Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

گلابی شہر جئے پور کے باران میں اجتماعی عصمت دری کی شرمناک واردات سے سنسنی

Published

on

rape

خیال اثر مالیگانوی

جب سے مرکز اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں اقتدار پر قابض ہوئی ہیں عام افراد کی آمد و رفت مشکل ترین مسئلہ بن گئی ہیں. بحالت مجبوری عام شاہراؤں پر سفر کرنے والے شادی شدہ جوڑوں کاغواء کرتے ہوئے ماں باپ اور شوہر کے سامنے ہی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے شرمناک واقعات بڑھتے جارہے ہیں. راجستھان جیسے تاریخی شہر میں دو سال قبل غازی پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا مقدمہ درج ہوا تھا. اس شرمناک واقعہ کی گونج پورے ملک میں سنائی دی تھی اور راہول گاندھی سمیت دیگر بے شمار لیڈران متاثرہ خاتون سے ملاقات کرتے ہوئے تمام احوال جاننے کی کوشش کی تھی. مذکورہ واقعہ دو سال پرانا ہے لیکن اسی راجستھان کے گلابی شہر جئے پور کے باران نامی گاؤں میں سنیچر کی رات 10 بجےنیشنل ہائی وے نمبر90 پر اجتماعی عصمت ریزی کا ایک شرمناک واقعہ پھر منظر عام پر آیا ہے. بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ جوڑا موٹر سائیکل کے ذریعے اپنے گاؤں کی جانب سفر کررہا تھا تب ایک بوڑھے شخص سمیت پانچ دیگر درندہ صفت افراد نے متاثرہ جوڑے کو روکتے ہوئے پہلے تو یرغمال بنایا اور پھر اس کے بعد ان دونوں کو قریبی کھیت میں لے جایا گیا. 6 افراد پر مشتمل درندوں نے پہلے تو خاتون کو بدن سے لپٹی ہوئی ساڑی سے آزاد کرکے مادر ذادبرہنہ کردیا اور پھر اسی ساڑی سے اس کے شوہر کے ہاتھ پیر باندھنے کے بعد یکے بعد دیگرے بھوکے کتوں کی طرح متاثرہ کے عریاں بدن پر توٹتے ہوئے اپنی جنسی ہوس کی تکمیل کی. اس سے پہلے جب ان جنسی درندوں نے عام شاہراہ پر متاثرہ جوٰڑے کو گھیرا تھا تو ان کے ساتھ متاثرہ خاتون کی کمسن بہن بھی ساتھ تھی. چھوٹی بچی کو ان درندوں نے بیچ شاہراہ پر چھوڑتے ہوئے نوجوان جوڑے کو قریبی کھیت میں اٹھا لے گئے تھے جہاں خاتون کے ساتھ جبرأ اجتماعی عصمت دری کی گئی. متاثرہ خاتون کی چھوٹی بہن رات کے اندھیرے میں سنسنان سڑک پر کھڑی آتی جاتی ہوئی مال گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کررہی تھی. یہ 8 سالہ کمسن بچی چیخ چیخ کر مال گاڑیوں کو اپنے نھنے منے ہاتھوں سے رکنے کا اشارہ کرتی رہی. یہ دیکھ کر ایک رحم دل مال ٹرک ڈرائیور نے اپنی گاڑی روک کر اس کمسن بچی سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے روتے ہوئے سارا ماجرا بیان کردیا. ماجرا سننے کے بعد اس رحمدل ٹرک ڈرائیور نے دیگر مال ٹرکوں کو روک لیا اور جب ڈھیر سارے لوگ جمع ہو گئے تو تمام ٹرک ڈرائیور متاثرہ جوڑے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے. ان تمام افراد نے دور دور تک کھیتوں میں جا کر آوازیں لگائیں کہیں سے کوئی جواب نہ ملنے پر آس پاس کے تمام کھیتوں میں باریک بینی سے تلاش شروع کی تب رونگٹے کھڑے کردینے والی خستہ حالت میں متاثرہ خاتون نظر آئی. اس تلاش میں متاثرہ خاتون کا شوہر بھی متاثرہ خاتون کی ساڑی سے ہاتھ پیر بندھا ہوا دستیاب ہوا. کسی ٹرک ڈرائیور نے اس شرمناک واقعہ کی اطلاع پولیس کو کردی تھی تب جائے وقوع پر پولیس ذمہ دارن مع ایمبولنس موقع واردات پر پہنچ گئے. متاثرہ خاتون کو اسپتال میں داخل کیا گیا. باران, جئے پور ایس پی ونیت کمار بنسل اور اے ایس پی وجئے سورن کار موقع پر پہنچ گئے. انھوں نے ہی اجتماعی عصمت دری کا شکار متاثرہ خاتون کو اسپتال روانہ کیا اور اس کے شوہر کے اسی کی ساڑی سے باندھے گئے ہاتھ پیر کو کھلوایا. ایس پی نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی اطلاع پر پولیس نے اغواء, اجتماعی زیادتی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ کا اندارج کر لیا ہے ساتھ ہی متاثرہ خاتون کے شوہر کی نشاندہی پر چند ایک مشتبہ افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے.
حالیہ واقعہ کے تناظر میں بغور دیکھا جائے تو دل کانپ کانپ جاتا ہے کہ جس عورت کو ایک شخص بڑے ارمانوں سے بیاہ کر لاتا ہے اور وہ اس عورت کا مالک کل ہوتا ہے .وہ سارے کام جو خلوت میں وہ اپنی بیاہی بیوی کے ساتھ تنہائی میں انجام دیتا ہے جس کے بدن کے پوشیدہ حصوں پر صرف اور صرف اسی کا حق ہوتا ہے بدن کے اسی پوشیدہ حصوں پر کوئی غیر اور وہ بھی ایک دو نہیں بلکہ پانچ سے چھ درندہ صفت افراد اس کی آنکھوں کے سامنے ہی جبرأ قبضہ جمانے کی کوشش کریں اور وہ بےبس و مجبور تماشائی بنا اس کی متاع کل پر جبر ہوتا دیکھتا رہے اور کچھ بھی نہ کر پائے. یہ ظلم اور جبر ہندوستان کو کس موڑ پر لے جارہا ہے. کیا عام شاہراؤں پر اسی طرح مجبور و بے بس خواتین جنسی درندگی کا شکار ہوتی رہیں گی. ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان جنسی شیطانوں کی گرفتاری بھی عمل میں آ جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چند دنوں تک قانون کی حراست میں رہتے ہوئے قانون و عدلیہ کی مو شگافیوں کے طفیل یہ پھر سے اپنی درندگی سمیت آزاد ہو جائیں تاکہ پھر سے ایک بار کسی عام شاہراہ پر سفر میں مصروف جوڑے کا اغواء کرتے ہوئے شوہر کے سامنے ہی اس کی بیوی کی عزت کو تار تار کردیں. کہاں ہیں……کہاں ہیں جنھیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں ؟

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان