Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

شیخ حمد ایوارڈ برائے ترجمہ اور بین الاقوامی مفاہمت کی تقریبات کے ضمن میں عربی اردو ترجمے کی صورتحال پر ایک شاندارعلمی مذاکرہ

Published

on

Arranging seminars

شیخ حمد ایوارڈ برائے ترجمہ اور بین الاقوامی مفاہمت کی تقریبات کے ضمن میں ہر سال ایوارڈ کی میڈیا کمیٹی، ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی زبانوں میں عربی ترجمے کی صورتحال کو سامنے لانے کے لیے مذاکروں اور سیمیناروں کا اہتمام کرتی ہے۔ اسی ضمن میں ہندوستان میں عربی سے اردو اور اردو سے عربی ترجمے کی موجودہ اور تاریخی صورتحال اور اس حوالے سے افراد اور اداروں کی خدمات اور پیش آمدہ مشکلات کے وقیع موضوع پر شاندار علمی آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں شیخ حمد ایوارڈ کی میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر حنان الفیاض نے بذات خود شرکت کی۔ ویبنار کی نظامت میڈیا پرسنالٹی اور ترجمہ نگار عبید طاہر نے کی جبکہ شرکا میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عربی شعبے کے صدر اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پروفیسر عبدالماجد القاضی اور شعبے کے سابق سربراہ پروفیسر حبیب اللہ خان، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے پروفیسر صدارتی تمغے سے سرفراز ثناء الله ندوي اور جے این یو میں اسلامی اور افریقی اسٹڈیز سینٹر کے سابق سربراہ اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پروفیسر مجیب الرحمن شامل تھے۔

پروفیسر حبیب اللہ خان نے ہندوستان میں تراجم کے سلسلے میں اداروں اور افراد کی خدمات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اٹھارہ ہزار سے زیادہ کتابیں اداروں کی سطح پر عربی سے ترجمہ کی گئی ہیں جبکہ شخصی خدمات کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں ہے۔ پروفیسر مجیب الرحمن نے اپنی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نوے فیصد تراجم عربی سے اردو میں کیے گئے ہیں جبکہ صرف دس فیصد اردو سے عربی میں کیے گئے ہیں، انہوں نے اسکے اسباب اور تدارک کے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی۔

ویبنار کے تیسرے موضوع یعنی ترجمے کے میدان میں ذاتی تجربات کو پروفیسر ثنااللہ ندوی نے موضوع گفتگو بنایا اور کہا کہ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں زبانوں پر مہارت کے ساتھ ساتھ اصل متن کے موضوع سے بھی واقفیت رکھتا ہو مثال کے طور پر اگر فن معماری کی کتاب ہے تو اس فن کی اصطلاحوں اور ناموں کے متعلق اس کو پوری معلومات ہوں اور اسی طرح دیگر علوم و فنون۔ ویبنار کے آخری مقرر پروفیسر عبدالماجد قاضی نے درست ترجمے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا علمی اور تحقیقی جائزہ لیا اور بالخصوص شعری ترجمہ کرتے ہوئے ممکنہ پریشانیوں کی وضاحت کی اور مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ ایک لفظ کے ادھر اُدھر ہونے سے کس طرح اصل متن کی روح ختم ہوسکتی ہے۔ ویبنار کے آخر میں ایوارڈ کمیٹی کی میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر حنان الفیاض نے مقررین کی وقیع گفتگو پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایوارڈ کے وژن، مقاصد، شرائط اور اسکی مالیت اور تقسیم کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالی، جس کے بعد ویبنار کے ناظم اور پاک و ہند کے لیے میڈیا کمیٹی کے کوارڈینیٹر عبید طاہر نے تمام شرکا اور آن لائن دیکھنے والے تقریبا چار ہزار ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے وقیع اور علمی مذاکرے کے اختتام کا اعلان کیا۔ ایوارڈ میں شرکت اور تفصیلات کے لیے www.hta.wa ملاحظہ کریں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان