Connect with us
Friday,24-July-2026

سیاست

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی کا استعفیٰ

Published

on

Vijay-Ropani

گجرات میں آج انتہائی ڈرامائی انداز میں ریاست کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

یہاں راج بھون میں گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد مسٹر روپانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا ہے۔

اب وہ پارٹی میں جو بھی ذمہ داری ملے گی، وہ وہی کریں گے۔ روپانی جو ریاست کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور اس کے لئے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ ریاست میں اگلے سال ہی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ مسٹر روپانی کے استعفیٰ کو حکمراں بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی سے جوڑا جارہا ہے۔

دریں اثنا مسٹر روپانی کے جانشین کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وجے روپانی نے آج صبح ایک پروگرام میں شرکت کی تھی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کیا تھا۔ مسٹر روپانی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔

سیاست

شیوسینا (یو بی ٹی) ہندوتوا، نوجوانوں اور قانون کی مدد سے واپسی کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

Published

on

Uddhav

ممبئی : شیوسینا (یو بی ٹی) کو بچانے کے لیے، جو چھ لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کے گروپ میں ہائی پروفائل انحراف کے بعد بحران کا سامنا کر رہی ہے، پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے تین جہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس میں پارٹی کے نظریے کو مضبوط کرنا، نوجوانوں کو مسائل پر متحرک کرنا اور آئینی اور قانونی لڑائی لڑنا شامل ہے۔ پارٹی کے اہم رہنماؤں کے جانے کے بعد، شیوسینا (یو بی ٹی) سیاسی ماحول کو حکمراں بی جے پی زیر قیادت مہایوتی/این ڈی اے اتحاد کے خلاف بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹھاکرے نے شری رام مندر کے عطیات میں مالی بے ضابطگیوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ریاست گیر “رام رکھشا” مہم اور بی جے پی سے پاک رام تحریک شروع کی ہے۔

یہ مسئلہ اہم ہے کیونکہ ہندوتوا روایتی طور پر بی جے پی کی بنیادی نظریاتی بنیاد رہی ہے۔ رام مندر تحریک سے متعلق مالی معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے اور عطیات (خاص طور پر چاندی کی اینٹوں) کے حساب کتاب کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے بی جے پی کے بنیادی ووٹ بینک کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے بی جے پی کو اپنے ہی گڑھ میں دفاعی انداز میں کھڑا کر دیا ہے۔ ناگپور میں بی جے پی کو اس کی نظریاتی بنیاد پر چیلنج کرنے کا مقصد شیوسینا (یو بی ٹی) کے روایتی ووٹروں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پارٹی نے سیاسی حالات بدلنے کے باوجود اپنے بنیادی نظریے کو نہیں چھوڑا ہے۔

جنتر منتر کے اپنے دوروں کے ذریعے، این ای ای ٹی پیپر لیک پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج کی مذمت، حکومت کا موازنہ نوآبادیاتی حکمرانوں سے کرنا، اور ایک مفت قانونی امدادی مرکز کا آغاز کرنا- یہ اقدامات ٹھاکرے کی حکمت عملی میں ایک عارضی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ نوجوان، شہری اور متوسط ​​طبقے کے ووٹروں میں اپنی گرفت کو برقرار رکھنے کے لیے شیوسینا (یو بی ٹی) کی روایتی علاقائی، قوم پرست اور مذہبی سیاست سے مختلف انداز اپنا رہا ہے۔ طلباء کے احتجاج میں شامل ہو کر ادھو ٹھاکرے نے تعلیمی نظام، امتحانات کی منصفانہ کارکردگی اور ریاستی حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھائے۔ نوآبادیاتی حکمرانی اور اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ کے دور کا موازنہ موجودہ حکمران اتحاد کو کٹہرے میں کھڑا کرنا تھا۔ وہ انتظامی کوتاہیوں سے متاثرہ غیر جانبدار اور نوجوان ووٹروں کو بھی راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگرچہ سپریم کورٹ نے 22 جولائی کو عبوری حکم امتناعی دینے سے انکار کر دیا تھا، لیکن اسپیکر، سیکرٹریٹ اور باغی ایم پیز کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے بعد شنڈے کا دھڑا قانونی جانچ پڑتال میں ہے۔ قانونی طور پر، یہ انسداد انحراف قانون کے تحت “تقسیم” بمقابلہ “ضم” کی دفعات کی حدود کو جانچتا ہے، خاص طور پر جب والدین پارٹی اپنی آزاد قانونی شناخت کو برقرار رکھتی ہے۔ سیاسی طور پر، یہ اقدام باغی اراکین پارلیمنٹ کو موقع پرست رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے اس مینڈیٹ سے غداری کی جس پر وہ منتخب ہوئے تھے۔ تاریخی طور پر، ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے درمیان پھوٹ نے ممبئی-تھانے-کونک علاقے میں شیوسینا کے روایتی ووٹ بینک کو تقسیم کر دیا۔

راج ٹھاکرے کے ساتھ دوبارہ ملنا ایک مضبوط علاقائی اتحاد بناتا ہے۔ اس سے آنے والے میونسپل (بی ایم سی) اور ریاستی سطح کے انتخابات میں مراٹھی ووٹوں کو مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے ایک متحدہ محاذ بھی بن سکتا ہے جسے کمزور کرنا قومی جماعتوں کے لیے مشکل ہوگا۔ اگرچہ ٹھاکرے کے جارحانہ موقف نے پارٹی کو عارضی طور پر تقویت بخشی ہے، لیکن بہت سے چیلنجز باقی ہیں۔ منتخب ایم پیز اور ایم ایل ایز کے بار بار انحراف پارٹی کی نچلی سطح پر تنظیم کو کمزور کرتے ہیں، چاہے عوامی ہمدردی شیوسینا (یو بی ٹی) کے گروپ کے ساتھ ہو۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ رام مندر مہم کے ذریعے سخت گیر ہندوتوا کا پیغام دیتے ہوئے وسیع تر سماجی اور نوجوانوں کے مسائل پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ مزید برآں، اتحادی سیاست میں توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ روایتی قوم پرست یا سیکولر اتحادی ناراض نہ ہوں۔

سپریم کورٹ میں آئینی مقدمات کی سماعت اکثر طویل ہوتی ہے۔ اگر قانونی قیام بروقت نافذ نہ کیا گیا تو بڑے انتخابات سے قبل نچلی سطح پر سیاسی صورتحال (جیسے تسلیم شدہ انضمام) کو تبدیل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ٹھاکرے کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی علاقائی سیاست میں خود کو کمزور یا پسماندہ ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نظریاتی مخالفت، قانونی چیلنجز، نوجوانوں کی شمولیت اور علاقائی اتحاد کی حکمت عملی کے ذریعے وہ اس سیاسی جدوجہد کو مرکزی حکومت کے خلاف جمہوری احتساب اور مقامی شناخت کی لڑائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک طلبا احتجاج : سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں غصہ چوطرفہ کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Shiwaji-Park-Protest

ممبئی : ممبئی میں شیواجی پارک دادر میں احتجاج کے دوران ایک پولس اہلکار کی شرمناک حرکت سامنے آنے کے بعد ممبئی پولس نے اس کانسٹبل دیپک کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے, وہ ویڈیو غیر ذمہ دارانہ ہے اہلکار کی نیت خاتون سے بدسلوکی یا پھر اس سے چھیڑخانی نہیں تھی۔ جب ایک مرد کو مظاہرہ کے دوران پکڑنے اہلکار گیا تھا تو خاتون مظاہرین درمیان میں آگئی اور یہی وہ ویڈیو ہے اس معاملہ میں تفتیش کے بعد پولس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو فوٹیج کا بغور معاملہ کے بعد مذکورہ بالا پولس اہلکار کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پولس نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پر قابو کرنے والے کانسٹیبل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس نے قصدا خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا ہے, یہ بات ضرور ہے کہ وہ مظاہرین کو کنٹرول کر رہا تھا۔

اس معاملہ ایڈوکیٹ نتن ساتپوتے نے پولس کانسٹبل کو کلین چٹ دئیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ سے اپیل کی ہے وہ ازخود اس اہلکار کے خلاف کیس درج کروائیں اگر اس معاملہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دیگر میں طلبا پر تشدد برپا کرنے کے جو ویڈیوز وائرل ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس میں کئی ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی درندگی پر مبنی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک کانسٹبل دو طلبا کو جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسرے ویڈیو میں پولس کانسٹبل کی یہ شرمناک حرکت سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد کئی سیاسی لیڈران نے بھی اسے ٹوئٹ کیا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, جبکہ اس معاملہ میں پولس نے کانسٹبل کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے پولس محکمہ کی شبیہ بھی متاثر ہے اس ویڈیو نے ممبئی پولس کو داغدار کر دیا ہے۔ پولس کے رویہ سے عوام میں ناراضگی ہے اور پولس کے تازہ موقف سے بھی عوام میں حیرت ہے کہ کانسٹبل بے قصور ہے اور اس کی کوئی خطا نہیں ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان