سیاست
جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 50.08 فیصد ووٹنگ
جموں و کشمیر میں پیر کو ڈسٹرکٹ ڈیولوپمنٹ کونسل انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح 50.08 فیصد درج ہوئی ہے۔ صوبہ کشمیر میں 31.95 فیصد جبکہ صوبہ جموں میں 69.31 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر کے الیکشن کمشنر کے کے شرما نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر میں پیرکو ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں مجموعی طور پر 50.08 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
انہوں نے ضلع وار تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ’صوبہ کشمیر میں ضلع پلوامہ میں 6.70 فیصد، ضلع بارہمولہ میں 47.43 فیصد، ضلع کولگام میں 8.73 فیصد، ضلع شوپیاں میں 1.96 فیصد، ضلع اننت ناگ میں 27.04 فیصد، ضلع بانڈی پورہ میں 45.22 فیصد، ضلع گاندربل میں 56.28 فیصد، ضلع کپوارہ میں 44.35 فیصد اور ضلع بڈگام میں 38.04 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
موصوف نے صوبہ جموں کی ضلع وار تفصیلات یوں بیان کیں: صوبہ جموں کے ضلع کشتواڑ میں 70.32 فیصد، ضلع اودھم پور میں 59.90 فیصد، ضلع جموں میں 71.80 فیصد، ضلع کٹھوعہ میں 61.23 فیصد، ضلع رام بن میں 67.39 فیصد، ضلع ڈوڈہ میں 75.03 فیصد، ضلع سانبہ میں 71.97 فیصدِ ضلع پونچھ میں 75.42 فیصد، ضلع راجوری میں 71.22 فیصد اور ضلع ریاسی میں 62.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر میں پیر کو ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے سلسلے میں 34 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوئی جن میں سے 17 کشمیر جبکہ 17 جموں صوبے کے ہیں۔
علاوہ ازیں پیر کے روز 50 سر پنچوں اور 216 پنچوں کی خالی نشستوں کے بھی ضمنی انتخابات ہوئے۔
جموں و کشمیر میں چوتھے مرحلے کی پولنگ کے لئے کل 1916 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے جن میں سے 1129 کشمیر میں جبکہ 787 پولنگ بوتھ صوبہ جموں میں قائم کئے گئے تھے۔
ڈی ڈی سی انتخابات کے اس چوتھے مرحلے کی پولنگ کے لئے کل 249 امیدواروں نے قمست آزمائی کی جن میں سے 138 کا تعلق کشمیر جبکہ 111 کا تعلق صوبہ جموں سے ہے۔
پیر کے روز ہونے والے ان انتخابات کے چوتھے مرحلے میں کل 364527 رائے دہندگان نے اپنی رائے کا استعمال کیا جن میں سے مرد ووٹران کی تعداد 195206 جبکہ خواتین رائے دہندگان کی تعداد 169321 تھی۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات سال گذشتہ کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے بعد جہاں یہاں یہ پہلی بڑی سیاسی سرگرمی ہے وہیں مغربی پاکستان کے مہاجروں کو بھی پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا ہے۔
ان انتخابات سے جہاں جموں و کشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم رائج ہوگا وہیں یونین ٹریٹری کے 20 اضلاع میں 280 نمائندے منتخب ہوں گے۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کو پانچ برس کی مدت کے لئے منتخب کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں گذشتہ پنچایتی انتخابات نومبر – دسمبر سال 2018 میں منعقد ہوئے تھے جن میں 3 ہزار 4 سو 59 سرپنچ جبکہ 22 ہزار 2 سو 14 پنچ منتخب ہوئے تھے۔
ہر ضلع ترقیاتی کونسل میں 14 منتخب نمائندے ہوں گے اور پانچ سٹینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو ضلع کی کلہم تعمیر ترقی پر کام کریں گی۔
جرم
پونے عصمت دری اور قتل کیس : اپوزیشن نے مہاراشٹرا کے محکمہ داخلہ پر سنگین الزامات لگائے، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ

پونے ضلع کی بھور تحصیل کے نصرا پور میں چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل نہ صرف امن و امان کا مسئلہ بن گیا ہے بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دیویندر فڑنویس پر سخت حملہ کیا ہے، جن کے پاس ہوم پورٹ فولیو ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر وجے ودیٹیوار نے پولس کے کام کاج پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم کے ماضی کے مجرمانہ ریکارڈ سے آگاہ تھی لیکن یہ معلومات عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عدالت کی سرزنش کے بعد ہی ریمانڈ کی درخواست میں ترمیم کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پولیس اتنی ہی لاپرواہ ہے تو متاثرہ کو انصاف کیسے ملے گا؟ کیا غمزدہ خاندان اور عوام پر لاٹھی چارج ان کا واحد کارنامہ ہے؟ ودیٹیوار نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس کی سربراہی ایک خاتون آئی پی ایس افسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پونے پولیس کا رویہ غیر حساس رہا ہے اور اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اسی دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فڑنویس 24/7 سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے محکمہ داخلہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ راؤت نے طنزیہ انداز میں پوچھا، “اگر ‘لڑکی بھین’ (لڑکی بہن) کو ماہانہ 1500 روپے ملتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ان کی بیٹیوں کا استحصال ہوتا ہے، تو کیا وہ خاموش رہیں؟” ممبئی کانگریس کی صدر اور ایم پی ورشا گائیکواڑ نے بھی اس واقعہ کو انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے اور پولیس کا احتساب کمزور ہو گیا ہے۔ دریں اثنا، مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنما امیت ٹھاکرے نے گہرے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی تکلیف دہ ہے کہ لڑکی صرف چھٹیاں منانے اپنی دادی کے گھر آئی تھی لیکن اس کے ساتھ ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ایک بزرگ نے اس کی عصمت دری اور پھر قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب پولیس نے مظاہرین اور متاثرہ خاندان پر لاٹھی چارج کیا، جو فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے اپوزیشن کے حکومتی بے حسی کے دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ کیس کو بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کی جائے گی، اور حکومت مجرموں کو سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔ مزید برآں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں پولیس گشت بڑھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔1
سیاست
آسام انتخابی نتائج : بی جے پی کے ہتیندر ناتھ گوسوامی نے جورہاٹ سے گورو گوگوئی کو شکست دی، چھٹی بار ایم ایل اے بنے

آسام کے گوہاٹی میں جورہاٹ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار ہتیندر ناتھ گوسوامی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار گورو گوگوئی کو 23,182 ووٹوں سے شکست دی۔ بی جے پی لیڈر ہتیندر ناتھ گوسوامی کو کل 69,439 ووٹ ملے، جب کہ گورو گوگوئی کو 46,257 ووٹ ملے۔ ہتیندر ناتھ گوسوامی چھٹی بار یہاں سے ایم ایل اے بنے ہیں۔ جورہاٹ، آسام کے سب سے اہم شہری مراکز میں سے ایک، نہ صرف اقتصادی اور ثقافتی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی اثر انداز ہے۔ اس کی انتخابی تاریخ قریبی مقابلہ جات، مینڈیٹ بدلنے اور ممتاز لیڈروں کے درمیان مقابلے کے لیے جانی جاتی ہے۔ جورہاٹ اسمبلی سیٹ ایک عام (غیر محفوظ) نشست ہے اور جورہاٹ ضلع میں آتی ہے۔ یہ جورہاٹ لوک سبھا حلقہ کے 10 اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے۔ جورہاٹ سیٹ 1951 میں بنی تھی۔ تب سے اب تک یہاں 16 اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کانگریس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے، سات جیت کے ساتھ۔ آسوم گنا پریشد (اے جی پی) نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ بی جے پی نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، اور آزاد امیدواروں نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی ایک بار جیت چکی ہے۔ جورہاٹ سیٹ کی انتخابی تاریخ دو لیڈروں، ہتیندر ناتھ گوسوامی اور رانا گوسوامی کے درمیان دشمنی کے بغیر ادھوری ہے۔ ہتیندر گوسوامی تقریباً 25 سال تک اس سیٹ پر دبنگ شخصیت تھے۔ انہوں نے اے جی پی اور بی جے پی دونوں ٹکٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ رانا گوسوامی اور ہتیندر گوسوامی نے چار بار براہ راست مقابلہ کیا، دونوں نے دو بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار ان کا مقابلہ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی سے ہوا، جس میں انہوں نے اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2006 میں، رانا گوسوامی نے کانگریس کے ٹکٹ پر 4,880 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں، انہوں نے ایک بار پھر ہتیندر گوسوامی کو 37,971 ووٹوں سے شکست دی۔ 2016 میں، مساوات بدل گئی، اور ہتیندر گوسوامی نے، بی جے پی کے امیدوار کے طور پر، رانا گوسوامی کو 13,638 ووٹوں سے شکست دی۔ دونوں کا 2021 میں دوبارہ مقابلہ ہوا، جہاں ہتیندر گوسوامی نے 6,488 ووٹوں کے فرق سے سیٹ برقرار رکھی۔ 10 فروری 2026 کو جاری حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق جورہاٹ اسمبلی حلقہ میں کل 148,280 اہل ووٹر ہیں۔ یہ 2024 میں 146,731 ووٹرز سے تھوڑا سا اضافہ ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ 2019 کے مقابلے میں کم ہوا، جب رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 175,267 تھی۔ جورہاٹ حلقے کے انتخابی نتائج میں سماجی حرکیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، درج فہرست ذات کے ووٹر 8.04 فیصد، درج فہرست قبائل کے ووٹر 1.95 فیصد، اور مسلم ووٹر 7 فیصد سے کم ہیں۔ حلقے میں شہری ووٹرز کا غلبہ ہے، 64.87 فیصد اور دیہی ووٹرز 35.13 فیصد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی، سڑکیں، تجارت، روزگار اور شہری سہولتیں بڑے انتخابی مسائل بنی ہوئی ہیں۔ جورہاٹ کو آسام کا ثقافتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر ادب، موسیقی، تھیٹر اور روایتی آسامی ثقافت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ آسام ساہتیہ سبھا کے صدر دفتر، بیہو تہوار، ستریا رقص کی روایت، اور متعدد ثقافتی اداروں نے اسے ایک الگ پہچان دی ہے۔ برطانوی دور میں یہ چائے کی صنعت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ آج بھی چائے کے باغات، زراعت، تجارت، تعلیم اور چھوٹی صنعتیں شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ہوٹل للت انٹرنیشنل میں ڈرگس پارٹی, پولیس کی تحقیقات شروع، کوئی بھی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں, تحقیقات کا حکم

ممبئی: ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن کی حدود میں ہوٹل للت انٹرنیشنل میں ڈرگس پارٹی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے اس کی انکوائری شروع کر دی ہے ابتدائی تفتیش میں تلاشی کے دوران پولیس کو کسی بھی قسم کی نشہ آور شئے یا منشیات برآمد نہیں ہوئی ہے جبکہ تین مرتبہ شکایت کنندہ نے پولیس کنٹرول روم کو کال کیا تھا تینوں مرتبہ پولیس نے کٹی سو کلب میں تلاشی لی لیکن یہاں سے کوئی بھی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں ہوئی البتہ اس معاملہ کی انکوائری جاری ہے۔
شکایت کنندہ نے کلب کے باہر اور اندر کا ایک ویڈیو وائرل کیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کلب میں نوجوانوں کو نشہ فروخت کیا جاتا ہے لیکن پولیس کی کارروائی میں کسی قسم کا کوئی منشیات نہیں ملا ہے ویڈیو میں ایک نوجوان کو تلاشی کے دوران بھاگتے ہوئے بھی بتایا گیا ہے جبکہ اس کی بھی تلاشی لی گئی تو کسی بھی قسم کی کوئی نشہ آور شئے برآمد نہیں ہوئی ہے ڈی سی پی منیش کلوانیہ نے اس متعلق انکوائری کا حکم جاری کیا ہے پولیس یہ معلوم کر رہی ہے کہ ویڈیو میں جو الزامات عائدکئے گئے ہیں وہ درست ہے یا نہیں اس کے ساتھ ہی کئی مرتبہ کلب میں شکایت کنندہ داخل بھی ہوا ہے اور یہاں اس نے جو سر گرمیاں انجام دی ہیں اس سے متعلق بھی تفتیش شروع ہے البتہ ہوٹل دی للت میں کٹی سو کلب میں منشیات کی پارٹی کے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے پولیس نے ویڈیو فوٹیج سے سمیت دیگر دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے اس معاملہ میں اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے لیکن پولیس انکوائری کر رہی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
