Connect with us
Wednesday,26-August-2026

مہاراشٹر

سانگلی، مہاراشٹر میں ہجوم نے 4 سادھوؤں کو چائلڈ لفٹر ہونے کے شبہ میں مارا پیٹا

Published

on

mob in Sangli

یہاں ایک ہجوم نے چار سادھوؤں کو چائلڈ لفٹر ہونے کے شبہ میں بے دردی سے پیٹا۔ یہ سادھو متھرا کے پنچنامہ جونا اکھاڑہ کے بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں چھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ پالگھر جیسے اس واقعہ سے ایک تازہ سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ واقعہ منگل کو مغربی مہاراشٹر کے ضلع جاٹ تحصیل کے لاونگا گاؤں میں پیش آیا۔ اس واقعہ نے پالگھر ضلع میں تین سادھوؤں کے قتل کی یادیں تازہ کر دیں۔

تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں ہوئی ہے۔ اس واقعہ نے چیف منسٹر ایکناتھ شندے-ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس کی حکومت اور اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان ایک تازہ سیاسی تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اتر پردیش کے متھرا سے تعلق رکھنے والے چار سادھو کرناٹک کے بیجاپور سے ایک کار میں مہاراشٹر میں داخل ہوئے تھے، اور پنڈھر پور کی درگاہ کی طرف جا رہے تھے۔ منگل کے روز، وہ مبینہ طور پر ایک لڑکے سے اس کا راستہ پوچھ رہے تھے جب کچھ مقامی لوگوں نے مداخلت کی اور بچہ چور ہونے کے شبہ میں اس پر حملہ کر دیا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہوئی ہے، جس میں کچھ لوگ سادھوؤں پر لاٹھیوں اور بیلٹوں سے حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاست کے گلیاروں میں اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا دور شروع ہو گیا ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے شندے-فڑنویس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کی گندی سیاست کا حصہ ہے کہ ہندو سادھوؤں کو اس طرح مارا پیٹا جا رہا ہے۔ پٹولے نے کہا، “بی جے پی ریاست میں عملی طور پر حکومت کر رہی ہے، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ (فڑنویس) بی جے پی سے ہیں، اب ان کے پاس دکھانے کے لیے کون سا چہرہ بچا ہے؟”

کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن ساونت نے کہا کہ اپریل 2020 میں پالگھر میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں بی جے پی کے کئی مقامی عہدیدار بھی شامل تھے۔ ساونت نے مطالبہ کیا، “بی جے پی نے ایم وی اے حکومت کو ‘ہندو مخالف’ ثابت کرنے کے لیے اس واقعے کا استعمال کیا. اب سانگلی میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اب یہ کس کی حکومت ہے؟ کیا وہ سی بی آئی کو تحقیقات سونپیں گے؟”

حکمراں بی جے پی کے ترجمان رام کدم نے اس واقعہ کو ’’ہولناک اور وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی مکمل جانچ کا یقین دلایا اور کہا کہ اسے ریاست میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سانگلی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈکشٹ گیڈم نے میڈیا والوں کو بتایا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کم از کم چھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی افواہوں کا شکار نہ ہوں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرجا فاؤنڈیشن کی رپورٹ : 15ویں اسمبلی میں ممبئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں 72 فیصد کمی

Published

on

ممبئی، 25 اگست 2026 : پرجا فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ‘ممبئی ایم ایل اے رپورٹ کارڈ 2026’ کے مطابق، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں ممبئی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی تعداد میں 12ویں اسمبلی کے مقابلے میں 72 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ونٹر سیشن 2024 سے مونسون سیشن 2025 کے دوران ممبئی کے 33 اراکین اسمبلی کی کارکردگی، ایوان میں حاضری، پوچھے گئے سوالات کے معیار اور آئینی ذمہ داریوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 33 اراکین میں سے صرف تین نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے، اور ان تینوں سرفہرست مقامات پر انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندے براجمان ہیں۔

بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اراکین اسمبلی :
پہلا مقام : امین پٹیل (کانگریس) — اسکور : 82.89

دوسرا مقام : اسلم شیخ (کانگریس) — اسکور : 80.58

تیسرا مقام : جیوتی گائیکواڑ (کانگریس) — اسکور : 80.30

رپورٹ کے اہم نکات :
سوالات میں بھاری کمی : 15ویں اسمبلی (ونٹر 2024 تا مونسون 2025) کے دوران اراکین اسمبلی نے صرف 2,213 سوالات پوچھے، جبکہ 12ویں اسمبلی (2009-2010) میں 7,955 سوالات پوچھے گئے تھے۔

سوالات کے معیار میں گراوٹ : پوچھے گئے سوالات کے معیار کا اوسط اسکور 12ویں اسمبلی کے 50 فیصد سے گھٹ کر 15ویں اسمبلی میں 33 فیصد رہ گیا ہے۔

کام کے دنوں میں کمی : 15ویں اسمبلی کے پہلے سال میں ایوان کا اجلاس صرف 40 کاری دنوں (working days) کے لیے ہوا، جبکہ 12ویں اور 13ویں اسمبلی میں بالترتیب 47 اور 50 دن اجلاس ہوا تھا۔

مجموعی اوسط اسکور : اراکین اسمبلی کا مجموعی اوسط کارکردگی اسکور 12ویں اسمبلی میں 61 تھا، جو 14ویں اسمبلی میں گھٹ کر 54 ہو گیا اور 15ویں اسمبلی میں معمولی بہتری کے ساتھ 55 درج ہوا۔

اراکین کی اوسط عمر : ممبئی کے اراکین اسمبلی کی اوسط عمر وقت کے ساتھ بڑھی ہے : 12ویں اسمبلی میں 52 سال، 13ویں میں 51 سال، 14ویں میں 53 سال اور 15ویں اسمبلی میں یہ بڑھ کر 57 سال ہو گئی ہے۔

جمہوری جوابدہی پر تشویش :
پرجا فاؤنڈیشن کے سی ای او ملند مہاسکے نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے شہریوں کے مسائل کو ایوان تک پہنچانے میں کتنے موثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اراکین کی مجموعی کارکردگی کے اوسط اسکور میں کوئی مثبت رجحان نہیں دیکھا گیا ہے۔ پرجا فاؤنڈیشن کے مینیجر آصف خان نے خبردار کیا کہ اگر ایوان کی نشستیں کم ہوں گی، سوالات کم پوچھے جائیں گے اور ان کا معیار ناقص ہوگا، تو بالآخر شہری حکومت سے حساب مانگنے کا ایک اہم ذریعہ کھو دیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مجگاؤں گنپتی جلوس پر انڈا پھینکنے والا جنونی نوجوان گرفتار

Published

on

ممبئی : مجگاؤں میں گنپتی جلوس کے دوران انڈے پھینکنے والے ایک جنونی نوجوان کو پولس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ممبئی میں ۲۳ اگست کی شب کو مجگاؤں کے راجہ کا جلوس نکالا گیا تھا, اسی دوران نوجوان جو اسی عمارت میں انڈا ڈیلیوری کے لئے جارہا تھا اسی جلوس کے دوران پٹاخہ کے گرد و غبار سے پریشانی ہوئی اور اس نے غصہ میں آکر گنپتی مورتی پر انڈا پھینکا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے, لیکن پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کی شناخت کر لی اور اسے آج گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کی شناخت دانش شیر خان ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولس نے ۳۶ گھنٹے کے اندر ملزم کا سراغ لگایا, اب حالات کشیدہ ضرور ہے لیکن امن قائم ہے۔ عید میلادالنبی سے قبل ہی پولس نے سماج دشمن دانش کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں پولس کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے غصہ میں آکر اس عمل کا ارتکاب کیا تھا۔ ملزم آن لائن آرڈر لے کر جارہا تھا اسی دوران اس کے ساتھ جلوس میں بھیڑ بھاڑ کے سبب آنکھ پٹاخہ کے دھواں اور گردو غبار سے تکلیف پہنچی تھی۔ جس کے سبب اس نے طیش میں آکر جو انڈا ڈیلیوری کیلئے لایا تھا اسی کو گنپتی جلوس پر پھینک دیا, جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے اور پولس نے اس معاملہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی جینت مینا نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کے ڈِنگاڈ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم، غیر سبزی خور کھانا کھانے کے معاملے پر تنازع، 6 افراد زخمی

Published

on

Mumbai Police.2

بھیونڈی : بھیونڈی کے ڈِنگاڈ علاقے میں نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان مبینہ طور پر غیر سبزی خور کھانا لانے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ ہوئی۔ واقعے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ معلومات کے مطابق ڈِنگاڈ پہاڑی کے علاقے میں کسی بات کو لے کر نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان بحث شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنازع غیر سبزی خور کھانا کھانے یا وہاں لانے پر اعتراض کے بعد بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے مارپیٹ شروع ہوگئی۔

واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کے لیے بھیونڈی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم اسپتال میں بھی دونوں گروپوں کے افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی تعیناتی کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کے اصل اسباب، ملوث افراد اور مارپیٹ کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو تشدد کی شکل دینے کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان