Connect with us
Wednesday,16-September-2026

سیاست

میں نے وزیرا عظم کی بے عزتی نہیں کی : ممتا بنرجی

Published

on

mamta

وزیر اعظم کی توہین کرنے اور انہیں 15 منٹ تک انتظار کرانے کے الزام کے درمیان ممتا بنرجی نے کہا کہ جان بوجھ کر مرکزی حکومت اور بی جے پی لیڈران بنگال حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ وزیرا عظم کے احترام میں ہی کائگنڈہ گئی تھیں، مگر بی جے پی کی میٹنگ میں ملاقات کے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔

ممتا بنرجی نے آج پریس کانفرنس کے ذریعہ کل کے واقعے کی تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے دورے کے اعلان سے قبل میں نے طوفان سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی ترقی اور اس کے مفادات کے لئے اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام میں تبدیلی کر کے میں وزیرا عظم سے ملاقات کرنے کے لئے کالائیگنڈہ گئی تھیں۔ مگر بی جے پی اس پورے معاملے میں بھرم پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، اور وزیر اعظم بھی کنفیوژن کو ہوا دے رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر بنگال، میری اور چیف سیکریٹری کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لئے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم کے دورے کا اعلان بعد میں ہوا ہے۔ جب کہ طوفان آنے کے فوری بعد ہی میں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر وزیر اعظم کا خیال رکھتے ہوئے ہنگل گنج اور ساگر میں اپنے پروگرام کو مختصر کرکے میں نے کائیکونڈ جاکر وزیر اعظم سے ملاقات کی۔

ممتا نے شکایت کی کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے باوجود، انہیں جمعہ کے دنکالا کُنڈا کے لئے روانہ ہونے سے پہلے 20 منٹ تک سمندر میں انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہیلی کاپٹر کو کلایکنڈہ میں اترنے سے پہلے کچھ وقت انتظار کریں اس کے نتیجے میں، ان کا ہیلی کاپٹر آسمان میں چکر لگا تارہا تاہم وزیر اعلی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی سلامتی کی فکر ہے اس لئے کو بھی برداشت کرئیا۔ کالائکونڈا کے ہوائی اڈے پر ایک کمرے میں تقریبا 15 منٹ انتظار کرنا پڑا۔ پھر وزیر اعظم وہاں آئے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے بار بار درخواست کی۔ وزیر اعلی نے الزام لگایا کہ ایس پی جی نے انہیں ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو کہا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایس پی جی نے انہیں مطلع کیا تھا کہ وزیر اعظم کی میٹنگ شروع ہو گئی ہے، اور اس وقت ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ سب سے پہلے وزیرا علیٰ اور وزیرا عظم کے درمیان میٹنگ ہوتی ہے۔ مگر مجھے معلوم ہوا کہ اس میٹنگ میں بی جے پی کے تمام لیڈران ہیں۔ میں تنہا تھی۔ اس لئے میں وہاں سے چلی گئی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ انہیں میٹنگ میں مرکزی وزرا کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ممتا نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بی جے پی کے ممبران اسمبلی کیوں موجود تھے۔

ممتا بنرجی نے کہاکہ دیگھا کا پروگرام تھا۔ وہ تاخیر کا شکار ہو رہا تھا۔ ایک کمرے میں وزیر اعظم مودی اور چیف سیکریٹری کے درمیان میٹنگ ہو رہی تھی۔ وزیرا عظم کی اجازت کے بعد وہ اس کمرے میں داخل ہوئیں، اور ان سے کہا کہ مجھے دیگھا جانا ہے اور موسم ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم سمندری راستے سے کلائیگنڈہ پہنچے ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو نقصانات کی تفصیل پیش کردوں۔ وزیرا عظم نے اس رپورٹ کو قبول کرلیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اس بعد میں نے وزیر اعظم کو بول کر وہاں سے آ گئی۔ میں ان سے تین تین مرتبہ بتایا کہ میں جا رہی ہوں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ وزیرا عظم کااحترام کرتی ہیں۔ مگر ان کی جانب سے بے رحمانہ انداز میں پروٹوکول کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ آج بی جے پی اپوزیشن کی بات کر رہی ہے۔گزشتہ دو مرتبہ سے پارلیمنٹ میں کسی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ مودی جی گجرات گئے تھے، کیا وہاں ان کے ساتھ اپوزیشن لیڈر تھا۔ آخر گجرات کے اپوزیشن لیڈر کو طوفان سے متاثرہ علاقے پر بات کرنے کے لئے کیوں نہیں بلایا گیا ہے۔ اڑیسہ میں اپوزیشن لیڈر کو کیوں نہیں بلایا گیا۔ بنگال میں آکر کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیرا عظم کے دورے کے بعد سے ہی بی جے پی لیڈران ممتا بنرجی پر حملہ آور ہیں۔ ایک فوٹو شیئر کی جا رہی ہے کہ جس میں دیکھا گیا ہے، وزیر اعظم کے ساتھ دو کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جب میں روم میں داخل ہوئی، تو صرف ایک کرسی تھی، جس پر وزیر اعظم بیٹھے ہوئے تھے۔ چیف سیکریٹری کھڑے تھے۔ کوئی بھی خالی کرسی نہیں تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

chori

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

سیاست

کٹکا کانگریس کے سربراہ ہری پرساد کے خلاف ‘عمر خالد ایک قوم پرست’ تبصرہ پر شکایت درج

Published

on

بنگلورو، 16 ستمبر ہندو کارکن تیجس گوڑا نے بدھ کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے کے خلاف بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو “قوم پرست” قرار دینے اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ان پر تبصرہ کرنے کے اختیار پر سوال اٹھانے پر اپنے ریمارکس پر۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ کانگریس لیڈر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ ہری پرساد نے عمر خالد کو ودھانا سودھا کے احاطے میں ایک “قوم پرست” کہا تھا، جس کا ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین تھی۔ سبھی،” ہندو کارکن نے الزام لگایا۔

گوڈا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت خالد کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دینا قانونی طور پر قابل اعتراض ہے اور اس معاملے پر کانگریس کے ملزم خالدوٹیل کے موقف پر سوال اٹھایا۔ یو اے پی اے کے تحت، ہری پرساد کے لیے ایک قوم پرست ہے، اس سے کرناٹک کانگریس کے صدر اور پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھتے ہیں۔” گوڑا نے کہا کہ پولیس حکام نے انہیں مطلع کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے گی۔ مہاتما گاندھی کی تنظیم کی نظریاتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے، اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا اختیار۔

بی کے ہری پرساد نے منگل کے روز جیل میں بند کارکن عمر خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دیا اور اس کے ناقدین کو اخلاقیات اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔”عمر خالد ایک قوم پرست ہیں، اور اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کو عمر خالد پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اے بی وی پی ناتھورام کو پوجتی ہے اور وہ پہلے ملک دشمن دہشت گرد تھے۔ ہری پرساد نے بنگلورو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ عمر خالد پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق یا اخلاقیات نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان