Connect with us
Wednesday,19-August-2026

سیاست

ریاستی وزراء کی گرفتاری کے خلاف ممتا بنرجی ایکشن میں ۔ سی بی آئی کے دفتر میں داخل

Published

on

mamta

مغربی بنگال حکومت کے دو سینئر وزراء سبرتو مکھرجی اور فرہاد حکیم کی سی بی آئی کے ذریعہ ناردا اسٹنگ معاملے میں گرفتاری سے برہم وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سی بی آئی کے دفتر پہنچ گئیں، اور سی بی آئی کے افسران سے ملاقات کر کے کہا ہے، نوٹس کے بغیر ان وزراء کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی ہے۔

ناردا اسٹنگ آپریشن میں ملوث بی جے پی کے لیڈران مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری کی گرفتاری کیوں نہیں کی گئی ہے۔ سی بی آئی نے مجھے گرفتار کیوں نہیں کیا ہے۔ اگر سی بی آئی غیر قانونی طریقے سے انہیں گرفتار کر سکتی ہے، تو مجھے بھی گرفتار کرے۔

کلکتہ شہر میں واقع نظام پلس جہاں سی بی آئی کا دفتر ہے۔ ممتا بنرجی کے پہنچنے کے بعد بڑی تعداد میں ترنمول کانگریس کے کارکنان سی بی آئی کے دفتر کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باوجود حالات دھماکہ خیز ہو گئے ہیں۔

2 مئی کو آئے بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے محض 15 دنوں بعد سی بی آئی نے آج ڈرامائی انداز میں ریاستی وزرا فرہاد حکیم اور سبرتو مکھرجی کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر کے گرفتار کر لیا۔

گرفتاری سے قبل بڑی تعداد میں مرکزی فورسیس کے جوان ان کے گھروں کا محاصرہ کر لیا تھا۔ ان دونوں وزراء کے علاوہ ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق میئر شوبھن چٹرجی جنہوں نے ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں چلے گئے تھے، اور ٹکٹ نہیں ملنے پر بی جے پی چھوڑ دیا تھا۔کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

گورنر جگدیپ دھنکر نے گزشتہ ہفتے ہی ریاستی وزراء کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی۔ جب کہ بنگال اسمبلی کے اسپیکر بمان بنرجی نے کہا کہ ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لئے سی بی آئی نے اجازت نہیں لی ہے۔ گورنر نے کہا کہ انھیں اجازت دینے کا اختیار ہے۔

2014 میں ناردا نیوز پورٹل کے سی ای او میتھوز سیموئل نے ایک صنعت کار کی حیثیت سے ترنمول کانگریس کے ایک درجن لیڈر جن میں کئی ریاستی وزراء، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ملاقات کر کے انہیں صنعت کھولنے کے نام پر رشوت دیتے ہوئے کیمرہ میں قید کر لیا تھا۔ یہ اسٹنگ آپریشن 2016 میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل جاری کیا تھا۔ 2017 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو جانچ کی ہدایت دی تھی۔

ترنمول اور دیگر جماعتوں نے سی بی آئی کی اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے، کہ ایک ایسے وقت میں جب بنگال میں کورونا وائرس عروج پر ہے۔ فرہاد حکیم کلکتہ کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت کے اعتبار سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کو بغیر نوٹس کے گرفتار کیسے کیا جاسکتا ہے۔

شوبھندو ادھیکاری جو اس وقت بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، کی گرفتاری نہیں ہونے پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سی بی آئی صرف ترنمول کانگریس کے لیڈران کو ہی گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے۔ جب کہ شوبھندو ادھیکاری نے ناردا اسٹنگ آپریشن میں روپے لینے کا اقرار کیا تھا۔ اسی طرح مکل رائے کے خلاف کارروائی نہیں کئے جانے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

انہوں نے جو کہا، کیا کسی نے سنا بھی ہے؟ وندے ماترم کے تنازع پر رینوکا چودھری نے سونیا گاندھی کا دفاع کیا۔

Published

on

کانگریس ہیڈکوارٹر میں وندے ماترم کی مبینہ رکاوٹ کے تنازعہ کے درمیان کانگریس کی سینئر لیڈر رینوکا چودھری سونیا گاندھی کے دفاع میں سامنے آئیں، ان الزامات کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہ کانگریس کے سابق صدر نے مکمل قومی گیت کی تلاوت کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
چودھری نے تنازعہ کو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر مسترد کیا اور بی جے پی پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک سمیت طلباء اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ “یہ الزامات کی سیاست ہے۔ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے ریمارک کئے جا رہے ہیں۔ حقیقی مسائل، طلباء کے مستقبل کے بارے میں، نیٹ پیپر لیک کے مسائل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کوئی بی جے پی لیڈر یا وزیر اعظم ان مسائل پر توجہ نہیں دیتا،” انہوں نے کہا۔
سونیا گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے چودھری نے سوال کیا کہ کیا واقعی کسی نے انہیں وندے ماترم کو روکنے کا کہتے ہوئے سنا ہے۔

انہوں نے کہا، “سونیا گاندھی نے کیا کہا، کسی نے سنا؟ میں پوچھ رہا ہوں، کیا کسی نے سنا؟ نہیں، انہوں نے کیا کہا، ہم جانتے ہیں، صرف اشاروں کی بنیاد پر الزامات لگا رہے ہیں۔” چودھری نے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اپوزیشن کو ملک کے خلاف پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ خود کو بہتر فریق کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ کہا.

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان الزامات کا جواب دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جسے انہوں نے بغیر بنیاد کے الزامات قرار دیا ہے۔ “ان کے بے بنیاد الزامات کا کوئی مناسب جواب نہیں ہے۔ ان میں شامل ہونا بھی فضول ہے،” انہوں نے کہا۔ چودھری کا یہ تبصرہ کانگریس کے ہیڈکوارٹر میں وندے ماترم کے پروگرام کے دوران سونیا گاندھی کے طرز عمل سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے آیا۔ اس نے برقرار رکھا کہ محض اشاروں کی ترجمانی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ سونیا گاندھی نے قومی گیت کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

چودھری کے مطابق، یہ تنازعہ ایک وسیع تر سیاسی کوشش کا حصہ تھا تاکہ عوامی گفتگو کو ایسے مسائل سے ہٹایا جا سکے جن پر حکومت سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اشاروں یا تشریحات کی بنیاد پر الزامات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے جو حقیقت میں کہا گیا ہے اس کو قائم کیے بغیر۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وندے ماترم تنازعہ کو طلباء اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسائل پر پردہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

کابل میں اسکول کے قریب دھماکے سے 52 سے زائد افراد زخمی، عالمی اداروں کی مذمت

Published

on

متعدد بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغانستان میں شامِ ہدایت پرائیویٹ اسکول کے قریب دستی بم کے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جس میں 52 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ یہ واقعہ پیر کو مغربی کابل کے ایک گنجان آباد علاقے دشت برچی کے علاقے میں پیش آیا جہاں ماضی میں کئی مہلک حملوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے سمیت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس علاقے میں، جہاں ہزارہ اور شیعہ برادری کی ایک بڑی آبادی ہے، کو کئی سالوں سے بار بار سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ طالبان پولیس کے ترجمان خالد زدران نے کہا کہ دھماکا ہینڈ گرنیڈ کی وجہ سے ہوا، لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ یہ دستی بم کون لے جا رہا تھا یا یہ کیسے پھٹا، مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعے کو “انتہائی پریشان کن” قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل، موثر، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے بین الاقوامی قانون اور معیارات کے مطابق ہونا چاہیے۔ حقوق کی تنظیم نے یہ بھی کہا کہ ذمہ دار پائے جانے والوں کو منصفانہ ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا، “دشت برچی، کابل کا ایک بنیادی طور پر ہزارہ آبادی والا علاقہ ہے، جس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اسکولوں، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولیات پر مختلف مسلح گروپوں کے حملوں کو برداشت کیا ہے۔ طالبان کو، اصل حکام کے طور پر، افغانستان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں سمیت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے،” ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے اس دھماکے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں متعدد بچے زخمی ہوئے اور تمام بچوں کی حفاظت، وقار اور حقوق کا ہر وقت احترام اور تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا۔ “ہمارے خیالات زخمی بچوں، ان کے خاندانوں اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔ اسکولوں کو محفوظ مقامات ہونا چاہیے ۔” افغانستان میں تشدد یا یو سی ای کو نشانہ بنانے والے بچوں کو کبھی بھی نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ ایکس،

اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، یورپی یونین نے اس بات پر زور دیا کہ اسکولوں کو بچوں کے لیے محفوظ مقامات پر رہنا چاہیے اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والے حملے “ناقابل قبول ہیں۔” X پر ایک پوسٹ میں، یورپی یونین
، افغانستان میں نے کہا، “ہم شامِ ہدایت اسکول، دشت برچی کے قریب ہونے والے دھماکے پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس میں درجنوں طلباء زخمی ہوئے اور زخمی ہونے والے خاندانوں کو صحت یاب ہونے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں کو محفوظ ہونا چاہیے اور تعلیمی مراکز پر حملہ ناقابل قبول ہے۔

دھماکے کے بعد افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ دشت برچی میں تعلیمی مرکز میں ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں، انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے خیالات زخمی بچوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ ہم تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس واقعے کے حالات کا پتہ لگایا جا سکے اور یو این اے نے کہا کہ اسکول کو محفوظ رکھا جائے اور اس واقعے کے حالات کو یقینی بنایا جائے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیشی وزیر اعظم رحمان بھارت آئے تو ان کا پرتپاک استقبال ہوگا: بھارتی ہائی کمشنر

Published

on

بنگلہ دیش میں ہندوستانی ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے کہا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان ہندوستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کا “باعزت استقبال” کیا جائے گا۔

ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں سرکردہ بنگلہ دیشی کاروباری رہنماؤں اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے ایک وفد کے لیے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ترویدی نے کہا، “یہاں وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد، میں سیدھا دہلی گیا اور اپنے وزیر اعظم سے بہت اچھی ملاقات کی۔ انہوں نے (پی ایم نریندر مودی) نے صرف ایک بات کا ذکر کیا: ہمیں ملنے کی ضرورت ہے۔”

بنگلہ دیش کے معروف اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق، ہندوستانی ہائی کمشنر نے ذکر کیا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ جب بنگلہ دیش کے وزیر اعظم ہندوستان کا دورہ کریں گے تو ان کا اتنا “باعزت استقبال کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں”۔
گزشتہ ہفتے، ترویدی نے نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی، جس کے ایک دن بعد انہوں نے ڈھاکہ میں وزیر اعظم رحمان سے بشکریہ ملاقات کی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ رحمان کا ممکنہ دورہ “یادگار” ہو گا، ترویدی نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے لوگوں اور کاروبار کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو “ہچکی” کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس بات کو برقرار رکھا کہ اس طرح کے دھچکے سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔

“میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں پوری طرح سے سمجھتا ہوں کہ مسائل ہیں، لیکن یہ مسائل یقینی طور پر حل ہوسکتے ہیں جب بنگلہ دیش کے وزیر اعظم اور ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی ملیں،” ہندوستانی ہائی کمشنر نے کہا، “ہمیں خود کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے… میں آپ سے ماضی کو بھولنے کا نہیں کہہ رہا ہوں، اسے برقرار رکھیں، لیکن اختلافات کو دور کریں، اور آگے بڑھیں، جمود کا شکار نہ ہوں،” انہوں نے لوگوں کو تعلیم، روزگار اور اعلیٰ تعلیم پر روشنی ڈالی۔ صحت کی دیکھ بھال کو کلیدی شعبوں کے طور پر جس میں دونوں ممالک تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی ‘نیبر ہڈ فرسٹ’ پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ اعلیٰ سطحی مصروفیات کا سلسلہ جس میں ہندوستان کے وزیر خارجہ اور اسپیکر کے دوروں کے ساتھ ساتھ ڈھاکہ میں ان کی اپنی پوسٹنگ بھی شامل ہے، نئی دہلی کی دوطرفہ تعلقات کو نئی تحریک دینے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکام حالیہ ہفتوں میں بنگلہ دیشی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اختلافات کو حل کرنے اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے خدشات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ تعلقات کو “برابری کی شراکت داری” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دریں اثنا، ڈھاکہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے منگل کو کاروباری استقبالیہ کی میزبانی کی، جس میں سی آئی آئی کے وفد اور بنگلہ دیش میں کاروباری برادری کے سرکردہ اراکین کو بامعنی بات چیت کے لیے اکٹھا کیا گیا۔ ہندوستانی ہائی کمیشن کے مطابق، بات چیت کا مقصد دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو آگے بڑھانا اور کاروبار سے کاروبار کے مضبوط روابط کو فروغ دینا تھا۔ عبید اسلام نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور کلیدی تقریر کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان