Connect with us
Wednesday,22-April-2026

(جنرل (عام

16 نومبر تک بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ آنے کی امید : ولی رحمانی

Published

on

Babri-Masjid-Supreme-Court

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے اس امید کااظہار کیا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آخری مرحلہ میں ہے، روزانہ سماعت ہورہی ہے اور 16 نومبر تک فیصلہ آجانے کی امید ہے۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ بلاشبہ ہندوستانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے جس کے مقدمہ کی عمر طویل ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک کا امتحان بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ بابری مسجد 1528ء سے 22 دسمبر 1949ء تک پورے طور پر مسجد رہی اوراس میں پنج وقتہ نماز پابندی سے ہوتی رہی۔
مولانا نے دعوی کیا کہ اس قضیہ کی ابتداء فرقہ پرست طاقتوں نے باقاعدہ 22 دسمبر 1949ء کی رات کے اندھیرے میں شری رام اور شری لکشمن جی کی مورتی رکھ کر کی اور پہلی مرتبہ 1949ء میں ملک کو معلوم ہوا کہ رام جی مسجد کے گنبد کے نیچے کی جگہ پر پیدا ہوئے تھے، اس کے بعد عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے لیکن افسوس کہ عدالتوں سے جمہوری تقاضوں کی تکمیل نہ ہوسکی، سنی وقف بورڈ اترپردیش نے بھی 1961ء میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہوا کچھ نہیں، جو مسلمان پنج وقتہ نماز ادا کرتا تھا اسکے داخلہ پر پابندی لگادی گئی۔
انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے متعلق جو پیروی ہورہی ہے وہ قابل اطمینان ہے اور ججوں کی طرف سے جو مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں وہ بھی مناسب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملکیت و حقیت کے مقدمات کے ساتھ لبراہن کمیشن میں بھی زوردار پیروی کی اور آج بھی حقیت کا مقدمہ جو رائے بریلی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ماہر قانون دانوں کی نگرانی میں اسکی پیروی کررہا ہے۔اس کے علاوہ بورڈ آثار قدیمہ کی طرف سے کھدائی کے دوران بھی شامل وشریک رہا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دوٹانکی مولانا شوکت علی مارگ پر فرنیچر فروشوں کے خلاف ‘ای’ وارڈ کی بے دخلی کی کارروائی

Published

on

2-Tank-Road

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ وارڈ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ‘ای’ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مولانا شوکت علی مارگ پر پرانے فرنیچر فروشوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنرآنند کنکل کی قیادت میں کی گئی۔ ای ڈپارٹمنٹ میں مولانا شوکت علی مارگ پر تجاوزات بالخصوص مرلی دیورا آئی اسپتال سے جے جے اسپتال سگنل تک کے علاقے میں راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ راہگیروں کو فٹ پاتھ کے بجائے سڑک پر گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا جس کی وجہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ ڈویژن کی کنزرویشن اینڈ انکروچمنٹ ایلیمینیشن ٹیموں نے ممبئی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک مہم شروع کی۔ اس بے دخلی کی کارروائی کے دوران فرنیچر فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت کارروائی کی گئی۔ فٹ پاتھوں پر پڑے پرانے فرنیچر کو جے سی بی کی مدد سے موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ٹوٹے ہوئے فرنیچر کے فضلے کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ فٹ پاتھ پر تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جس کے باعث سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس مہم میں 1 جے سی بی، 4 مزدور، 3 افسران اور 2 انجینئروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ناگ پاڑہ پولیس اسٹیشن کے 9 اہلکاروں کو سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ‘ای’ ڈویژن اس موقع پر ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محافظ کو نشانہ نہ بنائیں… سمیر وانکھیڈے کے کیس میں بامبے ہائیکورٹ کا اہم تبصرہ

Published

on

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈایکٹرسمیر وانکھیڈے رشوت ستانی کیس میں بامبے ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے ہیں اور ایجنسی سے سوال کئے ہیں جس میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ ملزم کے بیان پر انکوائری کرسکتے ہیں ؟ این سی بی نے اس سے قبل سمیر وانکھیڈے کی انکوائری سے متعلق بند لفالفے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وانکھیڈے پر انکوائری نواب ملک یا کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ انکوائری نامعلوم شکایت اور خط پر کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی شکایت کنندہ کرن سجنانی بھی سمیر وانکھیڈے کے طریقہ کار پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سمیر وانکھیڈے نے ہی کرن سجنانی کو ڈرگس کیس گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے شریک کار سمیر خان کو بھی گرفتار کیا تھا سمیر خان نواب ملک کا داماد ہے سمیر خان کاایک کار حادثہ میں انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت سمیر وانکھیڈے سے متعلق تبصرہ کیا گیا ہے کہ سماج میں بہتر کام کرنے والے افسر و محافظ کو نشانہ بنایا جائے یہ تبصرہ عدالت نے سمیر وانکھیڈے پر ملزم کی جانب سے شکایت پر انکوائری پر کیا ہے اس کے ساتھ ہی جس ملزم کی شکایت پر انکوائری کی جارہی ہے اس پر ڈرگس فروشی کا الزام ہے اس کےخلاف الزام ہے کہ وہ اور اس کا پارٹنر ممبئی میں واڈہ پاؤ کی طرح ڈرگس منشیات فروشی کا منصوبہ تیار کر چکے تھے سمیر وانکھیڈے نے ڈرگس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کورڈیلیا کروز کیس میں آرین خان کو گرفتار کیا تھا اس سے ۲۵ کروڑ روپے رشوت طلبی کا بھی ان پر الزام ہے اس میں سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے اسی معاملے میں ایک پرائیوٹ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر وانکھیڈے نے رشوت وصول کی ہے تو پھر شاہ رخ خان کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا جائے کیونکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے وانکھیڈے کو راحت پہنچائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان