڈی جی پی کو آگاہ کیا گیا اور قربانی کے دوران گوشت کی نقل و حمل بآسانی ہو اس کےلئے اسکواڈ سمیت دیگر سیکورٹی کا بھی انتظام ہو اعظمی نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن نمبر جاری کیا جائے، واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ پولیس کے علاوہ کوئی بھی گاڑیوں کو نہ روکے، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور اجازت نامے کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ اس طرح کے کئی مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔
اس سلسلے میں، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدانند دتے نے مثبت یقین دہانی کرائی، رہنمایانہ اصول ایس او پیز کو سختی سے تیار کرنے، ہیلپ لائن نمبر 112 کو فعال رکھنے اور ضروری اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے دیگر مطالبات کو بھی حل کرنے کا وعدہ کیا۔
اس ملاقات میں ایڈوکیٹ یوسف ابرہانی، آصف قریشی اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان