Connect with us
Friday,27-March-2026

(جنرل (عام

مراٹھواڑہ میں کورونا کے 392 نئے کیسز

Published

on

Maharashtra-corona

مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 392 نئے کیسزسامنے آئے اور سات افراد کی موت ہوگئی۔

طبی حکام نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ تمام ضلع صدرمقامات سے یواین آئی کی جانب سے جمع کئے گئے اعداد شمارکے خطے کےاٹھ اضلاع میں سے بیڑ سب سے زیادہ متاثررہا، جہاں 212 نئے کیسزسامنے آئے اور چار افراد کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد اورنگ آباد میں 30 کیسز اور دو کی موت اور ناندیڑ میں سات نئے کیسز اور ایک مریض کی موت ہو گئی۔ وہیں عثمان آباد میں 99، لاتور میں 23، جالنہ میں 17 نئے کیسز، پربھنی اور ہنگولی میں بالترتیب دو دو کیسزدرج کئے گئے۔

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان