Connect with us
Monday,20-April-2026

(جنرل (عام

ملک میں ہر گھنٹے کینسر سے 159 اموات، ہندوستان میں 20 فیصدی ہے کینسرکے مریض

Published

on

ہندوستان میں کینسر بہت تیزی سےاپنے پاوں پھیلارہا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے ملک میں ہر گھنٹے میں 159 لوگوں کی موت ہورہی ہے۔ حالات کتنے خراب ہیں، اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کینسر جانچ مراکز کے ذریعے گزشتہ آٹھ سال میں اس بیماری سے جڑے تقریباً 30 کروڑ تشویشناک معاملے سامنے آئے ہیں۔

مملکتی وزیر صحت ڈاکٹر بھاری پوار نے لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران بتایا کہ قومی کینسر رجسٹری پروگرام کے مطابق سال 2020 میں قریب 14 لاکھ لوگوں کی اس بیماری سے موت ہوئی ہے۔ اس کے مریضوں کی تعداد میں ہر سال 12.8 فیصدی کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2025 میں یہ بیماری 15,69,793 کی زندگی لے لے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کینسر جانچ مراکز کے ذریعے اورل کینسر کے 16 کروڑ، بریسٹ کینسر کے 8 کروڑ اور سروائیکل کینسر کے 5.53 کروڑ معاملے سامنے آئے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت دنیا میں کینسر کے 20 فیصد مریضوں کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ ہر سال 75000 لوگ اس بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں، مریض علاج تک نہیں کر پاتے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد بیماری کو اس کے ابتدائی مراحل میں پہچان نہیں پاتی ہے۔ کیڑے مار ادویات کے وسیع استعمال، روزمرہ کے بے قاعدہ معمولات، تمباکو نوشی اور گٹکا تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اس بیماری کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر پوار نے کہا کہ اس بیماری کی بڑھتی تعداد سے حکومت تشویش میں ہے۔ ابتدائی طور پر اس بیماری کی پہچان کے لیے کئی سطح پر کوششیں ہورہی ہیں۔ کینسر جانچ مراکز کے علاوہ ہیلتھ کیئر سینٹرس کی تعداد میں لگاتار اضافہ کیا جارہا ہے۔ حکومت کا ہدف اگلے تین سالوں میں 15 لاکھ ہیلتھ سینٹر قائم کرنے کا ہے۔ شعور بیداری کے ذریعے سے اس بیماری سے بچنے کے اقدامات بتائے جارہے ہیں۔ حکومت کے ذرائع سے مریضوں کو مالی مدد مہیا کراتی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈونگری 9 غیر مجاز دکانوں پر محکمہ بی کی انہدامی کارروائی

Published

on

Dongri

ممبئی بی’ ڈپارٹمنٹ کے تحت، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری علاقے میں 9 غیر مجاز دکانوں، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر لگائے گئے لوہے کے ستون، دکانوں کی غیر مجاز نام کی تختیوں اور دیگر تجاوزات پر بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی میں اسسٹنٹ کمشنر یوگیش دیسائی کی قیادت میں کی گئی۔یہ پایا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری کے علاقے میں ‘بی’ ڈپارٹمنٹ میں فٹ پاتھ پر غیر مجاز دکانیں اور تجاوزات پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ انتظامی ڈویژن (وارڈ) کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول اور لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹس نے مشترکہ طور پر ایک مہم چلائی۔ اس آپریشن کے دوران 9 غیر مجاز دکانیں، فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات، دکانوں کی غیر مجاز اضافی تعمیرات، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر نصب لوہے کے ستون اور دکانوں کی غیر مجاز نام تختیاں ہٹا دی گئیں۔ اس دوران علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔

اس آپریشن میں ’بی‘ ایڈمنسٹریٹو ڈویژن کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول، لائسنسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ اس وقت ڈونگری پولس اسٹیشن کی طرف سے مناسب سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر انتظامیہ واضح کر رہی ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان