Connect with us
Saturday,29-November-2025
تازہ خبریں

سیاست

بی جے پی حکومتوں نے عوام کو بحران میں ڈالنے کا گناہ کیا ہے : پرینکا

Published

on

priyanka

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو کہا کہ مرکزی اور اترپردیش کی بی جے پی حکومتوں نے عوام کو بحران میں ڈالنے کا گناہ کیا ہے۔ مہنگائی، جرائم، قتل، لوٹ، عصمت دری، بدعنوانی سے سماج کا ہر طبقہ متاثر ہے، جس سے چھٹکارہ دلانے کے لئے کانگریس کا کردار اہم ہوگا۔

محترمہ واڈرا نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جھانسی میں منعقد کانگریس لیڈروں کی دو روزہ تربیتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ملک کے سامنے بڑے چیلنجز سے مقابلہ کرنے میں ہمیشہ آگے رہی ہے۔ وہ ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والا کردار ادر کرنا اچھی طرح سے جانتی ہے۔ آج ملک کی حالت موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کافی مخالف ہو چکے ہیں۔ بے تحاشہ بڑھتی مہنگائی، غریبی، عدم تغذیہ، جرائم کے ساتھ ساتھ جمہوری اقدار، آئین و آئنی اداروں کے سامنے کھڑے چیلنجز سے صرف کانگریس ہی مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس کے لئے سب کو سرگرم کردار ادا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر سماج کے درد کو ہرنے کا ہماری تاریخ بھی ہے۔ حال میں بھی اور مستقبل میں بھی اس لئے ہماری اولین ترجیح ملک و عوام الناس ہیں۔ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کے دکھ و درد کو سمجھنا و شیئر کرنے کے ساتھ اسے حل کرنے کے لئے محنت سے کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں مرکز و اترپردیش کی بی جے پی حکومتوں نے عوا م کو بحران میں ڈھکیلنے کا گناہ کیا ہے۔ امیر ہو یا غریب سماج کا کوئی بھی طبقہ بڑھتی مہنگائی، جرائم، قتل، لوٹ، عصمت دری، بدعنوانی سے متاثر ہے۔ کانگریس مضبوطی کے ساتھ مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول،ڈیزل و رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بی جے پی حکومت سے سوال بھی کرے گی، اور تحریک بھی چلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں جرائم کی ہوا چل رہی ہے۔ استحصال زدہ، محروم دلتوں کا استحصال یوگی حکومت کا اہم ایجنڈہ ہے۔ جرائم پیشہ افراد کو خاموش حمایت حالات کو دھماکہ خیز بناتے جا رہے ہیں، اور حکومت عوام کو راحت دینے کی پالیسی سے ہمیشہ کی طرح دوری بنائے ہوئے ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے وہ نوجوانوں، بے روز گاروں کے ساتھ فریب کا سہارا لے کر یوپی میں ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ سوالوں کے جوابات دینے کے بجائے وہ جھوٹ بولتی ہے، اور جوابدہی سے بچتی ہے۔ بی جے پی حکومت بے روزگار نوجوان نوکریوں کے لئے احتجاج کر رہا ہے۔ سرکاری نوکریاں بدعنوانی کی نظر چڑھ رہی ہیں۔ نوکریوں کے لئے منتخب امیدواروں کو تقرری لیٹر کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔

انہوں نے تربیتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں سے کہا کہ ملک متعدد قسم کی چیلنجز سے گذر رہا ہے۔ ہر طرف حکومت کی ہراسانی سہنے کو مجبوروں کو ایک بڑا طبقہ پریشان و مایوس کن زندگی گذارنے کو مجبور ہے۔ کانگریس کارکنوں کے سامنے بڑی ذمہ داری ہیکہ وہ اس کو پورا کریں۔ آنے والے اسمبلی انتخاب میں تنظیم و کارکنوں کی تدابیر بہت اہم ہونگے۔ تنظیم نظریات و کارکنوں کی محنت سے کھڑی ہوتی ہے۔ یہ تربیتی کیمپ کانگریسیوں کے لئے کافی اہم ہے۔

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com