Connect with us
Friday,18-September-2026

سیاست

کانگریس کا کسانوں کے بھارت بند کو حمایت دینے کا اعلان

Published

on

congress

کانگریس نے کہا ہے کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، اور حکومت ان کے جائز مطالبات کو نہیں سن رہی ہیں، اس لئے پارتی 27 ستمبر کو کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کرے گی۔

کانگریس ترجمان گورو ولّو نے سنیچر کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت منڈیوں کو ختم کر رہی ہے، اور زرعی قوانین کے ذریعہ کسانون کو تباہ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، اس لئے کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے، اور ان کے بھارت بند کی حمایت کر کے اسے کامیابی بنانے کے لئے پر زور کوشش کرے گی۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت کسانوں کو نقصان پہنچانے کی اپنی پالیسی پر بضڈ ہے، اور وہ کسانون سے بات تک نہیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک کر رہے کسانوں کے ساتھ حکومت نے جنوری سے اب تک کوئی بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے گیہو پر کم از کم امدادی قیمت 40 پیسے فی کلو گرام بڑھائی ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلی تھے، تو وہ ایم ایس پی کو قانونی درجہ دینے کی بات کرتے تھے، لیکن آج وہ مکر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کسانوں کی بہبود کی بات تو کرتی ہے، لیکن اصلیت یہ ہے کہ اس کے دور اقتدار میں کسانوں کے بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ کورونا کے وقت کسانوں نے تین فیصد کی گروتھ کر کے ملک کی معاشی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا کام کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بہبود کی بات کرنے والی مودی حکومت میں گزشتہ سات برسوں کے دوران زراعت پر لاگت میں 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، اور کسان کی یومیہ آمدنی 27 روپے رہ گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی 14۔2013 میں 48 فیصد تھی، جو اب گھٹ کر 38 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح کسانوں پر قرض 13۔2012 میں 47000 روپے تھا، جو آج فی کسان بڑھ کر 74121 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : شہزاد بھٹی نیٹ ورک بھی دہشت گرد تنظیم میں شامل، نوجوانوں سے اس نیٹ ورک سے دور رہنے کی اے ٹی ایس ذرائع کی اپیل

Published

on

ممبئی : شہزاد بھٹی گینگ و نیٹ ورک کو اب مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیا ہے جس کے بعد اب شہزاد بھٹی سے وابستگان کے خلاف کارروائی میں تفتیشی ایجنسیوں کو راحت میسر ہوئی ہے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے اور اسلحہ جات کی فراہمی کے عمل میں بھی شہزاد بھٹی نیٹ ورک ملوث پایا گیا ہے اس کے خلاف مختلف ۹ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ملک میں دہشت گردی سرگرمیوں اور بدامنی پھیلانے کی سازش میں شہزاد بھٹی گینگ نے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی ملوث کیا تھا جو نابالغ بھی تھے .مہاراشٹراے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی گینگ کے خلاف آپریشن انجام دیا تھا جس میں کئی نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اس سے رابطہ رکھنے کے الزام میں بازپرس کے لیے طلب کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا بھی کیا گیا تھا لیکن سرکار نے شہزاد بھٹی گینگ پر ہی یو اے پی اے ایکٹ کا اطلاق کیا ہے اگر کوئی بھی اس گینگ یا نیٹ ورک سے وابستہ پایا جاتا ہے تو اس کی گرفتاری بھی یو اے پی اے کے تحت ہی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ پہلے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو ٹھوس اقدام کرنے یا کارروائی کے لئے کوئی ایسی دفعہ نہیں تھی لیکن اب اس تنظیم گینگ اور نیٹ ورک کو ہی دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو کارروائی بھی اسی مناسبت سے ہو گی یعنی ان کے خلاف بھی یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی اے ٹی ایس نے اس سے قبل شہزاد بھٹی سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں کو زیر حراست لیا تھا ان سے باز پرس کی اور انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اے ٹی ایس کی کارروائی کے سبب شہزاد بھٹی سے زبرداست جھٹکا لگا ہے دبئی میں مقیم پاکستانی ڈان ہندوستان کے خلاف تشدد کی سازش میں ملوث ہے اور اس کو انجام دینے کےلیے وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلاتا ہے اس کے وہاٹس ایپ گروپ سے لے کر فیس بک سمیت انسٹاگرام اور ٹیلیگرام گروپ بھی ہے جس پر وہ غیر قانونی سرگرمی کو انجام دینے کےلیے نوجوانوں کی تقرری کرتا ہے.

ایسے میں دلی اسپیشل سیل اور اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی پر کارروائی کی ہے ملک میں ۲۰۰ سے زائد شہزاد بھٹی اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے شہزاد بھٹی پنجابی زبان بولتا ہے اور اسی طرح وہ سوشل میڈیا پر نوجوان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اے ٹی ایس ذرائع نے اپیل کی ہے شہزاد بھٹی نیٹ ورک سے سوشل میڈیا پر نوجوان دور رہیں کیونکہ اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی یقینی ہے اس لئے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنا چاہئے اور کسی بھی انجان شخص سے رابطہ نہ رکھیں کیونکہ ایسے انجان رابطہ کاروں کے سبب ہی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شہزاد بھٹی سے وابستگان پر بھی اب یو اے پی اے ایکٹ اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کارروائی یقینی ہے اس لئے اس گروہ نیٹ ورک سے دور رہنے کی اپیل اے ٹی ایس ذرائع نے کی ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

’’پاکستان یا اٹلی کے پاس بن سکتے ہیں‘‘: شہزادہ پونا والا کا راہول راہول پر طنز

Published

on

نئی دہلی، سیاسی تجزیہ کار اور بی جے پی کے سابق ترجمان شہزاد پونا والا نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ “پاکستان کے وزیر اعظم” یا ان ممالک میں سے کسی کے بھی بن سکتے ہیں جہاں وہ “چھٹیوں” پر جاتے ہیں۔ اٹلی، یا جس بھی ملک کا وہ اکثر دورہ کرتے ہیں، جیسے کہ بنکاک — اگر وہ وہاں کی شہریت لینا چاہے تو وہ اس ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنا زیادہ تر وقت بیرون ملک گزارتا ہے، وہ صرف اپنی چھٹیوں کے درمیان ہی جاتا ہے۔”

“وہ (راہول گاندھی) یقیناً ان ممالک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں، لیکن یہاں، 2029 میں نریندر مودی اس سے بھی بڑے مارجن کے ساتھ دوبارہ ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ 2034 میں، اگر وہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ وزیر اعظم بھی بن جائیں گے۔ 2027 میں، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بی جے پی اسمبلی میں 2029 سے بھی بڑے مارجن سے واپس آئے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بی جے پی صدر نتن نبین کی قیادت میں پارٹی اتر پردیش، اتراکھنڈ، یہاں تک کہ پنجاب میں بھی حکومتیں بنائے گی اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں جیت کر سامنے آئے گی۔

شہزاد پونا والا نے بی جے پی سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں منتقلی پر غور کر رہے تھے۔ پونا والا نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ 2024 کے انتخابات کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے کچھ اور وقت کے لیے بی جے پی کے ساتھ کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا، “2024 کے انتخابات کے بعد، میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل ہو جاؤں، اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ جب میں 2021 میں سیاست میں آیا اور بی جے پی کا قومی ترجمان بنا، تو میں پہلے میڈیا میں رہا تھا۔ اس سے پہلے، میں نے باقاعدہ تنخواہ لی تھی۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان