سیاست
مہلوک کسانوں کو 45۔45 لاکھ روپئے کا معاوضہ اور سرکاری نوکری دینے کا اعلان

اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے تکونیا علاقے میں اتوار کو پیش آئے تشدد میں مارے گئے چار کسانوں کے اہل خانہ کو ریاستی حکومت 45۔45 لاکھ روپئے کا معاوضہ اور ایک رکن کو سرکاری نوکری دے گی۔ علاوہ ازیں شدید طور سے زخمی آٹھ کسانوں کو دس۔ دس لاکھ روپئے کی مالی مدد دی جائے گی۔ ساتھ ہی پورے معاملے کی جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے گی۔
آفیشیل ذرائع نے پیر کو بتایا کہ کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ اور حکومت کی جانب سے اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار اور دیگر اعلی افسران کے درمیان ہوئی بات چت میں یہ رضامندی نی ہے کہ حکومت اس تشدد میں جاں بحق ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ کو 45۔45 لاکھ روپئے کا معاوضہ دے گی۔ اس کے ساتھ ہی مرنے والوں کے اہل خانہ کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔ مقتول کسانوں میں دلجیت سنگھ (32) باشندہ نانپارہ بہرائچ، گروندر سنگھ (20) باشندہ نانپارہ بہرائچ، لوپریت سنگھ (19) باشندہ پلیا لکھیم پور اور نچھتر سنگھ باشندہ دھورارا لکھیم پور شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تشدد کی وجوہات کی عدالتی جانچ کی جائے گی جسے الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ یا موجود جج کریں گے۔ افسران نے تیقن دیا ہے کہ آٹھ دنوں کے اندر اس واقعہ میں ملوث سبھی ملزمین کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ مگر مسٹر ٹکیت نے مملکتی وزیر کے استعفی اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کی 24 گھنٹے کے اندر گرفتاری کے مطالبے کو دہرایا ہے۔ اس مطالبے پر افسران کا کہنا تھا کہ مملکتی وزیر کا استعفی ریاستی حکومت کے تحت نہیں ہے، لیکن ان کے مطالبے کو مرکزی حکومت تک پہنچایا جائے گا، اور آشیش مشرا کی گرفتاری کی جلد کوشش کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ تشدد میں زخمی ہوئے افراد کو دس دس لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا جائے گا اور ان کے مفت علاج کا انتظام کیا جائے گا۔ زخمیوں میں دو کی حالت نازک ہونے پر انہیں علاج کے لئے لکھنؤ ریفر کر دیا گیا ہے، جبکہ چھ کا علاج لکھیم پور کھیری ضلع اسپتال میں چل رہا ہے۔
موصول اطلاع کے مطابق کسان لیڈر کے ساتھ ہوئی مفاہمت کے بعد کسانوں کی بھیٹر کم ہونی شروع ہوگئی ہے۔ کل تک مشتعل کسان اب امن کے ساتھ ضلع کے باہر جاتے نظر آنے لگے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے مہلوکین کا پنج نامہ کر اکر لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی ہیں۔ مفاہمت کے مطابق مہلوکین کے آخری رسومات کی ادائیگی پورے اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟
آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔
ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔
راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔
جرم
ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔
-
سیاست10 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست6 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا